قانون سازوں کی عمارت پر چوہوں کا قبضہ

قانون سازوں کی عمارت پر چوہوں کا قبضہ
قانون سازوں کی عمارت پر چوہوں کا قبضہ

  



اسلام آباد(صباح نیوز) قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے ارکان کی شکایات پر پارلمنٹ ہاؤس اور لاجز میں چوہے مارنے کا حکم جاری کردیا،ارکان نے  کہا ہے کہ چھتیں  ٹپک رہی ہیں ، کیفے ٹیریا میں چوہے  دوڑ رہے ہیں،دیواریں بوسیدہ اور لاجز میں کھانا غیر معیاری ہے ، کیاریاں سوکھ رہی ہیں،مالی کہاں ہیں؟ آکسیجن کی کمی کے باعث لائبریری اور ریسرچ ونگ میں گھٹن ہے،ڈپٹی سپیکر نے معاملات کو ہاؤس اینڈ لائبریری کمیٹی کے سپرد کردیا ہے جبکہ ڈائریکٹر سی ڈی اے سے  بھی کارکردگی رپورٹ طلب کرلی گئی ہے۔

قومی اسمبلی کے  وقفہ سوالات کے دوران ارکان  نے پارلیمنٹ کے   زیرو فلور لائبریری ،ریسرچ اور دیگر مقامات پر آکسیجن کی کمی کا معاملہ اٹھایا تھا اور کہاکہ  دوہزار سے زائد ملازمین  ہیں گھٹن کا ماحول ہے جو سانس اور دل کی بیماریاں کو موجب ہوسکتا ہے ۔ پی پی پی کی رکن شاہدہ رحمانی  نے کہاکہ پارلیمنٹ ہائوس کے کیفے ٹیریا میں چوہے دوڑ رہے ہیں ،  ملازمین کہاں ہیں۔  تحقیقات کروائی جائیں۔کہیں گھوسٹ ملازم نہ ہوں کہیں اور ڈیوٹی نہ کررہے ہوں۔ گرائونڈ فلور پر سانس لینا محال ہوتا ہے ۔ باتھ روم گندے ہیں ،صفائی کا عملہ کہاں ہے ۔چوہے دوڑ رہے ہیں عملہ کہاں ہے؟دیواریں بوسیدہ ہیں کارپینٹر کہاں ہیں؟پارلیمنٹ ہائوس  کی کیاریاں سوکھ رہی ہیں  مالی کہاں ہیں؟ پارلیمنٹ  لاجزز دونوں جگہوں  پر بدترین حالات ہیں ۔ مولانا عبدالاکبر چترالی نے کہا کہ ٹیلی  فون  کیے جاتے ہیں لیکن کوئی  نہیں سنتا ، پارلیمنٹ لاجز سے  تمام ملازمین کے تبادلے کیے جائیں،کھانا غیر معیار ی ہے ،خصوصی کمیٹی بنائی جائے  مکمل سروے کرکے  مفصل رپورٹ پیش کی جائے ۔ ڈپٹی سپیکر نے کہاکہ ارکان کی شکایات درست ہیں،فرخ حبیب کی سربراہی میں  سب کمیٹی بنا ئی گئی ہے،ڈائریکٹر سی ڈی اے معاملات کو  سنجیدگی سے لیں،پارلیمنٹ  ہاؤس اور لاجز میں چوہے مار دوائی کا سپرے کیا جائے۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد