احساسِ زیاں۔زیاں سے پہلے

احساسِ زیاں۔زیاں سے پہلے
احساسِ زیاں۔زیاں سے پہلے

  

ملکہ ہانس، ضلع پاکپتن کے دیہی طِبّی مرکز تک، بڑی سڑک سے رسائی نہ ہونے کی وجہ سے، مریضوں اور اُن کے سہولت کاروں کو شدید دشواری پیش آتی تھی۔2009ء میں یہ معاملہ ڈسٹرکٹ کوآرڈی نیشن آفیسر (ڈی سی او)میاں ذوالفقار احمد کے علم میں لایا گیا۔ انہوں نے اپنے ماتحت، تحصیل اور ضلعی سطح کے اَفسرانِ مال کو حکم دیا کہ وہ سرکاری طریقہ کے تحت زمین کے حصول کی بجائے بڑی سڑک سے متّصِل زمین کے مالک کو قائل کریں کہ وہ طِبّی مرکز تک مریضوں کی آسان اور فوری رسائی کو یقینی بنانے کے لئے اپنی زمین میں سے پختہ راستہ دینے پر، ازخود آمادہ ہوجائے۔حکم کی بجا آوری کے لئے پٹواری سے لے کر، ضلع کے سب سے بڑے مالیاتی افسرتک،سب نے اپنے تئیں زمیندار کو قائل کرنے کے لئے ہر اخلاقی طریقہ استعمال کیا، مگر بارآوری نہ ہو سکی۔ اپنے ماتحت اَفسروں کی ناکامی پر ڈی سی اونے پٹواری کے ذریعے زمیندار کو اپنے دفترچائے پر مدعو کیا، جسے زمیندار نے قبول کر لیا۔ چائے کے دوران خیرو عافیت کے تبادلے اور ہلکی پھلکی گپ شپ کے بعد ڈی سی او نے زمیندار سے پوچھا:”بابا!آپ کے والدحیات ہیں یا انتقال فرما چکے ہیں؟“ 

بابا:”وہ فوت ہو چکے ہیں“

 ڈی سی او:”جو زمین آپ کی ملکیت ہے، آپ نے خود خریدی تھی یا والدین سے وراثت میں ملی تھی؟“

بابا: مجھے وراثت میں ملی تھی“ 

ڈی سی او:”آپ کے کتنے بچے ہیں؟“

 بابا: ”چاربیٹے ہیں“

 ڈی سی او:”اپنے بعد یہ زمین کس کو منتقل کرنا چاہیں گے؟“

بابا:”ظاہر ہے،اپنے بیٹوں کو“

ڈی سی او:”آپ اپنے والدین کی قبر پر فاتحہ کے لئے جاتے ہیں؟“

بابا:”اُچیچا تو کبھی نہیں گیا۔ البتہ کسی جنازہ کے ساتھ قبرستان جانا ہو تو اپنے والدین کی قبر پر بھی ہاتھ کھڑے کر آتا ہوں“

ڈی سی او:”اپنے کسی بیٹے پر اُمید ہے کہ وہ آپ کی قبر پر باقاعدگی سے فاتحہ پڑھنے جائے گا، آپ کے لئے روزانہ دعائے مغفرت کرے گا یا آپ کے ایصالِ ثواب کے لئے صدقہ و خیرات کا اہتمام کرے گا؟“

ڈی سی او کا یہ سوال بابا کو پریشان کر گیا۔ وہ تذبّذب میں بولا:”جب مَیں نے اپنے والدین کے لئے ایسا کبھی نہیں کیا تو مجھے اپنی اولاد پر بھی توقع نہیں ہے“ 

لوہا گرم ہو چکا تھا۔ ڈی سی او نے اِسے مقصد میں ڈھالنے کے لئے ضرب لگائی۔

 ”باباجی!کتنی حیرت کی بات ہے،ہم اپنی جائیداد اُن لوگوں کے نام لگواتے ہیں، جن پر ہمیں اتنی بھی توقع نہیں ہوتی کہ ہمارے مرنے کے بعد قبر پر جا کر دعائے مغفرت کرلیں یا ایصالِ ثواب کے لئے دس روپے کسی کی مالی مدد کر دیں۔اپنی ہی مثال لے لیجئے! آپ اُن مریضوں کے لئے چند کنال زمین وقف نہیں کرنا چاہتے، جن کا ایک ایک قدم آپ کے لئے مغفرت اور ثواب کا چشمہ بن کر پھوٹے گا۔وقت پر طبّی مرکز پہنچنے کے باعث جتنی جانیں بچیں گی،روز قیامت آپ کے لئے جنّت الفردوس کا حصول یقینی بنانے کا موجب ہوں گی“۔

ڈی سی اوکے الفاظ میں اتنی گیرائی تھی کہ باباجی کے منہ سے بے ساختہ نکلا ”پٹواری کو ادھر ہی بلائیں“۔

اس طرح بابا کی رضامندی سے اُس کی زمین سے رستہ نکال کر طبّی مرکز، ملکہ ہانس، کوبڑی سڑک کے ساتھ ملا دیا گیا۔

یہ تفصیلی واقعہ بیان کرنے کا مقصد نہ تو کسی سرکاری اَفسر کی ذاتی پذیرائی ہے اور نہ ہی ماتحت اَفسروں کی رسوائی ملحوظِ نظر ہے۔ اس واقعہ سے جو بات راقم الحروف نے پلّے باندھی اور جسے قارئین سے شیئر کرنا مقصود ہے وہ یہ کہ آج بھلے ہم سرکاری محکموں میں، کسی بھی درجے پر فائز ہوں یا کسی بھی نوعیّت کا ذاتی کاروبار چلاتے ہوں، بالعموم ہماری خواہش ہوتی ہے کہ تھوڑے وقت میں بہت زیادہ کما لیا جائے، خواہ اس کے لئے ہمیں کسی کی جیب کاٹنی پڑے، اپنے ضمیر کو تختہ دارپر لٹکانا پڑے، کسی کے کانوں کی بالیاں، کسی کا دوپٹہ یا کسی کے سہاگ کا لہنگا مجبوری کی منڈی میں نیلام کراناپڑے۔ اس کا ہمارے پاس بس ایک ہی جواز ہوتا ہے کہ ہمارے مرنے کے بعد ہماری اولاد کے پاس اپنا گھر، گاڑی، اعلیٰ مرتبہ، مضبوط اور مستحکم مالی حیثیت ہو، مگر ہم یہ بات یکسر بھول جاتے ہیں کہ جن کویہ سب کچھ فراہم کرنے کے لئے مجبوروں کی بے بسی میں اپنی ہوس اور طمّع کے خونیں پنجے گاڑتے ہیں، اُن پریہ توقع بھی نہیں کہ وہ ہماری موت کے بعدکبھی ہماری قبر پر دونوں ہاتھ اٹھا کر رب سے ہماری بخشش کے طلب گار ہوں گے یا کبھی ہماری روح کے ایصالِ ثواب کے لئے کسی فقیر کو خُوش دِلی سے دس روپے خیرات دے دیں گے۔ اگر ہمیں اس بات کا یقین نہیں ہے، تو ہمیں اس بات کا یقین ضرور ہونا چاہئے کہ جن کی مجبوریوں کو ہم نے اپنا رزقِ ہوس بنایا،اُن کی آہیں روزِ قیامت ہمیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر جہنم کے دروازے کی طرف دھکیل رہی ہوں گی۔

عملی زندگی میں بارہا دیکھنے میں آیا ہے کہ والدین کی ریٹائرمنٹ کے بعدیااُن کے ضُعف ِ عمر کو پہنچنے پر اولاداُن کے سامنے اُن کی عُمر بھر کی کمائی کو سامانِ تعیّش اور کردار باختگی پرلُٹادیتی ہے اور والدین کی موجودگی اُ ن کے لئے ہونا نہ ہونا برابر ہوتی ہے۔تب والدین کے بس میں نہیں ہوتاکہ اُنہیں ایسا کرنے سے روک سکیں۔اُدھر اُن کے اندر ایک عجیب سی ذہنی کشمکش پڑاؤ ڈال لیتی ہے۔ جُوں جُوں اَجزائے بدن اَذانِ رَفتگی دیتے جاتے ہیں،تُوں تُوں ضمیر کی اَتھاہ گہرائی میں دفن احساس کی چنگاری سلگتے چلی جاتی ہے۔ پچھتاوا تَصرّفِ خیال بن جاتا ہے کہ کاش اولاد کو کَسب ِ حلال پر پالا ہوتا، کھوکھلی نمودونُمائش پر استوار زندگی سے دور  رکھا ہوتا، اپنی تسکین ِ حرص کے لئے لوگوں کے گھر گروی نہ رکھوائے ہوتے، مجبور ضرورت مندوں کے چولہے ٹھنڈے نہ کیے ہوتے، مگر گیا وقت کیسے واپس آسکتا ہے؟کیونکہ احساسِ زیاں کا زیاں سے پہلے ہونا ہی زیاں کو روک سکتا ہے، جن کے پاس ابھی وقت ہے وہ اپنے آپ کو پچھتاوے کی بھٹی میں جھلسنے سے بچانے کا اہتمام کر سکتے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -