ذخیرہ اندوزی،ملاوٹ اور مصنوعی مہنگائی سنگین جرم ہے:محمود خان

ذخیرہ اندوزی،ملاوٹ اور مصنوعی مہنگائی سنگین جرم ہے:محمود خان

  

پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے صوبے میں روزمرہ استعمال میں آنے والی اشیاء خوردنوش کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لئے جاری اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے، تاہم انہوں نے منافع خوروں، ذخیرہ اندوزوں اور مصنوعی مہنگائی پیدا کرنے والوں سے آہنی ہاتھوں نمٹنے کی ہدایت کی ہے، انہوں نے افغانستان سے سبزیوں اور پھلوں کی درآمدات کی حوصلہ افزائی کرنے جبکہ کمیشن ایجنٹوں اور آڑھتیوں کو بھی لگام دینے کی ہدایت کی،اور کہا ہے کہ سرکاری نرخناموں پر عملدرآمد یقینی بناتے ہوئے عوام کو ریلیف دینے پر توجہ مرکوز کی جائے۔ وہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں مہنگائی کے خلاف ایک اہم اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کاظم نیاز، وزیراعلیٰ کے مشیر برائے ضم شدہ اضلاع و ترجمان صوبائی حکومت اجمل وزیر، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری شہاب علی شاہ، محکمہ زراعت، خوراک اور ریلیف کے انتظامی سیکرٹریز، کوآرڈینیٹر پی ایم آر یواور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ وزیراعلیٰ کی خصوصی ہدایت کے مطابق صوبے میں غریب عوام کو متاثر کرنے والی اشیاء خوردونوش کی قیمتوں کو قابو کرنے پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے، آزاد ذرائع کے ذریعے مارکیٹ میں قیمت فروخت کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جاتا ہے اور اضافی قیمتیں رپورٹ ہونے پر فوری کاروائی کی جارہی ہے۔کسا ن عارضی مارکیٹوں میں براہ راست موسمی پھل اور سبزیاں فروخت کر رہے ہیں، کمیشن ایجنٹ اور آڑھتیوں کا کردار ختم ہونے کی وجہ سے قیمتیں کم ہوئی ہیں۔ صوبے کے بائیس اضلاع کی 53منڈیوں پر نظر رکھی جا رہی ہے اور آکشن کے ذریعے پھلوں اور سبزیوں کی قیمتوں کا تعین کیا جاتا ہے جو آن لائن اپلوڈ کی جاتی ہیں۔ دیگر اشیاء خوردنوش کی قیمتوں کا تعین پرائس کمیٹیوں کے ذریعے ہوتا ہے، متعین قیمتیں خیبرپختونخوا سیٹیزن پورٹل/ویب پورٹل پر شہریوں کی اطلاع کے لئے اپلوڈ کی جاتی ہیں۔ روزانہ کی بنیادوں پر ڈیٹا شیٹس کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کے ساتھ شیئر کی جاتی ہیں، تاکہ وہ قیمتوں کو کم کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات کر سکیں۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ ذخیرہ اندوزی کے خلاف جرمانے کرنے کی بجائے نشاندہی پربھرپور کاروائی کی جاتی ہے، گزشتہ ماہ نومبر کے دوران ذخیرہ اندوزی کے خلاف کاروائیوں میں 537 مختلف یونٹس کا معائنہ کیا گیا، 26کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی، 26یونٹس بند کئے گئے اور 219کو وارننگ دی گئی۔ صوبہ بھر بشمول ضم شدہ اضلاع کی 83تحصیلوں میں کسانوں کے لئے 97مارکیٹس قائم کی گئی ہیں، جہاں وہ براہ راست سبزی اور پھل فروخت کرتے ہے۔ ملاوٹ کے خلاف کاروائی کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے اجلاس کو بتایا گیا کہ نومبر کے مہینے میں 5806یونٹس کا معائنہ کیا گیا، 5.48ملین روپے جرما نہ عائد کیا گیا، 28کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی اور 291یونٹس بند کئے گئے، علاوہ ازیں 2153یونٹس کو وارننگ دی گئی۔ حلال فوڈ اتھارٹی کی طرف سے گزشتہ ماہ ایک لاکھ37ہزار 507ملاوٹ شدہ اشیاء ضبط اور تلف کی گئیں۔  اجلاس کو مزید بتا یا گیا کہ افغانستان سے روزانہ کی بنیاد پر سو گاڑیاں سبزی اور فروٹ لیکر شمالی وزیرستان پہنچتی ہیں، جو سستے داموں فروخت کی جاتی ہے، میران شاہ میں سبزی اور فروٹ پچاس فیصد سستا فروخت کیا جاتا ہے۔ کسانوں کی سہولت کے لئے ٹیلی فارمنگ کی سہولت دی گئی ہے جس کے ذریعے کال سنٹر، ایس ایم ایس، موبائل ایپ اور ویب سائٹ دی گئی ہے۔ دولاکھ سے زائد کسان اس میں رجسٹرڈ ہیں۔ وزیراعلیٰ نے جاری اقدامات کو مزید نتیجہ خیز بنانے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ روزمرہ استعمال کی اشیاء خوردونوش کی ذخیرہ اندوزی، ملاوٹ اور مصنوعی مہنگائی ایک سنگین جرم ہے، جو غریب عوام کی مشکلات میں اضافے اور صحت کی خرابی کا باعث بنتا ہے۔ مذکورہ جرائم میں ملوث عناصر سے آہنی ہاتھوں نمٹا جائے، اور شہریوں کو حکومت کے مقرر کردہ نرخوں پر صحت بخش اشیاء کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔  

مزید :

صفحہ اول -