وزیر اعلیٰ بزدار کیا کریں؟

وزیر اعلیٰ بزدار کیا کریں؟
وزیر اعلیٰ بزدار کیا کریں؟

  

وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار ایک وضع دار اور شریف النفس انسان ہیں، ان کی پرابلم یہ ہے کہ وہ ابھی تک مطلوبہ تجربہ حاصل کر سکے نہ ارکان اسمبلی اور بیوروکریسی کے مزاج کو سمجھ سکے مگر وزارت اعلیٰ کے لوازمات سارے چاہتے ہیں۔وزیر اعظم عمران خان نے تو انہیں ایک اور چانس دے دیا ہے اور شائد پھر بھی دے دیں کیونکہ انہیں یہ باور کرا دیا گیا ہے کہ آپ کا اقتدار،عثمان بزدار کی وزارت اعلیٰ سے نتھی ہے،مگر انکی اپنی جماعت کے اکثر لوگوں کو بھی اس سے اتفاق نہیں عام لوگوں کو کیا ہوگا۔انکے بقول معاملہ اس کے الٹ ہے یعنی ہم تو ڈوبے ہیں صنم،تم کو بھی کے ڈوبیں گے ۔

سولہ ماہ کی وزارت اعلٰی میں عثمان بزدار کی کارکردگی نہ ہونے کے برابر ہے،اگر چہ انہوں نے حکومتی اخراجات،اپنے ذاتی بجٹ،دیگر فالتو اور بے مقصد فنڈز کو ختم کر کے کروڑوں کی بچت کی۔ صوابدیدی بجٹ بھی بہت کم کر دیا مگر اس کے صوبے کی ترقی خوشحالی پر کوئی خاص اثرات نمودار نہ ہو سکے،کسی سیاسی بحران میں بھی عثمان بزدار کوئی نمایاں کردار ادا نہ کر سکے تو سوال یہ ہے کہ تبادلوں کی تازہ مشق سے انکی کارکردگی بہتر ہو جائے گی؟ اس کے ذریعے عوام کے مسائل حل کرنے اور عرصہ سے رکے ہوئے ترقیاتی منصوبوں کو بر وقت مکمل کرنے میں مدد مل سکے گی، وزیر اعلٰی عثمان بزدار بیورو کریسی کی نئی ٹیم کے ساتھ مل کر کچھ نیا کر سکیں گے یا بیوروکریسی کی نئی ٹیم کو ہی سب کچھ کرنا پڑے گا۔

وزیر اعظم عمران خان نے جب تجربہ کار،مقبول و معروف سیاسی خانوادوں کو چھوڑ کر ایک نو وارد کو وزیراعلٰی نامزد کیا تو راقم سمیت تمام کالم نگار تجزیہ کار،مبصرین حیران رہ گئے، مگر امید یہ تھی کہ پنجاب میں ایک عام آدمی کو وزیر اعلیٰ بنایا گیا ہے اس لئے عام آدمی کے مسائل حل ہوں گے،جو نہ ہوئے۔

متعدد بار دیرینہ سیاستدانوں نے عثمان بزدار کیخلاف شکایات کیں مگر عمران خان نے اپنے فیصلہ پر نظرثانی کی نہ اسے بدلنے کا عندیہ دیا،وزیر اعظم کے حالیہ دورہ لاہور کے دوران گمان کیا جا رہا تھا کہ پنجاب میں کوئی نہ کوئی سیاسی تبدیلی آئے گی مگر عثمان بزدار کو تبدیل کرنے کی بجائے انہیں مزید وقت دے دیا گیا۔ دوسری طرف چیف سیکرٹری،انسپکٹر جنرل پولیس سمیت بیوروکریسی اور پولیس میں اعلٰی سطح پر تبادلے کر دئے گئے ،اب دیکھیں اس نئی ٹیم کے ساتھ عثمان بزدار کچھ کر سکتے ہیں یا اب بھی ڈنگ ٹپاؤ کی بنیاد پر کام ہو گا،اگر چہ اب جو ٹیم سلیکٹ کی گئی ہے وہ انتہائی تجربہ کار اور آزمودہ کار ہے مگر سوال یہ ہے کہ جن افسروں کو فارغ کیا گیا ان کو کس کی سرپرستی حاصل تھی؟وہ کن کے اشاروں پر عثمان بزدار حکومت کو ناکام بنانے پر تلے رہے،ان میں سے کچھ پر کرپشن کا بھی الزام ہے اگر واقعی یہ الزام درست ہے تو ان کے خلاف کیا کارروائی کی گئی یا کی جا رہی ہے۔

وزیر اعلیٰ کی طرف سے بعض ایسے افسروں کو تعینات کر دیا گیا جنہوں نے انہی مچا رکھی تھی اور وہ وزیر اعلیٰ کے انتہائی قریبی سمجھے جاتے تھے۔وزیر اعلیٰ کے سابق پرنسپل سیکرٹری ڈاکٹر شعیب اکبر چھٹی پر گئے تو وزیر اعلیٰ سیکریٹئریٹ کے کسی افسر کو چارج دینے کی بجائے جس افسر کو چارج دیا گیا وہ وزیر اعلیٰ بزدار کا ذاتی فیصلہ تھا ، اور اس پر سخت تنقید ہوئی جس کا وزیر اعظم تک نے نوٹس لیا۔یہ بھی مشہور تھا کہ وزیر اعلیٰ کے آفس میں صرف ٹرائیکا تمام فیصلے کرتی تھی جن میں وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری کے علاوہ جونیئر رینک کے ایک سٹاف افسر شامل تھے۔وزیر اعلیٰ بزدار اتنے مصروف ہو گئے تھے کہ ارکان اسمبلی کو ان سے شکایات شروع ہو گئی تھیں۔ ایک نہیں وزرا کے کئی گروپوں کو بھی ان سے ملنا مشکل ہو تا تھا۔اب انکی کیا مصروفیات تھیں یہ کوئی نہیں جانتا۔

چیف سیکرٹری میجر (ر) اعظم سلیمان خان ایک آزمودہ کامیاب ترین افسر ہیں ماضی قریب میں ان کو جو ذمہ داری سونپی گئی وہ اس پر پورا اترے، انہوں نے وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ بہت اچھا کام کیا جس کی وجہ سے انہیں پنجاب بیوروکریسی کا کپتان بنایا گیا۔ آئی جی شعیب دستگیر، سینئر ممبر بورڈ آف ریوینیو بابر حیات تارڑ،ایڈیشنل چیف سیکرٹری شوکت علی، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ مومن آغا،کمشنر لاہور سیف انجم، چیئرمین پی اینڈ ڈی حامد یعقوب،سیکرٹری سکول ایجوکیشن شہر یار سلطان،سیکرٹری اوقاف گلزار حسین شاہ، سیکرٹری برائے وزیراعلیٰ افتخار علی سہو،سیکرٹری ہاؤسنگ ندیم محبوب،سیکرٹری کو آپریٹو احمد رضا سرور، سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو کیپٹن اسداللہ خان، سیکرٹری انرجی ثاقب ظفر،سیکرٹری ماحولیات صائمہ سعید،سیکرٹری فوڈ وقاص علی محمود،سیکرٹری جنگلات محمد آصف،سیکرٹری ہیلتھ نبیل احمد اعوان،سیکرٹری سپورٹس احسان بھٹہ، سیکرٹری پاپولیشن عامر جان اور دوسروں کا انتخاب بہت اچھا ہے، اگر سابق دور میں بھی یہ افسر پسندیدہ تھے تو اس کی کوئی نہ کوئی وجہ تو ہو گی اور وہ وجہ سیاسی نہیں قابلیت،مہارت،تجربہ،محنت،صلاحیت ہی ہو سکتی ہے۔

اگر چہ چیف سیکرٹری میجر(ر) اعظم سلیمان ایک دبنگ افسر ہیں،اور اپنے ماتحتوں کو تحفظ دینا بھی جانتے ہیں مگر سیاسی حکومت کی سرپرستی بھی ضروری ہے،ماضی کے اوراق پلٹیں تو معلوم ہوتا ہے اس حوالے سے عثمان بزدار کی کارکردگی قابل تعریف نہیں،آج تک کسی سیاسی بحران میں بھی وہ کوئی فعال اور نتیجہ خیز اقدام نہ کر سکے،گاہے بگاہے چودھری پرویز الٰہی مداخلت کر کے اقدام نہ کرتے ملاقاتیں نہ کرتے اور مشورہ نہ دیتے تو متعدد معاملات عثمان بزدار کے ہاتھ سے نکلے جا رہے تھے۔

کہتے ہیں عثمان بزدار نے لا تعداد کام ایسے کئے جو عوام اور ملک کیلئے سود مند تھے مگر ان کی تشہیر نہ ہو سکی جب کوئی کام اچھا ہو رہا ہو، اس کے ثمرات سے عوام الناس مستفید ہو رہے ہوں تو کسی تشہیر کی ضرورت بھی نہیں ہوتی اور جب عام شہری سستے پھل خرید سکیں نہ روز مرہ کے استعمال کی سبزی تو عام شہری کیسے تسلیم کر لیں کہ صوبائی حکومت کچھ کر رہی ہے،پنجاب حکومت نے

یہ ضرور اچھا کیا کہ فیاض الحسن چوہان کو ایک بار پھر وزیر اطلاعات بنا دیا انہیں اپنی جماعت اور حکومت کو ڈیفینڈ کرنے کا ہنر آتا ہے۔انہوں نے اپنی پہلی پریس کانفرنس میں وزیر اعلٰی عثمان بزدار کے مختصر دور حکومت کے کارنامے بڑی کامیابی سے اجاگر کرنے کی کوشش کی،انہوں نے جو کچھ کہا اگر چہ وہ ایک حقیقت ہے مگر عوام کا مسئلہ مہنگا ئی ،بیروزگاری،امن و امان ہے،جب عام شہری سبزی جیسی عام اور روزانہ ضرورت کی چیز نہ خرید سکیں تو حکومت کوئی بڑے سے بڑا کارنامہ بھی انجام دے تو عام شہری کو اس سے کوئی دلچسپی نہیں۔وزیر اعلیٰ بزدار کو چاہئے کہ وہ عوامی مسائل پر توجہ دیں،ارکان اسمبلی اور اپنی کابینہ پر اعتماد کریں۔اسی طرح پریس سے رابطہ رکھیں ان کے پاس راجہ جہانگیر جیسا بہترین سیکرٹری اطلاعات ہے جن کے ہاتھ میں اشتہاروں کی بہت بڑی تعداد تو نہیں مگر میڈیا مالکان اور ورکنگ جرنلسٹس سے پیار محبت اور رابطوں کا ہتھیار ہے۔بقول وزیر اعظم عمران خان،عثمان بزدار نے بہت کام کئے ہیں۔اگر ایسا ہے تو انہیں سامنے لایا جائے۔

مزید :

رائے -کالم -