دادومیں لڑکی کو سنگسارکرنے کامعاملہ،لڑکی کی والدہ کو رہائی مل گئی کیونکہ۔۔۔

دادومیں لڑکی کو سنگسارکرنے کامعاملہ،لڑکی کی والدہ کو رہائی مل گئی کیونکہ۔۔۔
دادومیں لڑکی کو سنگسارکرنے کامعاملہ،لڑکی کی والدہ کو رہائی مل گئی کیونکہ۔۔۔

  



دادو(ڈیلی پاکستان آن لائن)دادو میں نوسالہ لڑکی کوسنگسار کئے جانے کے مقدمے میں پیشرفت ہوئی ہے۔پولیس کا کہنا لڑکی کی والدہ لیلیٰ رند کو دوروز قبل شامل تفتیش کیاگیا تھا تاہم ان کا ریمانڈ ختم ہونے پر اسے رہا کردیاگیا۔جبکہ لڑکی کے والدعلی بخش رند،مولوی ممتاز لغاری اورسہولت کارتاج محمدرستمانی سے تفتیش جاری ہے۔پولیس کے مطابق مقدمے میں نامزد تین گرفتار ملزمان کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ بھی حاصل کرلیا گیا ہے جبکہ دیگر2ملزمان سمیع اللہ اورنوازرند کی گرفتاری کیلئے سندھ اوربلوچستان میں تلاش جاری ہے۔پولیس کے مطابق ملزم تاج محمد رند نے سندھ ہائیکورٹ سے ضمانت قبل از گرفتاری لے لی ہے۔

واضح رہے سندھ کے ضلع دادو میں جوہی کے علاقے میں کاروکاری کے الزام میں گیارہ سال کی بچی کو بے دردی سے سنگسار کر دیا گیا۔سندھ پولیس کا کہنا ہے کہ دادو کے علاقے جوہی میں 21 نومبر کی شام کو ایک گیارہ سالہ لڑکی کو کاری قرار دے کر سنگسار کیا گیا اور پھر دفنا دیا گیا، لڑکی کے قتل کا مقدمہ بھی درج ہے۔پولیس کے مطابق لڑکی کے والدین اور 2 سہولت کاروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے مختلف پہلوو¿ں سے مقدمے کی تفتیش کر رہے ہیں۔پولیس نے لڑکی کا نمازِ جنازہ پڑھانے والے پیش امام کو بھی گرفتار کررکھا ہے جبکہ بچی کی والدہ کا دعویٰ ہے کہ ان کی بیٹی کی موت حادثاتی طور پر پتھریلا تودہ گرنے سے ہوئی۔

مزید : قومی