خلائی دشمن سے متعلق سوال پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، اٹارنی جنر ل میں تلخی 

خلائی دشمن سے متعلق سوال پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، اٹارنی جنر ل میں تلخی 

  

 اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) فاٹاپاٹاایکٹ،ایکشن ان ایڈآف سول پاور کیس میں سپریم کورٹ نے حکومت سے زیرحراست افراد کے مقدما ت پر نظرثانی سے متعلق اقد ا مات پر مبنی رپورٹ طلب کرلی جبکہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہم ہرزیرحراست شہری کیلئے فکرمند ہیں،آئندہ سماعت پر مکمل تیاری کیساتھ آئیں اور عدالت کو مطمئن کریں، جواب نہ ملنے کی صورت میں فیصلہ دیدیں گے۔ بدھ کو چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 5 رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا ہے کہ ملک میں کسی کو خلائی دشمن قرار دینے پر کس قانو ن کے تحت کارروائی ہوتی ہے۔ بدھ کو سپریم کورٹ میں فاٹا پاٹا ایکٹ اور ایکشن ان ایڈ آف سول پاور کیس کی سماعت ہوئی تو جسٹس گلزار احمد نے پوچھا ہم قانون کے آرٹیکل 10کو دیکھنا چاہیں گے، اس میں خلائی دشمن کا لفظ استعمال ہوا ہے، یہ کون لوگ ہیں۔ چیف جسٹس پا کستان آصف سعید کھوسہ نے استفسار کیا کیا یہ خلائی دشمن پاکستا ن کے شہری ہیں، کیا ان لوگوں کو حراستی مراکز میں رکھا جاتا ہے جن کی شنا خت ثابت نہ ہو۔اٹارنی جنر ل کیپٹن ریٹائرڈ انور منصور نے جواب دیا اگر وہ غیر ملکی قوتوں کیساتھ ملوث ہوگا تب کہلائے گا، وہاں بہت سے افراد کے پاس شناختی کارڈ بھی نہیں، ان میں بیشتر وہی لوگ ہیں جن کی شناخت ثابت نہیں ہوتی۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل سے کہا جس قانون کا آپ ذکر کررہے ہیں اس میں مقدمہ خصو صی عدالت کے سامنے جاتا ہے، کیا آپ نے ایسا کیا، آپ جن قوانین پر د لائل دے رہے ہیں ان سے متعلق کتابوں کا عدالتی عملے کو نہیں بتایا گیا، آپ نے قوانین کی کتابوں کے نام نہیں دیئے، مقدمہ زیر سماعت ہے آپ نے کتابوں کے نام پہلے دینے کی زحمت نہیں کی، میں سمجھنا چاہتا ہوں کسی کو خلائی دشمن کیسے قرار دیا جاتا ہے، خلائی دشمن قرار دینے کے بعد کس قانون کے تحت کارروائی ہوتی ہے۔ ا ٹارنی جنرل نے اس پر کہا مجھے لگتا ہے شاید معزز جج سمجھنا نہیں چاہتے۔ جسٹس قاضی فائز عیسی نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا سمجھنا نہیں چاہتے؟ آپ یہ الفاظ استعما ل کریں گے، میں نے سوال کیا ہے اس کا جواب دینا آپ کا فرض ہے، آپ میرے سوال کا قانون کے مطابق جواب دیں۔ اٹا رنی جنرل نے جواب دیا ملک دشمنوں سے نمٹنے کیلئے تحفظ پاکستا ن ایکٹ 2014 لایا گیا،ریاست کیخلاف ہتھیار اٹھانے والا ہر شخص ملک دشمن ہے، جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کسی کو ملک دشمن قرار دینے سے پہلے تحقیقات کرنا ہوتی ہیں اورمتعلقہ رپورٹ عدالت میں پیش کرنا ہوتی ہے۔ اٹارنی جنرل بتائیں اس ضمن میں کتنی تحقیقاتی رپورٹس عدالتوں میں جمع کرائی گئیں؟چیف جسٹس نے کہا ہم ہرز یرحراست شہری کے حوالے سے فکرمند ہیں حکومت اس مقدمے میں عدالت کو مطمئن کرے، عدالت نے زیرحراست افراد کے مقدمات پر نظرثانی رپورٹ طلب کرتے ہوئے مزید سماعت دو ہفتو ں کیلئے ملتوی کردی۔

تلخی 

مزید :

صفحہ اول -