اکادمی ادبیات کے زیر اہتمام”محاکمہ، تنقیداور ذوق“ پر خصوصی لیکچرکا انعقاد

اکادمی ادبیات کے زیر اہتمام”محاکمہ، تنقیداور ذوق“ پر خصوصی لیکچرکا انعقاد

  

 کراچی(اسٹاف رپورٹر) اکادمی ادبیا ت پاکستان کراچی کے زیراہتمام ”محاکمہ، تنقیداور ذوق“ پر خصوصی لیکچر اور”مشاعرہ“کا انعقاد کیا گیا۔جس کی صدارت لاہور سے آئے ہوئے معروف ناول نگار تنقید نگارڈاکٹر عرفان احمد خان، نے کی۔ اس موقع پرڈاکٹر عرفان احمد خان،  صدارتی خطاب میں کہا کہ بے شک حقیقی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو تنقیدی محاکموں میں بہت زیادہ تنوع نظر آتا ہے۔ اس سلسلے میں کروچے کا جواب یہ ہے کہ اس تنوع کی وجہ نفسیاتی لوازمات میں تبدیلیاں ہیں۔ اس میں ناظرکے جسمی حالات کا بھی عمل دخل ہوسکتا ہے۔ اس سلسلے میں تاریخ کی تشریح سے بھی بہت کچھ تبدیل ہوسکتا ہے۔ تنوع ان تبدیلیوں کا نتیجہ بھی ہوسکتاہے جو جلد بازی، تدبر کی کمی اور نظریاتی تعصبات سے جنم لیتی ہیں۔یہ دعویٰ کہ ہم شاعر کا عین ہوجاتے ہیں نظر انداز کیا جاسکتا ہے۔ تاہم اگر ذوق سے مراد ہمارے اندر جمالیاتی محاکمے کا ظرف ہے اور اگر اس ظرف کا مطلب ہماری وہ صلاحیت ہے جو حسن کی یافت کرتی ہے۔ اورنبوغ سے مراد وہ صلاحیت ہے جو حسن کی تخلیق کرتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ سب صلاحیتیں ایک دوسرے کی مماثل ہیں۔ وجدان کے حصو ل کی استعداد کی حیثیت ہے۔ معروف افسانہ نگار عرفان علی عابدی نے کہا کہ نقاد کاپہلا کام کروچے کے نزدیک یہ ہے کہ وہ اپنے وجدان کو بیدار کرے اور اس وجدانی کیفیت کو گرفت میں لے آئے  جو کہ آرٹ کے کام کی اساس ہے۔ اس میں آدمی ناکام بھی ہوسکتا ہے۔ غلطی کا ارتکاب بھی ممکن ہے۔ناکامی کی بہت سی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ جلد بازی،نخوت، تدبر کی کمی، نظر یاتی تعصبات کی بنیاد پر نقاد اس چیز کو خوبصورت قرار دے سکتا ہے جوکہ دراصل خوبصورت نہیں ہوتی۔یہ بھی ہوسکتا ہے کہ نقادیہ جاننے میں ناکام ہوجائے کہ خوبصورتی کیا ہے۔ لیکن تکنیک اور فن کا رانہ فعلیت کے درمیان مندرجہ بالا امتیاز کو سامنے رکھیں تو نقادکا کام آرٹسٹ کے جیسا ہی نظرآتا ہے۔۔اکادمی ادبیات پاکستان کراچی کے ریزیڈنٹ ڈائریکٹر قادربخش سومرو نے کہا کہ ہم اس چیز کا جسے ایک خاص فعلیت نے پیدا کیا محاکمہ ایک دوسرے فعلیت کے حوالے سے کرسکتے ہیں۔ نقاد کم تر درجے کا فطین ہوسکتاہے۔ آرٹسٹ اس سے بڑا فطین ہوسکتاہے لیکن دونوں کی فطرت تو ایک جیسی ہی ہوتی ہے۔دانتے کا محاکمہ کرنے کے لیے اس کے درجے تک خود کو بلند کرنا ضروری ہے۔یہ تجربی طورپر اچھی طرح جان لینا چاہیے کہ ہم دانتے نہیں ہیں اور نہ ہی دانتے ہم جیسا ہے۔ لیکن اس لمحے جب ہم تفکر اور محاکمہ کرتے ہیں ہماری روح شاعری کی روح کا عین ہوجاتی ہے۔ اس لمحے ہم اوروہ ایک ہی ذات میں ڈھل جاتے ہیں۔

مزید :

صفحہ آخر -