قومی اسمبلی،مسئلہ کشمیر پر اپوزیشن کی قابل عمل تجاویز کو من و عن تسلیم کرینگے:شاہ محمود قریشی

قومی اسمبلی،مسئلہ کشمیر پر اپوزیشن کی قابل عمل تجاویز کو من و عن تسلیم ...

  

اسلام آباد (این این آئی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ کشمیر، حکومت کا نہیں پاکستان کا مسئلہ ہے، اپوزیشن تجاویز دے ہم قابل عمل تجاویز کو من وعن تسلیم کرینگے،ہاؤس کی آواز ہمیں کمزور نہیں مضبوط کرتی ہے آئیے اور اپنی تجاویز کی صورت میں حصہ ڈالیے،او آئی سی کو مردہ گھوڑا نہ کہا جائے، او آئی سی کی اہمیت کو تسلیم کرنا چاہیے، ہر تنظیم کا کام کرنے کا طریقہ ہے،ہمیں ان کے ساتھ چلنا ہے،ہمیں وسعت قلبی سے دوسروں کی بھی بات سننی چاہیے،پارلیمان کی بحث اس وقت فائدہ مند ہو گی جب ہم ایک دوسرے کی بات سننے پر آمادہ ہونگے، '5 اگست کے بھارتی اقدام پر پارلیمنٹ نے متفقہ جواب دیا، کشمیر کے معاملے پر ہم سب ایک ہیں اور اس مسئلے پر کوئی ابہام، تقسیم یا کمزوری نہیں۔ قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہاکہ سپیکر اور اپوزیشن اراکین کا بھی شکرگزار ہوں کہ انہوں نے کشمیر کے مسئلے کو اٹھایا۔انہوں نے کہاکہ 5 اگست کو ہندوستان کے یکطرفہ اقدامات کئے بعد اس پارلیمنٹ نے متفقہ قرارداد منظور کی۔انہوں نے کہاکہ کشمیر کے مسئلے پر تمام پارٹیوں میں اتفاق رائے ہے۔انہوں نے کہاکہ 5 اگست کے بعد حکومت نے اپوزیشن کے تعاون سے جس طرح مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا ہے وہ مثالی ہے۔انہوں نے کہاکہ ہاؤس آف کامنز میں 54 اراکین نے تحریری طور پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔انہوں نے کہاکہ ترکی کے صدر نے اپنی اقوام متحدہ کی تقریر میں کشمیر کا مسئلہ پر بات کی ہے۔انہوں نے کہاکہ ملائشیا کے صدر نے کشمیر پر بات کی فرانس کی پارلیمنٹ میں مسئلہ کشمیر ڈسکس ہوا۔انہوں نے کہاکہ دنیا بھر میں مقیم پاکستانی اور کشمیریوں نے بھرپور احتجاج کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ تین کمیٹیاں پارلیمنٹ میں موجود ہیں میں نے تینوں کمیٹیوں کو تمام تفصیلات سے آگاہ رکھا۔انہوں نے کہاکہ ہم نے ہیومن رائٹس کونسل جنیوا میں ہندوستان کو پوری طرح بے نقاب کیا تمام انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے ہمارے موقف کی تائید کی۔انہوں نے کہاکہ ہم نے کم خرچ بالا نشین کام کیا جبکہ ہندوستان کی پارلیمنٹ واضح طور پر تقسیم ہے کیونکہ وہ بی جے پی کی ہندتوا سوچ کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ کشمیر، حکومت کا نہیں پاکستان کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ احسن اقبال صاحب نے او آئی سی کے بارے میں جملے کہے میں ان سے اتفاق نہیں کرتا،او آئی سی میں ستاون ممالک شامل ہیں۔ انہوں نے کہاکہ آپ انہیں مردہ گھوڑا کہہ کر کشمیر کاز کی خدمت نہیں کہہ رہے۔ انہوں نے کہاکہ میں نے تجویز دی ہے کہ ہم چھوٹے گروپ بنائیں جس میں پارلیمنٹ کا نمائندہ ہو، سینٹ کا نمائندہ ہو سابق سفارتکار کو شامل کیا جائے اور ٹارگٹڈ اپروچ کے ساتھ ہم آگے بڑھیں۔انہوں نے کہاکہ او آئی سی، فلسطین کے مسئلے پر معرض وجود میں آئی لیکن تاحال مسئلہ کشمیر حل نہیں ہو سکا یہ طویل جدوجہد ہے ہمیں یہ خیال رکھنا ہو گا۔انہوں نے کہاکہ نواز شریف کی بیماری پر بات ہوئی اور یہ ان کا حق ہے لیکن کشمیر پر نہیں ہوئی شکر ہے کہ آج پارلیمنٹ میں کشمیر پر اپوزیشن بات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں وسعت قلبی سے دوسروں کی بھی بات سننی چاہیے،پارلیمانی آداب کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے،پارلیمان کی بحث اس وقت فائدہ مند ہو گی جب ہم ایک دوسرے کی بات سننے پر آمادہ ہوں گے۔علاوہ ازیں حکومت نے چودہ ماہ کے دوران لیے گئے غیر ملکی قرضوں کی تفصیلات ایوان میں پیش کردی جس کے مطابق 18 اگست 2018 سے 30 ستمبر 2019 تک 10 ارب ڈالر 36 کروڑ اسی لاکھ ڈالر قرضہ لیا گیا۔ وزیر برائے اقتصادی امور حماد اظہر نے تفصیلات پیش کیں۔ وفاقی وزیر نے بتایاکہ پہلے سال میں مجموعی سرکاری قرضے میں 9 اعشاریہ 3 کھرب روپے کا اضافہ ہوا،رواں مالی سال کے دوران بجٹ خسارہ پورا کرنے کیلیے 3 اعشاریہ 7 کھرب روپے کے قرضے لیے گئے۔ انہوں نے کہاکہ کرنسی کی قدر میں کمی کی وجہ 2 اعشاریہ 6 کھرب روپے کا قرضہ لینا پڑا،زیادہ نقد بیلنس کی وجہ سے 3 کھرب روپے کے قرضے کا اضافہ ہوا۔ وقفہ سوالات کے دور ان بتایاگیاکہ نون لیگ کے مقابلے میں موجودہ حکومت کو زرمبادلہ کے مستحکم دخائر ملے،2013 میں نون لیگ نے حکومت بنائی تو زرمبادلہ کے ذخائر 11 ارب ڈالرز کے لگ بھگ تھے،حکومت نے 2013 سے اب تک سالانہ بنیادوں پر زرمبادلہ کے ذخائر کی تفصیل پیش کر دی جس کے مطابق سال 2018 میں تحریک انصاف کی حکومت کو 16 ارب 38 کروڑ ڈالرز کے ذخائر ملے،مالی سال 2013 میں زرمبادلہ کے ذخائر 11 ارب 1 کروڑ 95 لاکھ ڈالرز تھے،سال 2014 میں زرمبادلہ کے ذخائر 14 ارب 14 کروڑ 11 لاکھ ڈالرز تھے،سال 2015 میں زرمبادلہ کے ذخائر 18 ارب 69 کروڑ 92 لاکھ ڈالرز تھے،سال 2016 میں زرمبادلہ کے ذخائر 23 ارب 9 کروڑ 85 لاکھ ڈالرز تھے،سال 2017 میں زرمبادلہ کے ذخائر 21 ارب 40 کروڑ 29 لاکھ ڈالرز تھے،سال 2018 میں زرمبادلہ کے ذخائر 16 ارب 28 کروڑ 36 لاکھ ڈالرز تھے،سال 2019 میں زرمبادلہ کے ذخائر 14 ارب 47 کروڑ 68 لاکھ ڈالرز تھے،رواں سال جولائی کے مہینے میں زرمبادلہ کے ذخائر 15 ارب 95 کروڑ 54 لاکھ ڈالرز تھے۔ضبط اشیاء کی نیلامی بارے سوال پر زین قریشی نے جواب دیتے ہوئے کہاکہ الکوحل سمیت ممنوع اشیاء اگر غیر مسلم سے برآمد ہو تو اسے ڈپلومیٹک طور پر نیلام ہوتا ہے،اگر الکوحل کسی مسلم سے برآمد ہو تو اسے شریعہ کورٹ کے فیصلے کے تحت تلف کردیا جاتا ہے،ضبط ہونے والا اسلحہ و گولہ بارود قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کیا جاتا ہے۔مخدوم زین قریشی نے ضمنی سوال پر جواب دیتے ہوئے کہاکہ موجودہ حکومت نے 18 اگست 18ء سے 30 ستمبر 2019ء تک 10 ارب 36 کروڑ اسی لاکھ ڈالر کے قریب قرض حاصل کیا۔

قومی اسمبلی/شاہ محمود

مزید :

صفحہ اول -