وسائل کی کمی کے باوجود تعلیمی معیار بلند اور طلبا کی تعداد میں اضافہ کیا گیا

وسائل کی کمی کے باوجود تعلیمی معیار بلند اور طلبا کی تعداد میں اضافہ کیا گیا

  

گورنمنٹ ڈگری کالج فار بوائز پنڈی بھٹیاں کے قیام کو ربع صدی کے قریب عرصہ ہو گیا ہے۔ ایک طویل عرصہ پروفیسر محمد اویس کالج کے پرنسپل رہے جو آج کل گورنمنٹ شالیمار کالج لاہور کے پرنسپل ہیں۔ پروفیسر اسد سلیم شیخ نے اس کالج میں اٹھارہ سال تک تدریسی خدمات سرانجام دیں۔ وہ گزشتہ 5سال سے اس ادارے میں بطور پرنسپل خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ وہ نہ صرف ایک ماہر تعلیم ہیں بلکہ کئی کتابوں کے مصنف، مرتب اور محقق ہونے کی حیثیت سے اعلیٰ شہرت کے حامل ہیں۔ انہوں نے کالج میں بھی ہم نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں کو فروغ دیا اور تدریسی لحاظ سے اس کے نتائج کا ایک بلند معیار قائم کیا۔ گزشتہ ہفتے ہم نے پروفیسر اسد سلیم شیخ سے ایک طویل غیر رسمی بات چیت کی اور کالج کو درپیش مسائل نیز ان کی کارکردگی اور علمی ذوق کے حوالے سے متعدد سوالات کئے جس کا انہوں نے تفصیلی جواب بھی دیا۔ ذیل میں سوال و جواب کا یہ سلسلہ قارئین کی نذر کیا جا رہا ہے۔

میرے اس سوال پر کہ ایک ماہر تعلیم کی حیثیت سے پاکستان کے موجودہ تعلیمی نظام کو وہ کس نظر سے دیکھتے ہیں،ان کا نقطہ نظر تھا کہ! قوموں کی تشکیل اور ترقی و خوشحالی میں سیاسی، اقتصادی و تعلیمی نظام مل کر کام کرتے ہیں۔مگر سب سے زیادہ کردار تعلیمی نظام ہی کا ہوتا ہے۔یہ دراصل ایک سانچہ کی طرح ہوتا ہے جس سانچے میں آپ قوم کو ڈھالیں کے اسی طرح کی قوم بنے گی۔بد قسمتی سے ہمارے تعلیمی ڈھانچے اور سانچے میں ملغوبہ قسم کی مٹی گوندھی جارہی ہے۔کئی طرز کے نصاب اور اس کے حوالے سے تعلیمی نظام مروج ہیں۔جتنے نصاب مختلف ہوں گے افکار و خیالات بھی اتنے ہی مختلف ہوں گے۔ہر دور میں یکساں نظام تعلیم کی بات تو کی گئی مگر عملی طور پر کچھ نہ ہوا۔ غیر ملکی فنڈنگ کے تحت بننے والی پالیسیوں کو مقامی سماجی و ثقافتی ماحول سے ہٹ کر بنایا جاتا رہا۔ آ ج آپ مضافاتی تعلیمی اداروں کا سروے کر کے دیکھ لیں۔لاکھوں بچے سکول سے باہر ہیں اور جو داخل ہوتے ہیں ان میں سے ایک چوتھائی کسی نہ کسی سطح پر اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔

میں نے پوچھا کہ اس کی کیا وجوہات ہیں کہ طلبہ اپنی تعلیم چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔اس پر پروفیسر اسد سلیم شیخ نے بتایا کہ مضافاتی علاقوں کے کالجز میں ڈراپ آؤٹ کی شرح قدرے زیادہ ہے اور اس کی کئی وجوہات ہیں۔ان میں سب سے بڑی وجہ معاشی حالات ہیں۔دوسرا دیہاتی طلبہ انگریزی سے بہت الرجک ہوتے ہیں۔پھر خاندانی جھگڑے،نفسیاتی مسائل،بعض اساتذہ کا نا مناسب رویہ اور مستقبل میں ڈگریاں ہونے کے باوجود ملازمتیں نہ ملنے کی وجہ سے بھی طلبہ کے ڈراپ آؤٹ کی شرح زیادہ ہے۔

تو پھر اس کا حل کیا ہے؟میرے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے اسد سلیم شیخ کہنے لگے کہ پورے نظام تعلیم پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔تعلیم کا بجٹ بڑھانا ہوگا۔طلبہ کو سہولتیں دینا ہوں گی۔ روزگار کے مواقع پیدا کرنے ہوں گے۔ یکساں نصاب نافذ کرنا ہوگا۔مگر ان سب کے لئے قیادت کا سنجیدہ ہونا ضروری ہے۔

آپ نے بطور پرنسپل اپنے ادارے کی بہتری کے لئے اب تک کیا کردار ادا کیا ہے؟اسد سلیم شیخ گویا ہوئے کہ مجھے اپنے ادارے سے عشق ہے میں گزشتہ ۲۳ برسوں سے یہاں تعینات ہوں اور پانچ برسوں سے پرنسپل کے طور پر کام کر رہا ہوں۔ ان پانچ برسوں کالج میں طلبہ کی تعداد میں ۵۰ فیصد اضا فہ ہوا ہے۔تعلیم کا شعبہ ہو یا سپورٹس کا ہر میدان میں کالج کے طلبہ نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔گزشتہ دو برسوں اساتذہ کی قلت رہی ہے۔حکومت کی طرف سے سی ٹی آئی بھی کم فراہم کئے گئے ہیں۔مگر ہم نے مخیرحضرات کے تعاون سے چار اساتذہ اپنے طور پر رکھے ہیں تاکہ طلبہ کا تعلیمی حرج نہ ہو۔کالج میں طلبہ کا ایک ایمرجنگ لیڈر شپ گروپ تشکیل دیا گیا ہے ان طلبہ میں لیڈر شپ کوالٹیز پیدا کرنے کے لئے خصوصی تربیت دی جاتی ہے۔میرے کالج کا کوئی طالب علم اس وہ سے تعلیم چھوڑ کر نہیں جاسکتا کہ اس کے پاس فیس کے پیسے نہیں ہیں۔ہم نے مستحق طلبہ کی مالی مدد کے لئے بعض مخیر حضرات کے تعاون سے میکنزم بنایا ہوا ہے۔

اسد صاحب آپ ایک محقق بھی ہیں اور اب تک آپ کی بیس کے قریب کتب شائع ہو چکی ہیں۔ آپ کی کتب کے موضوعات کیا ہیں اور آجکل تحقیق کے معیار پر آپ کی رائے کیا ہے۔ اسد سلیم شیخ کا جواب تھا کہ ”میری کتب کے موضوعات، تاریخ و سیاست، ثقافت اور ادب ہیں۔میرے تین سفر نامے ہیں،گھوم لیا پاکستان، کچھ سفر بھولتے نہیں اور ٹھنڈی سڑک (مال روڈ لاہور کا تاریخی، ثقافتی و ادبی،منظر نامہ) ہیں۔ میری تحقیق کا زیادہ تر موضوع پنجاب کی تاریخ و ثقافت رہا ہے۔اس حوالے سے اب تک میری شائع ہونے والی کتب میں دلے دی بار،حاکمان پنجاب، پنجاب کا علمی و ادبی ورثہ،نگر نگر پنجاب (پنجاب کے شہروں و قصبات کی سیاسی،جغرافیائی، ثقافتی و ادبی تاریخ) شامل ہیں۔ انسائیکلوپیڈیا پاکستان، ہماری دستوری تاریخ بھی میری کتب ہیں۔جہاں تک تحقیق کے معیار کا تعلق ہے تو ہماری یونیورسٹیوں میں ڈگریوں کی سیل لگی ہوئی ہے۔ایم فل لیول کے مقالہ جات کا وہ معیار نہیں ہوتا جو ہونا چاہئے۔طلبہ محنت کے عادی نہیں۔وہ بنی بنائی چیزوں کے حصول کے عادی ہوچکے ہیں۔اساتذہ بھی منصفانہ رویہ نہیں اپناتے۔گزشتہ بانچ برسوں سے میں کالج میں عارضی اساتذہ کی بھر تی کے موقع پر انٹر ویو لے رہا ہوں۔ یقین کریں انٹر ویو دینے والوں کی اکثریت بی۔ایس میں ستر اسی فیصد نمبر لینے والوں کی ہو تی ہے۔لیکن سوالات کے جوابات دینے سے قاصر۔ بی ایس پروگرام کے سمسٹر سسٹم کی سب سے بڑی خامی یہ سامنے آئی کہ کورس مکمل کرنے والے طلبہ اپنی پچھلی پڑھائی کو بھول جاتے ہیں۔

اسد سلیم شیخ صاحب سے ہمارا مکالمہ جاری رہا اور اب موضوع نوجوان نسل کی طرف ہوگیا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آ ج کی نوجوان نسل کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟وہ قدرے توقف سے بولے کہ ”سچی بات تو یہ ہے جس طرح سوسائٹی کبھی ایک رخ کا سفر نہیں کر تی۔اچھائی اور برائی ہمیشہ ساتھ ساتھ چلتی ہے۔اسی طرح آج کے نوجوانوں میں بھی دو طرح کی سوچ رکھنے والے موجود ہیں۔ایک مثبت سوچ رکھنے والے جو اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدہ ہیں،محنت کرتے ہیں اور انہوں نے اپنا کوئی نہ کوئی نصب العین تیار رکھا ہے۔اور دوسری طرح کے وہ نوجوان ہیں جن کی اکثریت بھی ہے جو محنت اور کسی نصب العین کا تعین کئے بغیر بہت کچھ حاصل کر لینے کی تمنا رکھتے ہیں۔بد قسمتی سے ہمارا تعلیمی نظام بھی ایسا ہے کہ جس میں صرف نمبروں کو دیکھا جاتا ہے صلاحتیوں کو نہیں۔نوجوانوں کی کردار سازی اور تربیت کی طرف توجہ بہت کم ہے۔

٭٭٭

اور پروفیسر صاحب میں آپ کو ایک بات بتاؤں۔

ہم نصا ب کے ساتھ ساتھ اپنے کالج کے طلبہ کی کردار سازی پر بھی بہت توجہ دیتے ہیں۔ان کو عملی زندگی کے لئے تیار کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔اب کالجز میں صبح کی اسمبلی کا رواج نہیں رہا مگر ہمارے کالج میں باقائدگی سے اسمبلی ہوتی ہے اور اس موقع پر طلبہ میں اخلاقی اقدار کے فروغ کے لئے گفتگو کی جاتی ہے۔دراصل والدین کی اپنے بچوں پر گرفت کمزور ہو گئی ہے۔وہ بھی توجہ نہیں دیتے۔اساتذہ اور والدین کا باہمی تعلق بھی بہت کمزور ہے۔اب وہ زمانہ تو نہیں ہے کہ صرف استاد ہی بچے کی تربیت کاذ مہ دار ہوتا تھا۔آج کا طالب علم چوبیس گھنٹوں میں سے صرف چار یا پانچ گھنٹے ہی تعلیمی ادارے میں گزارتا ہے باقی وقت تو وہ گھر اور سوسائٹی میں گزارتا ہے۔اس لئے پوری سوسائٹی ہمارے نوجوانوں کی تربیت کی ذمہ دار ہے۔اب اخلاقی و سماجی اقدار کی وجہ سے جو سوسائٹی کی حالت ہے اس کے اثرات سے آج کا نوجوان کیسے بچ سکتا ہے۔اس کے لئے یقینا ریاست کو فکر مند ہونا چاہئے۔انہیں اپنے مستقبل کو بچانا ہے تو پھر سیاسی،سماجی اور مذہبی لیڈر شپ کو مل کر کوئی کوئی لائحہ عمل بنانا ہوگا۔ورنہ وہی شتربے مہار کی طرح سوسائٹی کا انداز چلتا رہے گا۔ضروری نہیں کے کالجوں،یونیورسٹیوں سے ڈگری لینے والے ہی کامیاب زندگی بسر کرنے کے اہل ہیں۔آ ج کے نوجوانوں کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ وہ ہنر اور فن کے ذریعے سے بھی کامیاب ہو سکتے ہیں۔ کاروبار کرنا،بہتر زراعت کرنا بھی ایک فن ہے۔یہ کچھ دن پہلے میں نے ”ڈراپ آؤٹ“کے نام سے ایک سٹوری پڑھی تھی جس میں ایک نوجوان کے بارے میں بتایا گیا تھا۔انیس سال کی عمر میں اس نے تعلیم ادھوری چھوڑ دی اور ایک چھوٹا سا ڈھابہ بنا لیا۔پھر اس نے ایک فوڈ برانڈ بنایا اور اب انڈیا میں اس کی دو سو برانچز ہیں۔ملک کا نوجوان سوسائٹی میں مروج مخصوص سوچ کی وجہ سے بعض کاموں کو گھٹیا یا کم تر سمجھ کر نہیں کرتا۔اور اگر اسے یورپ جانے کا موقع مل جائے تو وہی کام وہاں شوق سے کرتا ہے اور پیسہ کماتا ہے۔اگر پڑھے لکھے نوجوان اپنے ملک میں بھی یہ ہی کام کرنے میں عار محسوس نہ کریں تو رفتہ رفتہ سوسائٹی کی سوچ بھی تبدیل ہو جائے گی۔اس ہی گفتگو پر ان کے ساتھ ہمارا مکالمہ اختتام پذیر ہوگیا۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 2 -