’میں 5 سال تک بھی یہ بات کرتا رہوں گا کہ ۔۔۔‘ وزیر اعظم نے واضح اعلان کردیا، اپنے اس عمل پر ڈٹ گئے جس پر انہیں سب سے زیادہ تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے

’میں 5 سال تک بھی یہ بات کرتا رہوں گا کہ ۔۔۔‘ وزیر اعظم نے واضح اعلان کردیا، ...
’میں 5 سال تک بھی یہ بات کرتا رہوں گا کہ ۔۔۔‘ وزیر اعظم نے واضح اعلان کردیا، اپنے اس عمل پر ڈٹ گئے جس پر انہیں سب سے زیادہ تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ وہ 5 سال تک بھی یہ کہتے رہیں گے کہ اُنہیں ادارے خسارے میں ملے،اِن کی ساری توجہ معیشت کی بہتری پر ہے اور اب عالمی ادارے معیشت میں بہتری کا اعتراف کر رہے ہیں، پاکستان میں ڈیجیٹل ا نفراسٹریکچر کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے ،  پاکستان کی بہتری کیلئے کام کرنا چاہتے ہیں  لیکن پہلے وژن  نہیں تھا،ڈیجیٹلائزیشن  ہمارا خواب تھا،آنے والے دنوں میں حکومت کی پوری توجہ ڈیجیٹل پاکستان پر ہوگی،اِس سے عام آدمی کی زندگی میں آسانی آئے گی۔

وزیر اعظم ہاؤس میں ’’ڈیجیٹل پاکستان وژن‘‘ کی افتتاحی تقریب سےخطاب کرتےہوئےوزیراعظم عمران خان نےکہاکہپہلے میں  بھی اوورسیز پاکستانی تھا کیونکہ میں نےعمر کا زیادہ تر حصہ بیرون ملک گزارا ر ، زندگی کا مقصد طے کرنے والے لوگ  ترقی کرتے ہیں،دنیا میں وہی لوگ  کامیاب ہوتے ہیں جو مشکل فیصلے  کرتے ہیں، چیلنجز قبول کرنا ہی اصل زندگی کا مقصد ہے،اِنسان بوڑھا ہی تب ہوتا ہےجب چیلنجز ختم ہو جاتے ہیں،زندگی کا ہر روز آگے بڑھنے کا زینہ ہے،کسی پیغمبر کی زندگی آسان نہیں  تھی ،اُن سب نے مشکل  راستہ اختیار کیا،ہمارے نبی ﷺپر بہت آزمائشیں آئیں، دنیا میں تمام بڑے لوگوں نے زندگی میں مشکلات کا سامنا کیا،بڑا فیصلہ وہ ہوتا ہے جس میں رسک ہوتا ہے،چھوٹا فیصلہ اپنی ذات کیلئےاوربڑافیصلہ اِنسانیت  کیلئےہوتاہے،آسان راستہ زندگی میں بہتری  نہیں لاتا۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہمجھے ڈیجیٹل پاکستان   پرپہلے توجہ دینی چاہیے تھی ،یہ پاکستان اور خاص کر ہمارے نوجوانوں  کیلئے سب سے زیادہ فائدے  مند ہے، مجھے شروع سے ہی اس پر توجہ دینی چاہیے تھی ،میں بار بار کہتا  رہا ہوں  ہمیں بڑا مشکل وقت  ملا اور یہی الفاظ آپ مجھ سے 5 سال سنتے  رہیں گے کہ  تمام ادارے خسارے میں تھے اور  ہمیں کتنا بڑا خسارہ ملا ؟پہلے تو کرنٹ اکاؤنٹ ڈیفسیٹ کا کسی کو علم ہی نہیں تھا ،اب ہر کوئی جانتا  ہے ،ہمیں ہر طرف  خسارہ ہی خسارہ ملا ،ہر ادارے میں خسارہ تھا، خسارے کاہمارےروپے پردباؤ تھا،اَب  ہماری  حکومت نےکرنٹ اکاؤنٹ خسارے پرقابوپالیا ہے،میری ساری توجہ اقتصادی استحکام پرمرکوزہوگئی ہے،  جب تک روپیہ مستحکم نہیں ہوتا سرمایہ کاری نہیں آتی، ہماری معیشت بہتر ی کا اعتراف عالمی مالیاتی ادارے بھی کررہے ہیں،اب ہم ڈیجیٹل پاکستان  پر پورا زور لگائیں گے،ڈیجیٹل پاکستان کی وجہ سے ہماری نوجوان آبادی  ہماری طاقت بن جائے گی،خواتین اس میں پوری طرح حصہ لے سکتی ہیں،ڈیجیٹل پاکستان  ہمارے لئے ایک بہت بڑا موقع ہے، انشاء اللہ اب ہم اس کا پورا فائدہ اٹھائیں گے۔

اُنہوں نے کہاکہ کرپشن ہمیشہ اوپر سے شروع ہوتی ہے، اوپر کی سطح پر کرپشن کرنے والے  باہر چلے گئے ہیں،جب ڈالر لندن منتقل ہو رہا ہو تو روپے پر اثر پڑتا ہے ،

اَب کرپشن نیچے تک پہنچ چکی ہے،کرپشن ختم کرنے کا سب سے بہترین طریقہ ای گورننس  ہے،جب عوام کا تعلق گورنمنٹ کے ساتھ ہوتا ہے توعوام کیلئے آسانی پیدا ہو جاتی ہے،دنیا بڑی تیزی سے آگے جارہی ہے ،ایک وقت آئے گا کہ موبائل فون پر ہی سب کچھ ہو جائے گا،ای گورننس  عوام کی زندگی آسان کرنے کا سب سے بہترین ذریعہ ہے،شوکت خانم میں 19سال پہلے ای گورننس  لائے،جس سے یکدم ادارہ تبدیل ہوگیا،ای گورننس  کی راہ میں بڑی مزاحمت اور رکاوٹیں آرہی ہیں ،ادارے اسے روکنے کی پوری کوشش کررہے ہیں لیکن بالآخر ہم ضرور کامیاب ہوں گے،انشاء اللہ اب ہماری حکومت ڈیجیٹل پاکستان  پر پورا زور لگائے گی،ڈیجیٹلائزیشن  سے  عام آدمی کی زندگی میں آسانی آئے گی۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں نے اقتدار سنبھالتے ہی کہا تھا کہ گھبرانا  نہیں ہے، بعض  گھبرا گئے تھے اور ابھی بھی گھبرا رہے  ہیں لیکن انشاء اللہ  آئندہ بہتر سے بہتر حالات ہوں گے،اَب آہستہ آہستہ  ہمیں بھی سمجھ آگئی ہے کہ گورننس  میں کیا کیا مشکلات تھیں؟ہم بتدریج  اس ملک کو آگے  لے کر جائیں گے،سب سے بڑی خوشی ہے کہ پاکستان اس وقت عالمی سطح پر امن قائم کرنے والا بن گیا ہے،ہم اُمتِ مسلمہ کو اکٹھا کرنے میں پورا کردارادا کریں گے،آخر میں یہی کہوں گا کہ گھبرانا نہیں اچھا وقت آنے والا ہے اور ضرور آئے گا۔

مزید : قومی /سیاست /علاقائی /اسلام آباد /اہم خبریں