خطے کی دو جوہری طاقتوں کے درمیان نیوکلیر فلیشن پوائنٹ نہیں بننا چاہتے:مسعود خان

خطے کی دو جوہری طاقتوں کے درمیان نیوکلیر فلیشن پوائنٹ نہیں بننا چاہتے:مسعود ...

  

لندن (این این آئی)آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ عالمی برادری اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے مقبوضہ کشمیر کے بارے میں بھارت کے فریب پر مبنی اور بیانیہ اور موقف کو مسترد اور مقبوضہ علاقے کے حالات کو نہایت سنگین قرار دے کر صورتحال کی اصل تصویر دنیا کے سامنے پیش کر دی۔ لند ن کے شہرت یافتہ کنگ کالج میں ”کشمیر اور انسانی حقو ق“ کے موضوع پر طلبہ سے گفتگو کرتے ہوئے صدر آزاد کشمیر نے بھارت کی طرف سے دفعہ35اے اور 370 ختم کرنے، مقبوضہ جموں و کشمیر کی منفرد شناخت کو مٹانے اور مقبوضہ علاقے کی آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کے غیر قانونی اور گھناونے اقدام کوتصرفی دستوریت قرار دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی میڈیا اور دنیا کی کئی پارلیمانز نے کشمیر کے بارے میں بھارت کے جھوٹے موقف کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کے عوام آزادی کے ساتھ باوقار زندگی گزرنے کے خواہشمند ہیں اور وہ اپنا بنیادی حق، حق خود ارادیت چاہتے ہیں، وہ علاقے میں امن و سلامتی کے خواہاں ہیں اور وہ ہر گز یہ نہیں چاہتے کہ وہ خطہ کی دو جوہری طاقتوں بھارت اور پاکستان کے درمیان نیوکلیر فلیش پوائنٹ بنیں۔ دنیا کا کوئی مذہب، معاشرہ اور مکتب فکر انسانوں کے قتل عام کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے و ہ کوئی سرحدی تنازعہ ہے اور نہ ہی ہندووں اور مسلمانوں کے درمیان جنگ ہے بلکہ وہ انسانیت اور انسانیت کے دشمنوں کے درمیان جنگ ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال کو بھیانک قرار دیتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ اقوام متحدہ سمیت دنیا کی خاموشی اس بات کا ثبوت ہے کہ ورلڈ آرڈر اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے۔جنگ عظیم دوم کے بعد قائم ہونے والی اقوام متحدہ کو نیو ورلڈ آرڈر کا چہرہ قرار دیتے ہوئے صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ اقوام متحدہ کے فرائض میں یہ شامل ہے کہ دنیا کو جنگ کی تباہ کاریوں سے بچائے، نسل کشی کو روکے اور دنیا کے تمام انسانوں کو پائیدار ترقی کے ہداف حاصل کرنے میں مدد کرے لیکن بد قسمتی سے مقبوضہ جموں و کشمیر کے معاملے میں اقوام متحدہ ا پنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں اب تک نا کام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج جسے آرمڈ فورسز سپیشل پاور ایکٹ اور پبلک سیفٹی ایکٹ جیسے کالے قوانین کے تحت بے پناہ اختیارات حاصل ہیں وہ کشمیریوں کو بلاجواز قتل کرنے، زخمی اور معذور کرنے اور اُنہیں گرفتار کر کے بغیر مقدمہ چلائے جیلوں میں بند کرنے جیسے گھناونے جرائم میں ملوث ہے اور یوں وہ بلا روک ٹوک انسانی حقوق کی پامالی میں ملوث ہے۔ ڈاکٹرز ود آوٹ بارڈرز کی ایک رپورٹ کا حوالے دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں پینتالیس فیصد سے زیادہ شہری ذہنی تناؤ سمیت مختلف نفسیاتی اور ذہنی امراض کا شکار ہو چکے ہیں جبکہ لینسٹ میڈیکل جرنیل نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں شہریوں کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صحت پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ حق خود ارادیت تمام انسانوں کا بنیادی حق ہے اور بھارت اور پاکستان اقوام متحدہ کی نگرانی میں کشمیریوں کو یہ حق دلانے کے لیے سہولت فراہم کرنے کے پابند ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ حالیہ بھارتی اقدامات کا ایک یہ مقصد یہ بھی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں نو آبادکاری نظام کو متعارف کرا کر اور کشمیریوں کی منفرد شناخت کو ختم کر کے ریاست میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدل دیا جائے۔ صدر آزاد کشمیر نے بھارت کے اس موقف کو بھی مسترد کر دیا کہ پانچ اگست کے اقدامات کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں تعمیر و ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود کے عمل کو تیز کرنے کے علاوہ سرحد پار سے دہشت گردی کو روکنا ہے۔ صدر نے دو ٹوک الفاظ میں اس بات کی تردید کی کہ آزاد کشمیر میں دہشت گردی کی تربیت کا کوئی کیمپ ہے یا دہشت گردوں کو مقبوضہ کشمیر میں داخل کرنے کا کوئی سلسلہ موجود ہے۔ اُنہوں نے بھارتی حکام کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ لائن آف کنٹرول کی موثر طریقے سے نگرانی کی جارہی ہے جس کو عبور کرنا کسی کے لیے ممکن نہیں ہے۔ 

مسعود خان

مزید :

پشاورصفحہ آخر -