کشمیری خواتین بدصورت بن کر گھروں سے کیوں نکلتی ہیں؟جان کر آپ کی آنکھوں میں آنسو آ جائیں گے

کشمیری خواتین بدصورت بن کر گھروں سے کیوں نکلتی ہیں؟جان کر آپ کی آنکھوں میں ...
کشمیری خواتین بدصورت بن کر گھروں سے کیوں نکلتی ہیں؟جان کر آپ کی آنکھوں میں آنسو آ جائیں گے

  

سرینگر(ڈیلی پاکستان آن لائن)مقبوضہ کشمیر کے مسلمان کس قدر اذیت ناک صورتحال سے گزر رہے ہیں اس کا اندازہ کرنا شاید عام آدمی کے بس میں ہے ہی نہیں۔بھارت کے درندہ صفت فوجیوں سے بچنے کیلئے مقبوضہ کشمیر کی خواتین گھروں سے نکلتے وقت اپنے آپ کو بدصورت بنا کرنکلتی ہیں۔

انڈیپنڈنٹ اردو نے مقبوضہ کشمیرکے باسیوں کی ایک دل دہلا دینے والی رپورٹ شائع کی ہے جس میں بتایاگیا ہے کہ درندہ صفت بھارتی فوجی کشمیر کی آبادی خصوصاً مردوں کو مغلوب کرنے کے لیے عصمت دری کو بطور ایک ٹول استعمال کرتے ہیں۔افسوس ناک بات یہ ہے کہ بعض اوقات ضعیف خواتین کو بھی نہیں بخشا جاتا۔

انڈی پنڈنٹ اردوکے مطابق نیپال میں پاکستان، سری لنکا، بھوٹان، افغانستان، ملائیشیا، بھارت، برطانیہ، سویڈن اور آسٹریلیا سے آئے ہوئے صحافیوں کی ایک ورکشاپ کے دوران کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی نے بتایا کہ ’پولیس پارٹیاں دن یا رات کے کسی بھی پہر گھروں میں گھس آتی ہیں اور خواتین کے بارے میں پوچھتی ہیں، خاص طور پر نوجوان بیٹیوں اور بہنوں کے بارے میں۔ یہ سرینگر اور دیگر شہروں میں معمول بن چکا ہے۔ ایسے واقعات سرد موسم میں مزید بڑھ جاتے ہیں جب سکیورٹی اہلکار شراب نوشی کے بعد مست اور مدہوش ہوتے ہیں۔‘

کشمیری صحافی (جن کا نام ظاہر نہیں کیا گیا )کے مطابق کہا جموں و کشمیر میں عصمت دری کے واقعات میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے اور ان واقعات کی اصل تعداد ان اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے جو منظر عام پر آتی ہے۔‘کشمیر کی صورتحال کی منظر کشی کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا: ’اگر آپ کی خواتین ہر لمحے ایسے خطرات میں گھری ہوئی ہوں تو اس سے آپ کا خون نہیں کھولے گا؟ کیا آپ انجام سے بے پرواہ ہو کر ہتھیار اٹھانے کے بارے میں نہیں سوچیں گے؟‘

ان کے مطابق ’کیا آپ جانتے ہیں کہ کشمیر میں بہت سی خواتین جب باہر نکلتی ہیں تو وہ بوڑھی اور بدصورت نظر آنے کی کوشش کرتی ہیں- اس کوشش کے باوجود بھی وہ ریپ سے نہیں بچ سکیں۔ یہ بہت افسوس ناک بات ہے کہ بعض اوقات ضعیف خواتین کو بھی نہیں بخشا جاتا۔ وہ (فوجی) کشمیر کی آبادی خصوصاً مردوں کو مغلوب کرنے کے لیے عصمت دری کو بطور ایک ٹول استعمال کرتے ہیں، تاہم اس سے انہیں مدد نہیں ملتی۔ اس کی بجائے وہ عوام میں غم و غصے کو بڑھا رہے ہیں۔ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ جب ان کشمیریوں کو موقع ملے گا تو وہ ان بدترین جرائم کا بدلہ لیں گے؟‘

انڈی پنڈنٹ کسے وابستہ صحافی لبنیٰ جرار کے مطابق ان کی سادہ سی کہانی نے کشمیری عوام کو درپیش ہولناکیوں کو ہماری آنکھوں کے سامنے لا کھڑا کیا۔ انہوں نے تقریر کرتے ہوئے ان ہولناکیوں کی جو تفصیلات بتائیں وہ ناقابل یقین تھیں اور تمام شرکا خاموشی سے یہ سب سن رہے تھے۔ آپ سننے کے سوا کر بھی کیا سکتے ہیں!

مزید :

اہم خبریں -قومی -