دعا منگی کو 4 روز بعد بھی پولیس بازیاب کروانے میں ناکام

دعا منگی کو 4 روز بعد بھی پولیس بازیاب کروانے میں ناکام

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر)کراچی کے علاقے ڈیفنس میں اغواہونے والی دعا منگی کو 4 روز بعد بھی پولیس بازیاب کروانے میں ناکام ہے، کیس کی تفتیش میں اب تک کوئی اہم پیش رفت سامنے نہیں آسکی ہے۔دعامنگی کے اہل خانہ نے کہاہے کہ صدر، وزیر اعظم، یا وزیر اعلی کی ہمدردی نہیں چاہیئے، دعا کی بحفاظت واپسی چاہتے ہیں،دوسری جانب سندھ کے وزیراطلاعات سعیدغنی نے کہاکہ ڈیفنس جیسے علاقے میں دعا کا اغوا تشویش ناک ہے، بازیابی میں مکمل کامیابی تو نہیں ملی البتہ کچھ پولیس کو کچھ شواہد ملے ہیں، لیکن ان باتوں کے میڈیا پر آنے سے تفتیش متاثر ہوتی ہے۔۔خصوصی گفتگوکرتے ہوئے دعا کی بہن موتیا منگی نے کہاکہ دعا میری چھوٹی بہن ہے، اغوا کا واقعہ بہت افسوسناک ہے۔ لڑکیوں کے اغوا کے واقعات ہم سب کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔انہوں نے کہاکہ اس قسم کے واقعے کے بارے میں کبھی نہیں سوچا نہیں تھا، ہمارا کوئی بھائی نہیں، 3 بہنیں ہیں۔دعا کے ماموں اعجاز منگی نے کہا کہ دعا اس ملک کی بچی ہے، ریاست کو ماں ثابت کرنا ہوگا۔ دعا کے اغوا کار گرفتار نہ ہوئے تو مزید واقعات بھی ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ واقعے کے وقت دعا کے ساتھ موجود حارث 4 ملزمان سے لڑا، وہ ہیرو ہے۔ ملزمان ہمارے آس پاس کے لوگوں میں شامل نہیں۔ صدر، وزیر اعظم، گورنر یا وزیر اعلی کی ہمدردی نہیں چاہیئے، ہمیں اپنی دعا کے لیے حق چاہیئے۔دعا کے والدنے بتایاکہ ان کی صاحبزادی کا 10 روز قبل مظفر نامی لڑکے سے جھگڑا ہوا تھا۔ والد نے شبہ ظاہر کیا کہ دعا کے اغوا میں بھی اسی لڑکے کا ہاتھ ہے۔دوسری جانب سندھ کے وزیراطلاعات سعید غنی نے کہاکہ ڈیفنس جیسے علاقے میں دعا کا اغوا تشویش ناک ہے، بازیابی میں مکمل کامیابی تو نہیں ملی البتہ کچھ پیش رفت ہوئی ہے۔امید ہے کہ بچی کو بازیاب کروا لیں گے، ملزمان جلد پکڑے جائیں گے۔انہوں نے کہاکہ سیف سٹی پروجیکٹ کے باوجود جرائم کو نہیں روکا جا سکتا۔ بڑے شہروں میں جرائم کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں۔کراچی میں بڑھتے ہوئے اسٹریٹ کرائمز پر وزیرِ اطلاعات سندھ سعید غنی نے کہا کہ اس کی ایک وجہ معیشت کی خرابی بھی ہے۔ دعا منگی کو 4 روز بعد بھی پولیس بازیاب کروانے میں ناکام ہے، کیس کی تفتیش میں اب تک کوئی اہم پیش رفت سامنے نہیں آسکی ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق واقعے میں فائرنگ سے زخمی ہونے والے حارث کا بیان ریکارڈ نہیں کیا جا سکا جبکہ مشکوک افراد سے پوچھ گچھ میں بھی کوئی اہم انکشاف سامنے نہیں آیا ہے، کیس میں 22 سے زائد افراد کے بیانات لیے گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق دعا منگی کی بازیابی کے لیے پولیس تفتیش کا دائرہ مزید بڑھا دیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق پوش علاقوں میں ہونے والی پارٹیوں پر توجہ دینا شروع کر دی گئی ہے، دعا منگی اور حارث ڈیفنس کی پارٹیاں اٹینڈ کرتے تھے، شک ہے کہ دعا منگی اغوا کیس پارٹی میں ہونے والے کسی جھگڑے کا شاخسانہ نہ ہو۔پولیس ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ زخمی حارث کے کال ڈیٹا میں کوئی مشکوک نمبر بھی سامنے نہیں آیا ہے۔واضح رہے کہ یکم دسمبر کو کراچی کے علاقے ڈیفنس میں دعا منگی نامی لڑکی کو اغوا کر لیا گیا تھا جب کہ اس کے ساتھ موجود لڑکے حارث کو اغوا کاروں نے گولی مار کر زخمی کر دیا تھا، حارث اسپتال میں زیرِ علاج ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -