باریاں لینے والوں نے ماضی میں شانگلہ کی ترقی کیلئے کچھ نہیں کیا:شوکت علی یوسفزئی

باریاں لینے والوں نے ماضی میں شانگلہ کی ترقی کیلئے کچھ نہیں کیا:شوکت علی ...

  

پشاور(سٹاف رپورٹر)خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ 10 بلین ٹری سونامی پراجیکٹ میں جنگلات کی ڈی مارکیشن کے لیے سروے آف پاکستان میں شانگلہ کے جنگلات میں ترجیحی بنیادوں پر کام شروع کیا جائے تاکہ شانگلہ کے عوام جنگلات کی حفاظت اور فوائد کے لیے اپنا کردار مزید بہتر طریقے سے ادا کر سکیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دفتر میں پی ٹی آئی شانگلہ کے ضلعی رہنما وقار خان کے ساتھ آئے ہوئے شانگلہ کے وفد کا محکمہ جنگلات کے آفیسرز سے شانگلہ کے جنگلات کے حوالے سے ملاقات میں کیا۔ ملاقات میں سیکرٹری ماحولیات شاہد اللہ، چیف کنزرویٹر ملاکنڈ نیاز علی اور ڈی ایف او شانگلہ عدنان علی نے شرکت کی۔ ملاقات میں شانگلہ وفد نے محکمہ جنگلات سے شانگلہ میں ووڈ لاک پالیسی 2017 جلد نافذ کرنے کی استدعا کی۔ محکمہ جنگلات نے شانگلہ وفد کو باور کرایا کہ شانگلہ جنگلات میں سرکاری اور پرائیویٹ جنگلات میں ڈی مارکیشن کیے بغیر پالیسی نافذ نہیں کی جا سکتی۔ بعد ازاں مختلف وفود سے ملاقات کے دوران صوبائی وزیر نے کہا کہ شانگلہ کی ترقی کے لیے ہر ممکن اقدامات اور منصوبے شروع کیے گئے ہیں ماضی میں شانگلہ کی ترقی کے لیے یہاں پر باریاں لینے والوں نے کچھ نہیں کیا جس کی وجہ سے شانگلہ کے لوگوں میں محرومیاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پورا شانگلہ ایک گھر کے جیسا ہے اور سیاسی وابستگی سے بالا تر ہو کر یہاں کی ترقی کے لیے کام کر رہا ہوں شانگلہ کے عوام نے پاکستان تحریک انصاف کو ریکارڈ ووٹ دیے شانگلہ کے عوام کو ایک ترقی یافتہ ضلع دینگے جو صوبے کے دوسرے ضلعوں کے لیے ایک رول ماڈل ہوگا۔

مزید :

صفحہ اول -