190 ملین پاونڈ والا کیس الگ اور شریف فیملی کے کیسز الگ ہیں،آنیوالے دنوں میں مزید خوشخبریاں ملیں گی:بیرسٹر شہزاد اکبر

190 ملین پاونڈ والا کیس الگ اور شریف فیملی کے کیسز الگ ہیں،آنیوالے دنوں میں ...
190 ملین پاونڈ والا کیس الگ اور شریف فیملی کے کیسز الگ ہیں،آنیوالے دنوں میں مزید خوشخبریاں ملیں گی:بیرسٹر شہزاد اکبر

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاداکبر نے کہا ہے کہہم اپنے ٹاسک پر کام کر رہے ہیں،آنیوالے دنوں میں مزید خوشخبریاں ملیں گی،190 ملین پاونڈ والا کیس الگ ہے،شریف فیملی کے کیسز الگ ہیں،جن کیسزکی باہرپیروی کررہےہیں ان میں بہت سی ایسی باتیں ہیں جس پربات نہیں کی جاسکتی۔

نجی ٹی وی  کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ2018 میں برطانیہ کے سیکریٹری داخلہ جسٹس اینڈ اکاونٹیبلٹی کامعاہدہ ہواتھا،جتنے کیسز ہیں جسٹس اینڈ اکاونٹیبلٹی کے دائرہ کارمیں پیروی کر رہے ہیں،مختلف قوانین ہیں اور مختلف کیسز کی نوعیت بھی مختلف ہوتی ہے،این سی اے کی پریس ریلیز میں ہے کہ پیسا حکومت کو ملے گا،کیس میں جوپیسےملےہیں معاہدہ طےہواہےکہ مزیدتفصیلات نہیں بتاسکتے،این سی اےکی پریس ریلیزمیں جو بتایاگیا اس سےزیادہ نہیں بتاسکتے،جن کیسزکی باہرپیروی کررہےہیں ان میں بہت سی ایسی باتیں ہیں جس پربات نہیں کی جاسکتی،بیرون ملک ایجنسی کےساتھ کام کرتےہیں توان کےقوانین کےساتھ چلناپڑتاہے۔اُنہوں نے کہا کہمیری پریس ریلیزمیں ہےکہ سیٹلمنٹ میں جوپراپرٹی ہےوہ پہلےحسن نوازکی تھی ،ون ہایئڈپارک مارچ2016میں فروخت کی گئی،یہ پراپرٹی حسن نواز سےخریدی گئی تھی،مزیدتفصیلات میں نہیں جاسکتا،پہلےوالےایپیسوڈمیں کیاکام ہورہاہےوقت آنےپربتائیں گے،پریس ریلیز کی حد تک ہی اس کیس پربات کی جا سکتی ہے،جوکیسزپاکستان کےدائرہ کارمیں ہیں ان پرہم بات کرسکتےہیں اوربات کرتےہیں۔بیرسٹر شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ اگر ایک کیس میں ہمیں کامیابی ہوتی ہے تواس کی مختلف حکمت عملی ہوتی ہے،ایون فیلڈکیس کو بھی دیکھ رہےہیں،ایون فیلڈ کیس میں حتمی فیصلہ نہیں ہے،اس لیےفریزنگ نہیں کرسکتے،مختلف کیسز کو آگے بڑھا رہےہیں لیکن یہ سیٹلمنٹ کامعاملہ ہے،این سی اے کی پریس ریلیز میں ہے کہ پیسا حکومت کو ملے گا،اس پیسے کو آنے والے دنوں میں کیسے خرچ کیا جائے گا بعد میں پتا چلے گا،ملک ریاض جو بھی کہہ رہے ہیں لیکن این سی اے کیا کہہ رہے وہ دیکھیں،سٹیٹ بینک میں کوئی پیسے نہیں جاتے وہ ایک ریگولیٹر ہے،یہ ٹرانزیکشن کاصرف ایک حصہ ہےاس سےپہلے بھی ٹرانزیکشن کاحصہ تھا،جیسے یہ پیسے آئے آگے بھی آ سکتے ہیں،آؤٹ آف کورٹ سیٹلمنٹ کرسکتے ہیں ،رقم کی وصولی کیساتھ رازداری کےمعاہدےپربھی دستخط کیے گئےہیں۔

مزید : قومی


loading...