فنکار برادری آسٹریلیا میں پاکستانی ٹیم کی کارکردگی سے مایوس

فنکار برادری آسٹریلیا میں پاکستانی ٹیم کی کارکردگی سے مایوس

  

لاہور(فلم رپورٹر)شوبز کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کو مسلسل پانچویں بارآسٹریلیا سے وائٹ واش کی ذلت اٹھانا پڑی ہے۔اس بات سے سب کھلاڑیوں کی کارکردگی کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔شوبز شخصیات کا کہنا ہے کہ جب سفارشی کھلاڑیوں کو کھلایا جائے گا تو انجام ایسا ہی ہوگا۔مصباح الحق کی ذاتی پسند نا پسند نے ٹیم کا بیڑہ غرق کردیا ہے ایسی ٹیم سے جیت کی توقع رکھنا دیوانے کے خواب کے سوا کچھ نہیں ہے۔اگر ان ہی کھلاڑیوں کو سری لنکا کے خلاف بھی موقع دیا گیا تو جیتنا نا ممکن ہے۔موجودہ ٹیم کو تو گلی محلے کے بچے بھی ہرانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔اظہر علی ایک ناکام کھلاڑی ہیں ایسے کھلاڑی کو قومی ٹیم کی قیادت دینا ناقابل برداشت ہے۔شاہد حمید،معمر رانا،مسعود بٹ،حسن عسکری،شان،سید نور،میلوڈی کوئین آف ایشیاء پرائڈ آف پرفارمنس شاہدہ منی،صائمہ نور،میگھا،ماہ نور،انیس حیدر،ہانی بلوچ،یار محمد شمسی صابری،سہراب افگن،ظفر اقبال نیویارکر،عذرا آفتاب،حنا ملک،انعام خان،فانی جان،عینی طاہرہ،عائشہ جاوید،میاں راشد فرزند،سدرہ نور،نادیہ علی،شین،سائرہ نسیم،صبا ء کاظمی،،سٹار میکر جرار رضوی،آغا حیدر،دردانہ رحمان،ظفر عباس کھچی،سٹار میکر جرار رضوی،ملک طارق،مجید ارائیں،طالب حسین،قیصر ثنا ء اللہ خان،مایا سونو خان،عباس باجوہ،مختار چن،آشا چوہدری،اسد مکھڑا،وقا ص قیدو، ارشدچوہدری،چنگیز اعوان،حسن مراد،حاجی عبد الرزاق،حسن ملک،عتیق الرحمن،اشعر اصغر،آغا عباس،صائمہ نور،خرم شیراز ریاض،خالد معین بٹ،مجاہد عباس،ڈائریکٹر ڈاکٹر اجمل ملک،کوریوگرافر راجو سمراٹ،صومیہ خان،حمیرا چنا،اچھی خان،شبنم چوہدری،محمد سلیم بزمی،سفیان،انوسنٹ اشفاق،استاد رفیق حسین،فیاض علی خاں،پروڈیوسر شوکت چنگیزی،ظفر عباس کھچی،ڈی او پی راشد عباس،پرویز کلیم،نیلم منیر خان،عینی رباب،حمیرا،عروج، نجیبہ بی جی، ہمایوں سعید، ببرک شاہ،، ثنا، مدیحہ شاہ، حمیر اارشد اور شبنم مجید اور افتخار ٹھاکر سمیت دیگر اداکاروں نے اپنے بیانات میں کہا کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی میں تسلسل کا نہ ہونا لمحہ فکریہ ہے، اگر پاکستانی ٹیم ایک سیریز میں کامیاب ہوتی ہے تو اس کے بعد کئی سالوں تک فتح کے قریب بھی نہیں جاتی۔ آسٹریلیا میں پاکستانی ٹیم کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی، کھلاڑیوں کو اپنے کھیل میں نکھار لانے کے لئے صرف تربیتی کیمپ کے شیڈول کا انتظار نہیں کرنا چاہیے بلکہ انہیں انفرادی طو رپر بھی اس پر کام کرنا چاہیے۔

کھلاڑیوں کو معلوم تھا کہ ہم نے آسٹریلیا میں تیز وکٹوں پر کھیلنا ہے تو انہیں اس کی پریکٹس کرنی چاہیے تھی۔ کھلاڑیوں کو بیرون ملک سیریز کو ایک ٹو ر کے طور پر نہیں لینا چاہیے بلکہ وہاں جا کر کارکردگی بھی دکھانی چاہیے۔

مزید :

کلچر -