نقیب اللہ کا والد ویل چیئر پر بیٹھ کر انصاف کے دروازے کھٹکھٹاتا رہا

   نقیب اللہ کا والد ویل چیئر پر بیٹھ کر انصاف کے دروازے کھٹکھٹاتا رہا

  

لا ہور (یونس باٹھ) جعلی پولیس مقابلے میں مارے جانے والے نوجوان نقیب اللہ محسود کا والد محمد خان پاکستان کی عدلیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے انصاف کی امید اور آس لئے اس دنیا سے رخصت ہوگیا اور اب ایسی عدالت میں ہے جہاں مقتول بیٹے اور اس کے باپ کے ساتھ پورا پورا انصاف ہوگا۔ کینسر میں مبتلا محمد خان ویل چیئر پر بیٹھ کر انصاف کے دروازے کھٹکھٹاتا رہا اور ہر جگہ سے صرف وعدے لے کر لوٹا۔ متعدد افراد کے قتل کا ملزم راؤ انوار آزاد ہے جس سے ظاہر ہے کہ اس کی پشت پناہی کرنے والے عدل و انصاف کے منصب پر فائز افراد سے کہیں زیادہ طاقتور ہیں۔ عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے دو دن پہلے ہی تو کہا ہے کہ ججوں کو مقدمات کی سماعت کرتے ہوئے پہلے 5 منٹ میں پتا چل جاتا ہے کہ کیا درست ہے اور کیا غلط۔ پاک فوج کے سربراہ جنرل باجوہ نے مقتول کے باپ محمد خان کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر وعدہ کیا تھا کہ وہ ضرور انصاف دلائیں گے۔ وہ خود چل کر محمد خان کے گھر گئے تھے۔ اس ضمن میں انہوں نے تعزیتی پیغام تو جاری کردیا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے اپنے متنازع خطاب میں عدلیہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ طاقت ور لوگوں کے لیے ایک قانون ہے اور کمزور لوگوں کے لیے دوسرا قانون۔ عمران خان کی بات غلط نہیں لیکن ان کا اشارہ اپنے حریف نواز شریف کی طرف تھا، حزب اختلاف سے محاذ آرائی میں انہیں ایک کمزور شخص یاد نہیں رہا ورنہ اس عرصے میں انہوں نے کمزور کو انصاف دلانے کے لیے کیا کیا؟ راؤ انوار کے پیچھے کون ہے، اس کے بارے میں بہت سی باتیں ہیں جو بغیر ثبوت کے تحریر نہیں کی جاسکتیں۔ ایک صرف آصف علی زرداری ہیں جنہوں نے جی داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”راؤ انوار ان کا بہادر بچہ ہے“۔ محمد خان کا انتظار تو ختم ہوا۔ 

نقیب اللہ محسود

مزید :

صفحہ آخر -