طالبان…… افغان حکومت معاہدہ

طالبان…… افغان حکومت معاہدہ
طالبان…… افغان حکومت معاہدہ

  

حال ہی میں طالبان اور افغان حکومت کے درمیان تین صفحات پر مشتمل ایک معاہدہ ہوا ہے۔ یہ امریکی افواج کی واپسی کے بعد افغان معاملات نمٹانے کے عمل کا آغاز ہے،یعنی طالبان اور افغان حکمران یہ طے کریں گے کہ افغانستان میں حکمرانی کا انداز کیا ہو گا؟ تخت ِ کابل پر کون براجمان ہو گا؟ وہ کیسے ہو گا؟ وغیرہ وغیرہ ایسے تمام معاملات بات چیت کے ذریعے طے ہوں گے۔یہ سب کچھ جو ہونے جا رہا ہے، طالبان امریکہ امن معاہدے کا حصہ ہے اس معاہدے کے مطابق 15جنوری 2021ء تک امریکی افواج کی تعداد صرف اڑھائی ہزار نفوس تک رہ جائے گی۔ امریکی افغانستان میں جنگی مشن ختم ہو جائے گا، صرف دو اڈے قائم رہیں گے تاکہ یہاں کسی بھی دہشت گرد تنظیم یا گروہ کے طاقت پکڑنے کے عمل کو  روکا جا سکے۔

معاہدے کے حوالے سے امریکہ نے بہت خوش کن توقعات کا اظہار کیا ہے۔ امریکی مذاکرات کار زلمے خلیل زادے نے اس معاہدے پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اسے افغانستان میں قیام امن کی کاوشوں میں ایک بڑی پیشرفت قرار دیا ہے۔پاکستان نے اس پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔مبصرین اسے ایک بہت بڑا بریک تھرو قرار دے رہے ہیں اور افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے مثبت پیش رفت کہہ رہے ہیں۔افغانستان کی جاری صورتِ حال میں یہ معاہدہ ایک ایسے عمل کی ابتدا ہے، جس کا انجام یا انتہا قیام امن ہو سکتا ہے۔افغانستان میں معاملات کو قیام امن کے لئے جاری کاوشوں کو مثبت سمت میں لے جانے کے لئے پاکستان کا کردار انتہائی اہم ہے، سب سے اہم بات طالبان کو مذاکرات کی میز تک لانا تھا۔طالبان آخری امریکی سپاہی کے افغانستان کی سرزمین سے انخلا تک جنگ بندی کے لئے راضی نہیں ہو رہے تھے،اولاً تو وہ امریکیوں کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات کے لئے تیار نہیں تھے۔وہ مسئلہ افغانستان کو امریکی مداخلت سے جوڑتے تھے ان کے بقول افغانستان میں معاملات کا بگاڑ، غیر ملکی افواج کی مداخلت سے شروع ہوا وگرنہ اس سے پہلے یہاں، طالبان کی حکمرانی میں امن و امان قائم تھا۔منشیات کی پیداوار اور ترسیل کا مکمل طور پر قلع قمع کر دیا گیا تھا۔ افغان معاشرہ امن و سکون کا گہوارہ تھا اِس لئے اب اگر یہاں امن قائم ہوتا ہے تو وہ جارح افواج کے انخلا سے مشروط ہو گا“۔امریکی یہاں سے واپس جانے کو ”قانونی“ بنانے کے لئے طالبان کے ساتھ مذاکرات کا ڈول ڈالنا چاہتے تھے۔ پھر امریکیوں نے مذاکرات کے لئے  ”جنگ بندی“ کی شرط بھی رکھی تھی جسے طالبان کسی صورت بھی ماننے کے لئے تیار نہیں تھے۔ پاکستان نے یہ کام کر دکھایا۔تاریخ نے دیکھا کہ دوحا (قطر) میں طالبان۔امریکہ مذاکرات ہوئے اور امریکیوں کو افغانستان سے ”بحفاظت“ نکلنے کی راہ ملی۔طالبان نے معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد کیا اور اب زیر بحث امن معاہدہ بھی اسی معاہدے کی ایک کڑی ہے۔ طالبان۔ امریکہ معاہدے کا ایک حصہ ہے، جس پر طالبان ”اپنی صدیوں پرانی تاریخ“ کے برعکس عمل کر  رہے ہیں۔

 افغانوں نے اپنے دشمن کے دوست کے ساتھ کبھی مذاکرات نہیں کئے، انہیں شراکت اقتدار کا تجربہ بھی نہیں ہے، افغانستان میں ہمیشہ حصولِ اقتدار ہوتا ہے طاقتور حکمران ہوتا ہے، افغانوں کو اطاعت پر آمادہ نہیں مجبور کیا جاتا ہے اور ایسا طاقت کے ذریعے ہی ہوتا ہے۔ ایسے تاریخی پس منظر میں معاہدہ بڑی عجیب شے معلوم ہوتی ہے، کیونکہ تاریخی اعتبار سے حقائق میں سر مو تبدیلی نہیں ہوئی ہے، حالات اور واقعات ویسے ہی چل رہے ہیں جیسے صدیوں سے چلتے آئے ہیں۔ پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ طالبان اپنی تاریخ کے برعکس عمل کریں، لیکن بظاہر ایسا لگ  رہا ہے کہ وہ شراکت ِ اقتدار کی طرف بڑھ رہے ہیں۔تاریخ افغانستان کے ایک ادنیٰ طالب علم اور دانش جو کے طور پر میرا یہ خیال ہے کہ یہ معاہدہ، اس تاریخ سے انحراف نہیں ہے،کیونکہ افغان مدّ ِمقابل کو شکست دینے کے لئے جو چالیں چلتے رہے ہیں۔ یہ معاہدہ بھی اس قسم کی چال ہوسکتا ہے۔19سالہ جدوجہد کے ذریعے انہوں نے امریکہ کو نکال باہر کیا ہے۔ اب طالبان اِس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ افغان حکومت کسی قسم کی بیرونی سرپرستی سے تہی دامن ہو جائے۔امریکی یہاں سے نکل جائیں، دیگر غیر ملکی افواج بھی بوریا بستر سمیٹ کر نکل جائیں تو پھر افغان اپنے معاملات خود درست کریں گے۔افغان حکومت امریکی اور اتحادی افواج کی سرپرستی میں بھی طالبان سے خوفزدہ رہتی تھی،ان کی مدد اور سرپرستی کے بغیر تو افغان حکمران کو اپنا وجود برقرار رکھنا مشکل ہی نہیں، بلکہ ناممکن ہو جائے گا۔ تاریخ کا یہ سبق ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔امید واثق ہے کہ تاریخ یہاں بھی دہرائی جائے گی۔ دیکھتے ہیں تاریخ کے بطن سے اب کیا نکلتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -