”آل پاکستان میوزیمز کانفرنس“ کا کامیاب انعقاد

”آل پاکستان میوزیمز کانفرنس“ کا کامیاب انعقاد

  

نظریہ پاکستان ٹرسٹ اور میوزیم ایسوسی ایشن آف پاکستان کے باہمی اشتراک سے ایوان قائداعظمؒ، جوہر ٹاؤن لاہور میں 20 اور 21 نومبر 2019ء کو دوروزہ”نظریہئ پاکستان آل پاکستان میوزیم کانفرنس“ کا انعقاد کیا گیا۔ ذیل میں اس کی روداد پیش کی جا رہی ہے۔

”ہر قوم اپنی شناخت اور نظریات کا تحفظ کرتی ہے۔ تاریخی و ثقافتی ورثے کو آئندہ نسلوں تک منتقل کرنے کا واحد ذریعہ عجائب گھر ہی ہوتے ہیں۔ تحریک پاکستان ایک عوامی تحریک تھی جس میں برصغیر بھر کے مسلمانوں نے بلا تفریق ومذہب بڑھ چڑھ کرحصہ لیا۔ تحریک پاکستان کے تاریخی سفر کو عجائب گھروں اور تصویری گیلیریزکی صورت میں محفوظ کیا جائے۔ پاکستان کی ثقافت کو کلچرل میوزیمز کے ذریعے پاکستان کے لوگوں میں روشناس کرانے کی ضرورت ہے“۔ان خیالات کااظہار تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن اور وائس چیئرمین نظریہئ پاکستان ٹرسٹ پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمدنے ایوان قائداعظمؒ، جوہر ٹاؤن لاہور میں منعقدہ دوروزہ”نظریہئ پاکستان آل پاکستان میوزیم کانفرنس“ کے پہلے روز افتتاحی سیشن کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ یہ کانفرنس نظریہ پاکستان ٹرسٹ اور میوزیم ایسوسی ایشن آف پاکستان کے باہمی اشتراک سے منعقد ہو رہی ہے۔ اس موقع پرصدر میوزیمز ایسوسی ایشن پاکستان ڈاکٹر قیصر عباس،، پاکستان آرمی میوزیم کے سربراہ بریگیڈیئر (ر) عدنان سلیم، ڈائریکٹر جنرل آرمی ہیرٹیج فاؤنڈیشن بریگیڈیئر (ر) زمان نصر اللہ خان نیازی، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ایگریکلچر اینڈ رورل اکانومی سمیرا صمد، سیکرٹری بلوچستان آرکیالوجی ظفر علی بلیدی،ڈین سوشل سائنسز پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چاولہ، سیکرٹری نظریہئ پاکستان ٹرسٹ شاہد رشید،مسز مارگو اے عزیز، ڈاکٹر رخسانہ ڈیوڈ، اور آزاد کشمیر آرکیالوجی اینڈ میوزیمز کے پیرزادہ ارشاد احمد سمیت ملک بھر سے آئے مندوبین کی کثیر تعداد موجود تھی۔ کانفرنس کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا بعدازاں پاکستان اور آزادکشمیر کے قومی ترانے بجائے گئے۔ کانفرنس کی نظامت کے فرائض سیکرٹری میوزیمز ایسوسی ایشن پاکستان میاں عتیق احمد نے انجام دیے۔

پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد نے کہاکہ ہندو اور مسلمان دو الگ الگ قومیں ہیں اور یہی وہ دوقومی نظریہ ہے جس کی بنیاد پر پاکستان معرض وجود میں آیا۔پاکستان اعلیٰ تہذیب واقدار کا حامل شاندار ملک ہے۔ پاکستان ایک ایسے مقام پر واقع ہے جو دنیا کی بڑی بڑی تہذیبوں کا مرکز ہے۔ یہ اسلامی، آریائی، چینی اور دیگر تہذیبوں کا سنگم ہے۔ میوزیمز کے ذریعے پرانی چیزوں کو نئے رنگ وانداز میں پیش کیا جاتا ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد نے کہاکہ ہندو اور مسلمان دو الگ الگ قومیں ہیں اور یہی وہ دوقومی نظریہ ہے جس کی بنیاد پر پاکستان معرض وجود میں آیا۔پاکستان اعلیٰ تہذیب واقدار کا حامل شاندار ملک ہے۔ پاکستان ایک ایسے مقام پر واقع ہے جو دنیا کی بڑی بڑی تہذیبوں کا مرکز ہے۔ یہ اسلامی، آریائی، چینی اور دیگر تہذیبوں کا سنگم ہے۔ میوزیمز کے ذریعے پرانی چیزوں کو نئے رنگ وانداز میں پیش کیا جاتا ہے۔

’کسی بھی ملک کے میوزیمز اور تاریخی تصویری گیلریز وہاں کی تاریخ، تہذیب اور ثقافت کی عکاسی کرتے ہیں۔ نئی نسلوں کو تحریک پاکستان اور اس وطن کی خاطر دی جانیوالی قربانیوں سے آگاہ کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ میوزیم ایک ورثہ ہے جس کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ میوزیم بنانے والوں کیلئے یہ چیز انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ یہاں تک سب کی رسائی آسان ہو“۔ ان خیالات کااظہار سابق چیف جسٹس وفاقی شرعی عدالت و چیئرمین تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ چیف جسٹس(ر) میاں محبوب احمد نے ایوان قائداعظمؒ، جوہر ٹاؤن لاہور میں منعقدہ دوروزہ”نظریہئ پاکستان آل پاکستان میوزیم کانفرنس“ کے دوسرے روز پہلے سیشن کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ یہ کانفرنس نظریہ پاکستان ٹرسٹ اور میوزیم ایسوسی ایشن آف پاکستان کے باہمی اشتراک سے منعقد ہو رہی ہے۔ اس موقع پر ممتاز سیاسی وسماجی رہنما بیگم مہناز رفیع، پاکستان آرمی میوزیم کے سربراہ بریگیڈیئر (ر) عدنان سلیم، ڈائریکٹر جنرل آرمی ہیرٹیج فاؤنڈیشن بریگیڈیئر (ر) زمان نصر اللہ خان نیازی، انٹرنیشنل کونسل آف میوزیم کی عزہ خان، ڈائریکٹر جنرل پلاک ثمن رائے، نمائندہ یونیسکو ماریہ گلریز، سیکرٹری آرکیالوجی بلوچستان ظفر علی بلیدی، سیکرٹری نظریہئ پاکستان ٹرسٹ شاہد رشید سمیت ملک بھر سے آئے مندوبین کی کثیر تعداد موجود تھی۔ کانفرنس کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جس کی سعادت محمد بلال ساحل نے حاصل کی بعدازاں پاکستان اور آزادکشمیر کے قومی ترانے بجائے گئے۔ کانفرنس کی نظامت کے فرائض سیکرٹری میوزیمز ایسوسی ایشن پاکستان میاں عتیق احمد نے انجام دیے۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 2 -