دعا منگی کی رہائی کیلئے تاوان کا معاملہ،اہلخانہ اور مقامی ایس ایچ او کا موقف بھی آگیا

دعا منگی کی رہائی کیلئے تاوان کا معاملہ،اہلخانہ اور مقامی ایس ایچ او کا موقف ...
دعا منگی کی رہائی کیلئے تاوان کا معاملہ،اہلخانہ اور مقامی ایس ایچ او کا موقف بھی آگیا

  



کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)کراچی کے علاقہ ڈیفنس سے اغوا ہونے والی طالبہ دعا منگی کے اہلخانہ نے ان خبروں کی تردید کی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ دعا منگی کی رہائی کیلئے اڑھائی لاکھ ڈالرز تاوان مانگا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق مختلف ٹی وی چینلز کی جانب سے خبریں گردش کرتی رہیںکہ دعا کی رہائی کیلئے مبینہ اغواکاروں کی کالز آئی ہیں اور انہوں نے دعا کو رہا کرنے کے عوض اڑھائی لاکھ ڈالرز یعنی تقریبا تین کروڑ اٹھاسی لاکھ روپے کے قریب تاون طلب کیاگیاہے۔

تاہم انڈی پینڈنٹ اردو نے ان خبروں کی تصدیق کیلئے دعا منگی کے اہلخانہ سے رابطہ کیاجس پر انہوں نے بتایا کہ انہیں اس قسم کی کوئی کال موصول نہیں ہوئی۔دعا منگی کے ماموں اعجاز منگی جو سندھ کے نامور نامہ نگار اور شاعر ہیں، انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’میں اس بات کی تردید کرتا ہوں، ابھی تک دعا کے اغوا کاروں کی جانب سے تاوان کے حوالے سے کوئی کال نہیں آئی۔ اگر پولیس کو اس حوالے سے کوئی معلومات تھی تو میڈیا کو خبر دینے کے بجائے ان کی ذمہ داری تھی کہ پہلے دعا کے اہلِ خانہ کے علم میں لائیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میڈیا کی جانب سے بے بنیاد افواہیں پھیلائی جارہی ہیں، آج نہ صرف تاوان کی افواہ پھیلائی گئی بلکہ یہ افواہ بھی سننے میں آئی کہ دعا بازیاب ہو کر گھر آ گئی ہے۔ یہ تمام باتیں جھوٹ اور بے بنیاد ہیں۔ ہم بس چاہتے ہیں کہ دعا صحیح سلامت گھر واپس آجائے۔‘

ڈیفنس میں واقع درخشاں پولیس تھانے کے ایس ایچ او اعظم گوپانگ نے بھی انہوں بھی اس افواہ کی تردید کی اور کہا’دعا کے اغواکاروں کی جانب سے فی الحال تاوان کے لیے کوئی کال نہیں آئی۔ ہم بھرپور طریقے سے اس کیس کی تحقیقات کررہے ہیں۔ ‘

انہوں نے مزید بتایا کہ ’واردات کے بعد سب سے پہلے میں نے ہی حارث فاتح کا بیان ریکارڈ کیا تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ گاڑی میں چار افراد تھے جنہوں نے اپنے چہرے ڈھکے ہو ئے تھے۔ جس گاڑی میں وہ سوار تھے وہ پرانے ماڈل کی ہنڈا سوک کار تھی۔ اس لیے حارث فاتح اور سی سی ٹی وی فوٹیجز میں دیکھی جانے والی گاڑی کی بنیاد پر فی الحال اس بات کی تصدیق کی جاسکتی ہے کہ دعا کے اغوا میں پی ای سی ایچ ایس بلاک نمبر دو سے چوری ہونے والی گاڑی ہی استعمال ہوئی ہے۔ ‘

واضح رہے کہ 20 سالہ طالبہ دعا منگی کو 30 نومبر ہفتے کی رات ڈیفنس فیز 6 کے علاقے بخاری کمرشل میں واقع ہوٹل کے سامنے سے اس وقت اغوا کیاگیاجب وہ گھر جانے کیلئے کریم کا انتظار کر رہی تھیں۔جبکہ ان کے ساتھ موجود ان کے دوست حارث کو گولی مارکرزخمی کردیاگیاتھا۔

مزید : قومی