کراچی،گرین لائن منصوبے کی کھدائی کے دوران انسانی ہڈیاں برآمد

کراچی،گرین لائن منصوبے کی کھدائی کے دوران انسانی ہڈیاں برآمد

  

کراچی(کرائم رپورٹر)کراچی کے علاقے ناظم آباد نمبر تین کے قریب کھدائی کے دوران انسانی ہڈیاں برآمد ہوئی ہیں، پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ نجی اسپتال کی جانب سے ہڈیاں دفن کی گئیں، اسپتال انتظامیہ نے پولیس کے بیان کی تردید کی ہے۔کراچی میں بوری بند لاشوں کے بعد تھیلوں سے انسان ہڈیاں برآمد ہونے لگی ہیں۔ ضلع سینٹرل کے علاقے ناظم آباد نمبر 3 میں واقع انو بھائی پارک سے کھدائی کے دوران بڑی تعداد میں انسانی ہڈیاں برآمد ہوئی ہیں۔پولیس حکام اسے دہشت گردی کے نتیجے کی بجائے اسپتالوں میں انسانی آپریشن کا فضلہ یعنی میڈیکل ویسٹیج قرار دے رہے ہیں جس کی اسپتال انتظامیہ نے بھی تصدیق کر دی ہے۔ایس ایس پی سینٹرل عارف اسلم راؤ کے مطابق ناظم آباد نمبر 3 میں واقع علاقے کے معروف انو بھائی پارک میں ان دنوں گرین لائن بس منصوبے کے سلسلے میں کھدائی کی جا رہی ہے۔عارف اسلم راؤ نے بتایاکہ کھدائی کے دوران بدھ کو پارک کے مختلف مقامات سے کپڑے کے پراسرار رول اور گٹھڑیاں برآمد ہوئی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ تعمیراتی ٹھیکیدار نے ناظم آباد پولیس کو اطلاع دی، جس پر پولیس نے موقع پر پہنچ کر تمام ہڈیاں قبضے میں لے لیں۔ایس پی سینٹرل نے کہا کہ پارک سے کوئی ایک بھی انسانی ڈھانچہ برآمد نہیں ہوا بلکہ کپڑوں میں لپٹی یا بندھی ہوئی مختلف جسمانی حصوں کی، مختلف سائز کی انسانی ہڈیاں ملی ہیں جو مختلف انداز میں بندھی اور زمین برد کی گئی لگتی ہیں۔عارف اسلم کے مطابق ہڈیوں کے ابتدائی معائنے سے ہی اندازہ ہوتا ہے کہ یہ اسپتال کا میڈیکل ویسٹیج ہے۔ایک اور پولیس افسر کے مطابق اس پارک کے ساتھ ہی ہڈیوں کا معروف نجی اسپتال موجود ہے جس کی انتظامیہ نے ماضی میں مختلف آپریشنوں کے دوران کاٹے گئے انسانی اعضا اس پارک میں ٹھکانے لگانے کے سلسلے کی تصدیق کی ہے۔دوسری جانب نجی اسپتال نے پولیس کے موقف کی تردید کی ہے۔نجی اسپتال کے ایڈمنسٹریٹر نصرت فہیم نے بتایاکہ اس طرح ہڈیاں دبانا ہمارا طریقہ کار نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ اسپتال میں روزانہ اعضا نہیں کٹتے، ایسا کبھی کبھار ہوتا ہے، البتہ جو اعضا کاٹے جاتے ہیں وہ مریض کے لواحقین کو دیدیئے جاتے ہیں۔ لواحقین خود ہی لے جا کر قبرستان میں دفن کردیتے ہیں اور اگر کوئی نہ لے کر جائے تو اسپتال کا عملہ خود قریبی قبرستان میں دفن کردیتا ہے۔ ڈاکٹروں کی ٹیم کے مطابق ہڈیاں کئی سال پرانی ہیں۔پی ایم اے کے عہدیدارڈاکٹر قیصر سجاد نے اس ضمن میں بتایاکہ کچرے یا کسی اور جگہ سے انسانی ہڈیاں ملنا بہت تشویشناک بات ہے، جب تک تفتیش نہیں ہوگی، برآمد کی گئی ہڈیوں سے متعلق حتمی رائے نہیں دی جا سکتی۔انہوں نے کہا کہ اگر اسپتال والوں نے کسی اٹینڈینٹ کو یہ دیا ہے تو اس کو تاکید کرنی چاہیے تھی کہ ایسے نہ پھینکیں۔وزیر صحت سندھ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسپتالوں میں ہڈیوں کو دفن کرنے کی پریکٹسز ماضی میں ہوا کرتی تھیں، اب اسپتال یہ پریکٹسز نہیں کرتے، موجودہ دور میں میڈیکل اسٹوڈنٹس مصنوعی ڈیڈ باڈیز پر پریکٹیکل کرتے ہیں۔انسانی ہڈیاں کس نے دفن کیں؟ پولیس کی ناقص تفتیش نے ایک بار پھر شہریوں کو شکوک و شہبات میں ڈال دیا ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -