زبانوں کی تدریس کے حوالے سے سیمینار

زبانوں کی تدریس کے حوالے سے سیمینار

  

گزشتہ دنوں قرطبہ یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان زبانوں کی تدریس کے حوالے سے ایک سیمینار منعقد ہوا۔ جس میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کے اسکالرز نے بھرپور شرکت کی۔ سیمینار کا مقصد طلبہ وطالبات اور ریسرچ اسکالرز میں زبانوں اور ان کے علوم کی اہمیت کے حوالے سے گفتگو کی گئی۔

اس سیمنار میں کلیدی گفتگو رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی فیصل آباد کیمپس سے آئے ہوئے مختلف زبانوں کی تدریس میں مہارت رکھنے والے استاد اخلاق حیدر آبادی نے کی۔

خدائے بزرگ وبرتر کی تعریف سے اس سیمنار کا آغاز کیا گیا۔ پی ایچ ڈی اسکالر شعیب صدیقی نے سرانجام دیے۔

اگر انسان اور انسانی حیات کا مطالعہ کیا جائے تو ہمیں معلوم ہوگا کہ وہ اپنے بچپن سے لے کر لڑکپن، جوانی،بڑھاپے اور اپنی عمر کے آخری لمحے تک زبان کا کسی نہ کسی صورت میں استعمال عمل میں لاتا ہے۔بچے کو جب کھانے پینے کی حاجت ہوتی ہے تو وہ بول کر اپنا مدعا اس طرح بیان نہیں کرسکتا جیسا کہ بڑے کرسکتے ہیں مگر اس کے باوجود وہ ہاتھوں،ٹانگوں اورجسم کی مختلف حرکات کے ساتھ اپنی زبان سے لایعنی الفاظ بول کر قریب بیٹھے ہوؤں کو اپنی جانب متوجہ لرلیتا ہے وہ مختلف حاجات اور ضروریات کے لیے مختلف لسانی اشاروں سے مدد لیتا ہے۔ان لسانی اشاروں کو ماں بخوبی سمجھتی ہے اور ماں کے لسانی اشارے بچہ بھی سمجھنے لگتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ روتے ہوئے بچے کو ماں لوری یا تھپکی سے کر چپ کراسکتی ہے یا اسے سلا سکتی ہے۔یہاں لوری اور تھپکی کے ذریعے زبان کا عمل اپنی تفہیم کی منازل طے کرتا ہے۔ بڑے ہونے کے ساتھ ساتھ وہ مختلف چیزوں کو خود اپنے طور پر مختلف نام دینے لگتا ہے جو بہت بعد میں ان ناموں سے تبدیل ہوتے جاتے ہیں جوکہ ہمارے معاشرے اور ہماری زبان میں رائج ہیں۔ اگر ہم غور کریں تو زبان انسان کی نشوونما اور اس کی ذہنی وفکری ارتقا اور جسمانی بالیدگی کے ساتھ ساتھ پنپتی اور ارتقائی مراحل طے کرتی ہے۔لیکن اس پر ماحول اور سماج کے اثرات بہت گہرے ہوتے ہیں بچہ وہی زبان سیکھتا ہے جو اس کے اردو گرد بولی جارہی ہوتی ہے۔

معاشرے کا ہر فرد زبان کو اپنے دائرے اور وسعتِ علمی کے مطابق استعما ل کرتا ہے اگر اس کا کام اور واسطہ عام لوگوں سے ہے تو اس کی زبان اور الفاظ بھی عام لوگوں کی زبان اور الفاظ سے مطابقت رکھتے ہوں گے اور اگر وہ کسی مخصوص ادارہ،طبقہ یا گروہ سے تعلق رکھتا ہے تو وہ اپنے شعبہ کے حوالے سے زبان اور الفاظ کااستعما ل کرے گا۔ادبیات سے تعلق رکھنے والے شخص کی سوچ،فکر اور بات چیت سائنس کے کسی شعبے سے وابستہ فرد کی زبان اور زبان کے استعمال کے طریقے سے کسی حد تک مختلف ہوگی۔

اسی طرح اگر کوئی فرد ان پڑھ ہے تو وہ زبان کو پڑھے لکھے لوگوں سے مختلف انداز میں استعمال کرے گا۔زبان ہر شخص اور ہر شعبہئ حیات اور مکتبہئ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی ذہنی مشق کے لیے اسی طرح ضروری ہے جیسا کہ پھول کو کھلنے اور پھلنے پھولنے کے لیے روشنی اور ہوا۔جس طرح پھول کی خوشبو ہوا کے دوش پراپنے وجود کا اظہار کرواتی ہے اسی طرح انسان اپنی شخصیت،ذہانت واہلیت کی ترجمانی کے لیے زبان کا وسیلہ استعمال کرتا ہے۔

زبان انسان اور حیوان میں امتیاز پیدا کرتی ہے۔انسانوں کے لیے زبان اسی طرح اہم جس طرح جسم کے لیے آکسیجن۔زبان کا بہتر استعمال انسان کی ترقی اور شعور کے مدارج کے ارتقا میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔فصیح زبان وہ ہے جو ماضی میں بڑے ادیب استعمال کرتے رہے ہیں اور زبان کے صحیح ہونے کی سند قدما سے لے جاتی ہے۔

زبان کی تاریخ تاریخ انسانی کی طرح قدیم ہے۔ زبان کا آغاز کب اور کہاں سے ہوا؟ اس بارے میں وثوق سے کچھ نہیں کہاجاسکتا۔ انسان،زندگی اور معاشرے سے زبان کا گہرا تعلق ہے۔ تمام تر سائنسی ومعاشرتی ترقی کا دارومدار زبان ہی پر ہے۔ زبان وہ ذریعہ ہے جس کی مدد سے ہم نہ صرف اپنے خیالات کا اظہار کرسکتے ہیں بلکہ اس کے ذریعے سوچتے اور غوروفکر بھی کرتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ ہم اپنی سوچ خیالات وافکار اور نظریات تحریری زبان کے ذریعے محفوظ بھی کرسکتے ہیں۔

ڈاکٹر اشرف کمال نے اپنی گفتگو میں ایم فل پی ایچ ڈی کی تحقیق کے لیے اردو کے علاوہ دیگر زبانوں کی سمجھ بوجھ اور تحصیل کو ضروری قرار دیا۔ قدیم اور مشرقی علوم کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم فارسی اور عربی زبانوں نے روشناس ہوں۔ تاریخ کے مختلف گوشوں سے پردہ اٹھانے کے لیے اور زبانوں کے ارتقا کے حوالے سے گمشدہ کڑیوں کو تلاش کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم سنسکرت زبان سے آگاہی حاصل کریں اس کے علاوہ ہمیں اپنے پڑوسی ملکوں اور قوموں کی زبانوں سے بھی آگاہی ہونی چاہئے تا کہ ہم یہ جان سکیں کہ وہ کیا لکھ رہے ہیں۔ اس حوالے سے ہندی اور ہندوستانی زبانوں سے آگاہی انتہائی ضروری ہے۔ ہمیں انگریزی زبان کو سیکھنا چاہئے کیونکہ بیسویں صدی میں جو بھی ادبی اور تنقیدی تھیوری سامنے آئے وہ انگریزی زبان ہی کے توسط سے اردو میں پہنچی۔ڈی ساسر کی جدید لسانیات ہو یا روسی ہئیت پسندی، فرانس مین سامنے آنے والی ساختیاتی یا پس ساختیاتی تھیوری ہو یا امریکہ کی نئی تنقید، نوآبادیاتی ومابعد نوآبادیاتی مباحث ہوں یا تاریخیت ونوتاریخیت، تانیثیت اور گلوبلائزیشن ہو یا جدیدیت سے لے کر مابعد جدیدیت، سب ہی ہم نے انگریزی زبان کے توسط سے حاصل کیا۔ بیسویں صدی میں سامنے آنے والے علمی نظریات کے علاوہ ہمیں مزید ترقی اور چین کے ساتھ مضبوط تجارتی روابط کے لیے چینی زبان بھی سیکھنی چاہئے۔

اگر ہندوستان میں ہم انیسویں اوربیسویں صدی کی بڑی علمی شخصیات کے بارے میں تاریخ پڑھتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ انھوں نے بچپن ہی میں اپنے گھر میں ہی عربی فارسی کی تعلیم حاصل کرلی تھی،مزید تعلیم کے لیے انھیں مختلف اداروں میں جانا پڑا۔ایک بچہ جو گھر سے مادری زبان کے علاوہ دو تین زبانیں سیکھ کر کسی درسگاہ مین مزید تعلیم کے حصول کے لیے جائے گا تو کوئی امر مانع نہین کہ وہ عالمی ادب اور تحقیق کے تقاضوں سے واقف نہ ہوسکے۔

چونکہ میرا خطاب آپ اسکالرز سے ہے لہٰذا مین آپ پہ یہ بات واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ خاص طور پر ایک ریسرچ اسکالر کے لیے انتہائی ضروری ہے کہ وہ ایک سے زائد زبانوں میں دسترس رکھتا ہو۔

اسی طرح گلوبلائزیشن نے جہاں تمام ملکوں اور قوموں کو ایک دوسرے سے نزدیک کردیا ہے وہاں ایک دوسرے کی زبان سیکھنے اور سمجھنے کے لیے بھی بے شمار مواقع میسر آگئے ہیں۔

آخر میں فیصل آباد سے آئے ہوئے مہمان جناب اخلاق حیدر آبادی کا تعارف پیش کیا کہ ان کی تخصیص مختلف زبانوں کے علوم کی تدریس ہے۔جہاں تک اخلاق حیدرآبادی کا تعلق ہے وہ زبانون کی تدریس کے حوالے سے ایک اہم نام ہے جو کہ مختلف اداروں میں زبان ولسانیات کی تدریس میں گزشتہ ایک مدت سے خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ انھوں نے جی سی یونیورسٹی فیصل آباد میں بھی ایم اے اردو اور ایم فل اردو کو مختلف زبانوں کا علم دیا۔ اب کوئی آٹھ سال سے رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی کے شعبہ اردو سے منسلک ہوکر زبانوں کی تعلیم و تدریس کا کام کر رہے ہیں۔

انھوں نے بطور خاص اردو ہندی کی تدریس اور اردو ہندی تنازع کے حوالے سے زیادہ کام کیا ہے۔ ان کی کتابوں میں

اکھشر اکھشرموتی

اکھشر اکھشر موتی (۲)

ہندی زبان رسم الخط اور بنیادی معلومات:

پنجابی زبان گورمکھی رسم الخط اور بنیادی معلومات

جیسی کتابیں براہ راست زبانوں کی تدریس سے تعلق رکھتی ہیں۔

وہ ایک نفیس انسان ہیں اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ وہ زبانوں سے محبت کرنے والے انسان ہیں نہ صرف زبانوں سے بلکہ انسانوں سے بھی انھیں محبت ہے۔ وہ زبان کی بنیاد پر لوگوں اور ملکوں کی تقسیم کے خلاف ہیں۔

اسی یونیورسٹی سے جناب اخلاق حیدرآبادی کی خدمات پر ایم فل کا تحقیقی مقالہ لکھا جاچکا ہے۔

اس کے بعد جناب ڈاکتر امیر ملک نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ زبان ایک اہم میڈیا ہے جس کے ذریعے ہم ترقی اور شعور کی راہوں پر گامزن ہوسکتے ہیں۔ زبانیں تعصب سے پاک ہوتی ہیں۔ زبانوں کی کوئی سرحد نہین ہوتی۔ میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے آج اس سیمینار کے روسط سے ایک عالم اور زبانوں سے محبت کرنے والی شخصیت جناب اخلاق حیدرآبادی سے ملاقات کا موقع ملا۔

اسٹیج سیکرٹری نے جناب اخلاق حیدر آبادی کو بلانے سے پہلے ان کا اجمالی تعارف پیش کیا اور کہا کہ ہم کوش قسمت ہین کہ ہمیں اس درسگاہ میں ڈاکٹر اشرف کمال،ڈاکٹر امیر ملک جیسے اساتذہ سے اکتساب فیض کا موقع ملا اور آج کا دن بھی ایک اہم دن ہے کہ اخلاق حیدرآبادی جیسی شخصیت رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی فیصل آباد سے یہاں تشریف لائی اور ہم سے ہمکلام ہوئی۔

اخلاق حیدر آبادی نے اپنے خطاب میں کہا کہ حقیقی ترقی اسی وقت حاصل ہوسکتی ہے جب کہ ہم میں حصول تعلیم کا حقیقی جذبہ پیدا ہوجائے۔ جہاں تک ایم فل اور پی ایچ ڈی کے اسکالرز کا تعلق ہے تو ہمیں ان سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں کہ یہ درست تحقیقی سمت میں سفر کرتے ہوئے اپنے مقاصد کو حاصل کرکے اعلیٰ علمی وتحقیقی خدمات سرانجام دیں گے۔

اس کے بعد جناب اخلاق حیدرآبادی نے علمی طور پر مختلف زبانوں کے حروف تہجی کو سامنے رکھتے ہوئے زبانوں کے درمیان اختلافات اور اشتراکات کو واضح کیا۔ انھوں نے بالخصوص اردو اور ہندی زبان کے مابین انسلاکات اور اشتراکات کو بیان کیا۔

شعبہ اردو: گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج بھکر میں سیمینار

گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج بھکر پنجاب بھر کے علمی وتدریسی ادارون مین ایک نمایاں ادارہ ہے جہاں نہ صرف تعلیمی میدان مین طلبہ وطالبات ہر سال نمایاں پوزیشنیں حاصل کرتے ہیں بلکہ تعلیمی، تدریسی و تحقیقی سرگرمیوں کے علاہ ہم نصابی سرگرمیوں میں بھی نمایاں اعزازات حاصل کرتے رہتے ہیں۔ یہ ادارہ پرنسپل پروفیسر محمد ایوب چوہان جیسی وسیع تعلیمی وژن رکھنے والی علمی شخصیت کے زیر سایہ تیزی سے ترقی کی منازل طے کرر ہی ہے۔

گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج بھکرشعبہ اردو میں ایک تعلیمی سیمینار میں ایم اے اردو کے طلبہ وطالبات سے خطاب میں جنا ب اخلاق حیدرآبادی نے ایم اے کی سطح پر اردو اور لسانیات کی تدریس کی افادیت پر روشنی ڈالی۔ زبان کی تدریس کے حوالے سے انھیں بتایا کہ زبانیں ہی ترقی کے راستے کھولتی ہیں۔زبانیں ہی لوگوں کو حقیقی معنوں میں شعورر کی سطح پر لے کر آتی ہیں۔

اس کے بعد انھوں نے وائٹ بورڈ کی مدد سے طلبہ وطالبات کو زبانوں کے حوالے سے لیکچر دیا۔

آخر میں رئیس ادارہ جناب پروفسیر محمد ایوب چوہان پرنسپل گورنمنٹ پوسٹ گریجویت کالج بھکر نے جناب اخلاق حیدرآبادی کی خدمات کو سراہا اور ان کی بھکر آمد اور شعبہ اردو میں منعقدہ سیمینار میں طلبہ وطالبات سے خطاب کرنے پر شکریہ ادا کیا۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 2 -