درخواستگزار عبد لوحید ڈوگر پر اکسی: منیر اے ملک، ریفرنس کا لعد م ہوچا چاہئے: رضا ربانی

درخواستگزار عبد لوحید ڈوگر پر اکسی: منیر اے ملک، ریفرنس کا لعد م ہوچا چاہئے: ...

  

 اسلام آباد(آن لائن) جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف ریفرنس کے معاملہ میں سپریم کورٹ کو جسٹس قاضی فائز عیسی کے وکیل کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ درخواست گزار عبدلوحید ڈ وگر پراکسی ہے اسے کاغذی کاروائی کیلئے سامنے لایا۔معاملہ کی سماعت جسٹس عمر عطا بندیال کی سر بر ا ہی میں دس رکنی لارجر بنچ نے کی۔دوران سماعت دلائل دیتے ہوئے قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیراے ملک نے کہا وزیراعظم کی ایڈوائس ملنے پر ہی صدر کو علم ہوا،وحید ڈوگر کو فریق بنایا تھا لیکن اس نے جواب جمع نہیں کرایا، شکایت کیساتھ مواد فراہم کرنا متعلقہ شخص کی ذمہ داری ہو تی ہے، کوشش کرونگا دو سے تین دن میں دلائل مکمل کر لوں،وحید ڈوگر نے تین ججز کی بیرون ملک جائیدادوں کی شکایت کی، ڈوگر نے جا ئیدادوں کی نشاندہی کی لیکن کوئی دستاویزات نہیں دیں،ایسی شکایت صدر یا جوڈیشل کونسل کو ملتی تو باہر پھینک دی جاتی،وحید ڈوگر نے شکا یت صدر کے بجائے اثاثہ جات ریکوری یونٹ کو دی،شکایت کو سنجیدہ لیکر کاغذ پورے کرنے کی کوشش کی گئی،میری نظر میں وحید ڈوگر پراکسی ہے،جسٹس عمر عطا بندیال نے اس موقع پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا اس کیس کی وجہ سے عدالتی کام بہت متاثر ہو رہا ہے،عدلیہ کی آزادی کا معاملہ ہے اسلئے فل کورٹ بیٹھی ہے، ججز کی نگرانی، جاسوسی، کردار کشی پر دلائل سنیں گے، کے کے آغا نے درخواست دائر نہیں کی،تعین کرینگے ریفرنس آگے چلنا ہے یا یہاں ختم ہونا ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے ایک موقع پر ریمارکس دیئے کہ دستاویزات موجود ہوتی تو وزارت قانون خود شکایت بھجوا دیتی۔ سندھ بار کونسل کے وکیل میاں رضا ربانی نے دوران سماعت موقف اپنایا کہ ریفرنس کالعدم ہونا چاہیے۔ معاملے کی سماعت 16 دسمبر تک کیلئے ملتوی کر دی گئی ہے۔

قاضی فائز معاملہ

مزید :

صفحہ آخر -