6ماہ سے اغوا لڑکی کی عدم بازیابی پر ہائیکورٹ بر ہم، پولیس عوام کے ٹیکس سے تنخواہ لیتی، تحفظ فراہم نہیں کرتی: جسٹس ملک شہزاد

6ماہ سے اغوا لڑکی کی عدم بازیابی پر ہائیکورٹ بر ہم، پولیس عوام کے ٹیکس سے ...

  

لاہور(نامہ نگار) لاہور ہائیکورٹ کے مسٹرجسٹس ملک شہزاد احمد خان اغوا ہونے والی لڑکی کو بازیاب نہ کرانے پر سی سی پی او لاہور پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ پولیس کو عوام کے ٹیکسوں سے تنخواہ مل رہی ہے اور عوام کو ہی تحفظ فراہم نہیں کیا جارہا۔ پولیس کچھ نہیں کررہی،پولیس افسروں نے عدالتی احکامات کو مذاق بنا رکھا ہے،فاضل جج نے سی سی پی او لاہور کو حکم دیاہے کہ18دسمبر تک ہر صورت مغوی لڑکی کو بازیاب کرواکے عدالت میں پیش کیاجائے۔عدالت عالیہ میں کاہنہ سے اغواء ہونے والی لڑکی فوزیہ بی بی کی بازیابی کے لئے دائردرخواست پر سماعت شروع ہوئی توعدالتی حکم پرسی سی پی او لاہور ذوالفقار حمید نے عدالت میں پیش ہوکر بتایا کہ لڑکی کی بازیابی کے لئے کوششیں جاری ہیں،جس پر فاضل جج نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ 6 ماہ ہو گئے، مغوی بازیاب نہیں ہو سکی،کیوں نہ آئی جی پنجاب کو طلب کرکے تمام افسروں کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کیاجائے،فاضل جج نے سی سی پی کو باور کرایا کہ ہر بار عدالت سے وقت مانگا جاتا ہے،جس پر سی سی پی او لاہورنے بتایاکہ انہیں چارج سنبھالے چند روز ہوئے ہیں،عدالت سے استدعاہے کہ اب نئی ٹیم کوایک ماہ کی مہلت دی جائے جس پرفاضل جج نے کہا کہ آپ ایک ہی بار دو سال کی مہلت لے لیں،صرف آپ کی کوشش کرنے سے کچھ نہیں ہوگا،لڑکی کو بازیاب کروانا ہوگا،عدالت نے سی سی پی او لاہورکی جانب سے ایک ماہ کی مہلت دینے کی استدعا مسترد کر تے ہوئے مغوی لڑکی کو 18دسمبر تک بازیاب کرواکے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

اغوا لڑکی کیس

مزید :

صفحہ آخر -