اب تک کتنی پاکستانی لڑکیوں کو دلہن بنا کر چین میں بیچا جاچکا ہے؟ انتہائی شرمناک رپورٹ سامنے آگئی

اب تک کتنی پاکستانی لڑکیوں کو دلہن بنا کر چین میں بیچا جاچکا ہے؟ انتہائی ...
اب تک کتنی پاکستانی لڑکیوں کو دلہن بنا کر چین میں بیچا جاچکا ہے؟ انتہائی شرمناک رپورٹ سامنے آگئی

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) چند ہفتے قبل پاکستانی لڑکیوں کی چینی مردوں کے ساتھ شادیوں کا غلغلہ مچا لیکن پھر حسب روایت جلد ہی یہ سنگین ایشو پاکستانیوں کی توجہ سے محو ہو گیا۔ اب ایسوسی ایٹڈ پریس نے اس حوالے سے ایسا شرمناک انکشاف کر دیا ہے کہ سن کر آپ پریشان ہ جائیں گے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس نے بتایا ہے کہ چینی مردوں کے ساتھ شادی کے بہانے پاکستانیوں لڑکیوں کو فروخت کرنے کی شرح میں کمی آنے کی بجائے تیزی آ رہی ہے اور اب تک 629پاکستانی لڑکیاں چینی مردوں کو فروخت کی جا چکی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ فہرست پاکستانی تحقیق کاروں کی طرف سے مرتب کی گئی ہے جو انسانی سمگلنگ کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ رواں سال جون میں یہ فہرست مرتب کی گئی اور تحقیق کاروں نے چینی مردوں کو لڑکیاں فروخت کرنے والے نیٹ ورکس کو بے نقاب کرنے کے لیے کام تیز کر دیا لیکن پھر اچانک انہیں اپنی تحقیقات روکنی پڑ گئیں۔ اس معاملے سے آگاہ حکام کا کہنا ہے کہ ”پاکستانی حکومتی عہدیداروں کی طرف سے شدید دباﺅ کے باعث یہ تحقیقات روکی گئیں کیونکہ وہ چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات خراب نہیں کرنا چاہتے۔ “ اس معاملے میں سب سے بڑا سمگلنگ نیٹ ورک رواں سال اکتوبر میں پکڑا گیا ۔ اس گروہ میں 31چینی باشندے تھے جنہیں فیصل آباد کی ایک عدالت نے بری کر دیا تھا۔ اس کیس میں کئی پاکستانی لڑکیاں پہلے انٹرویوز دے چکی تھیں لیکن جب بات عدالت میں پہنچی تو انہوں نے پولیس کو بیانات ریکارڈ کرانے اور عدالت میں گواہی دینے سے انکار کر دیا۔ ان لڑکیوں کو رشوت دے کر یا ڈرادھمکا کر خاموش کرا دیا گیا۔

اس کیس پر کام کرنے والے ایک پولیس آفیسر نے بتایا کہ ”دو لڑکیوں نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر پولیس کے ساتھ بات کی تھی۔ انہیں خطرہ تھا کہ اگر ان کا نام سامنے آگیا تو انہیں انتقامی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔“مسیحی کارکن سلیم اقبال کا کہنا ہے کہ ”حکومت کی طرف سے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی پر بھی شدید دباﺅ ہے جس کی وجہ سے انہیں اپنی تحقیقات روکنی پڑ گئیں۔ایف آئی اے کے کئی حکام کے تو تبادلے کر دیئے گئے تاکہ انہیں اس معاملے میں تحقیقات سے باز رکھا جا سکے۔جب ہم پاکستانی حکمرانوں سے اس معاملے پر بات کرتے ہیں تو وہ توجہ ہی نہیں دیتے۔“

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -