میر ظفراللہ خان جمالی، اک عہد تمام ہوا

میر ظفراللہ خان جمالی، اک عہد تمام ہوا
میر ظفراللہ خان جمالی، اک عہد تمام ہوا

  

سابق وزیراعظم جناب میر ظفراللہ جمالی کی رحلت سے سیاست میں شرافت، متانت اور وضع داری کا ایک باب تمام ہوا۔میری خوش قسمتی تھی مجھے ان کے زیرسایہ کام کرنے کا موقع ملا، جب وزیراعظم بنے تو مسلم لیگ ہاوس میں اپنے دفتر میں موجود اپنے ایک عظیم دوست سے کہا کہ مجھے کچھ نصیحت کرو،انہوں نے سامنے نظر آتے مارگلہ پہاڑ کی طرف اشارہ کیا ”ظفراللہ، آپ کو مارگلہ کی وہ چوٹی دکھائی دے رہی ہے نا، اب تم وہاں پہنچ گئے ہو، یہ یاد کر لو کہ آپ نے اب واپس اترنا ہے، اب آپ پہ منحصر ہے کہ واپسی کا سفر کتنے سلیقے اور طریقے سے طے کرتے ہو“۔اپنے سیاسی کیریر میں شہرت، اختیار اور بلندی کی انتہا پر پہنچ گئے ہو، جتنی انکساری دکھاو گے اتنی دیر اقتدار میں رہو گے“۔میر ظفر اللہ کا دور اقتدار اگرچہ،  اختیارات کی تقسیم کی  کئی گرہوں میں بٹا ہوا تھا،وہ فیصلوں میں جنرل مشرف، ان کے معتمد خاص طارق عزیز، پارٹی سربراہ چودھری شجاعت حسین کے محتاج ہوتے تھے، مگر پھر بھی چیف ایگزیکٹو کی طاقت میں کسی صورت، کسی کی حاکمیت تسلیم نہیں کرتے تھے۔ 

ڈاکٹر عبدالقدیر کی امریکہ حوالگی کے مشرف فیصلے خلاف ڈٹ گئے، کرنسی نوٹ پر مشرف کی تصویر چھپنے نہیں دی،مشرف کی روشن خیال پالیسیوں کے خلاف بوڑھا بلوچ پوری جرات سے ڈٹا رہا، قادیانی لابی کو لگام ڈالے رکھی،وہ لابی اس وقت ان کے خلاف پوری شدت سے سرگرم ہو گئی جب ایک دفعہ ایوان صدر سے انہیں ایک مقتدر شخصیت کے قریبی عزیز کے جنازے میں شرکت کے بارے میں آگاہ کیا گیا تو انہوں نے صاف انکار کر دیا کہ اس جنازے میں شریک نہیں ہوسکتے، کیونکہ انہیں شک  ہے کہ وہ قادیانی ہیں۔ بعد ازاں وہ تعزیت کے لئے اس شخص کے گھر ضرور گئے مگر فاتحہ نہیں کی، اور پھر مشرف صاحب کے ایک معتمد خاص جن کے بارے متضاد دعوے ہیں کہ وہ  قادیانی ہیں، کی ہمایوں اختر کو وزیراعظم بنانے کی خواہش میں سازشوں کا شکار ہو کر اقتدار سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ 

جب ایوان صدر میں ان کی رخصتی  اور انتقالِ اقتدار کے بارے میں فیصلہ ہوا تو  بلوچ سردار ایک بار پھر ڈٹ گیا، اور کسی صورت اقتدار ہمایوں اختر کے سپرد کرنے سے انکار کر دیا،قرعہ شوکت عزیز کے نام نکلا اور طے ہوا کہ جمالی صاحب سیدھے مسلم لیگ ہاؤس جائیں گے مستعفی ہونے اور شوکت عزیز کے بطور جانشین کا اعلان کریں گے۔ایوان صدر کی ٹیم، پارٹی صدر اور سیکرٹری جنرل کے بعد میں  تیسرا شخص تھا جسے اس  بابت علم تھا، ہمارے لوگوں نے  بوجھل دل کے ساتھ میڈیا اور پارلیمانی پارٹی  کو بلایا، کچھ  قوتوں نے جناب  ہمایوں اختر کی بطور ممکنہ وزیراعظم خبر بریک کرا دی۔ 

لمحوں میں مسلم لیگ ہاؤس  میں، میڈیا، کابینہ اراکین، اراکین پارلیمنٹ کا رش لگ گیا، ہمایوں اختر شاید واحد وزیر تھے جن کی گاڑی پورچ تک آنے دی گئی مسلم لیگ  ہاؤس کے پورچ میں اپنی  شان بے نیازی سے اترے تو جمالی صاحب کی کابینہ اراکین  اور انکی ممکنہ کابینہ میں حصہ دار بننے والے ان کی طرف لپکے، میڈیا کی کیمروں کی فلش لائٹس کی چکا چوند میں وہ ایک فاتح کی طرح ہال میں  داخل ہوئے تو ہر شخص ان سے سلام لینے کی آرزو میں ایک دوسرے سے دھینگا مشتی کر رہا تھا،میں اس ساری صورتِ حال میں انجوائے کر رہا تھا، شوکت عزیز بھی اسی اثنا میں ہال میں داخل ہوئے تو انہیں کسی نے سلام کرنا بھی گوارا نہیں کیا۔ اگرچہ مجھے بھی شوکت عزیز صاحب کی نامزدگی کا علم نہیں تھا، مگر انکا چہرہ کھلکھلا رہا تھا، میرے پاس آئے جوش سے معانقہ کیا، خلاف معمول جپھا ڈالا، کان میں سرگوشی کی، ڈاکٹر شیرافگن نیازی صاحب کو تو یار تلاش کر دو۔ میں نے  نیازی بابا کو تلاش کیا، انہیں شوکت عزیز صاحب کا پیغام دیا، جنہوں نے ان کے پاس جانے سے صاف  انکار کر دیا،اپنی ڈھیٹ مادری زبان میں کہا، میں ول اپنی سیٹ نہی چھوڑینداں، اکو آکھ میرے نال کم تے میرے کول لگا آئے، میں نے بابا جی کو مسکا لگایا وہ اٹھنے کو تیار ہوئے، مگر اس دوران چوہدری صاحب، جمالی صاحب کے ساتھ کانفرنس ہال میں داخل ہو گئے۔ شوکت عزیز صاحب سینیٹر تھے وہ پارلیمانی قوانین کے حافظ اور وزیر سے کسی درمیانی راستے کی تلاش میں ہوں گے، بعد میں یہ باتیں  ہمیشہ بابا نیازی سے چھیڑ رہیں۔

مَیں چودھری صاحب اور جمالی صاحب کی کرسیوں کے عین پیچھے درمیان میں بیٹھا خود ساختہ مترجم کے فرائض سنبھال چکا تھا،دونوں کے درمیان سرداور تلخ رویہ میں مختصر گفتگو ہوئی، جس کے بعد جمالی صاحب نے اپنی گفتگو کا آغاز کیا۔ بلوچ سردار نے اقتدار کی رخصتی میں بہت وضع داری سے گفتگو کی، اور ایک بار پھر آمر کی مرضی کے برعکس  اپنے ضمیر کے مطابق  پریس ٹاک شروع کر دی، ”میں نے اقتدار کو اللہ پاک، عوام اور مسلم لیگ کی امانت سمجھ کر قبول کیا تھا، بطور وزیراعظم جو مجھے اچھا لگا وہی کیا، میرا دامن صاف اور دل مطمئن ہے، آج میں اپنے مطمئن ضمیر کے ساتھ مستعفیٰ ہونے کا اعلان کرتا ہوں یہ امانت چوہدری شجاعت حسین نے مجھے سونپی تھی، میں اپنے جانشین کے طور انہیں ہی  وزیراعظم نامزد کرتا ہوں“یہ فیصلہ کن اعلان کرنا ان کے لئے بہت کٹھن مرحلہ تھا، ان کی آواز میں اپنے دوستوں کی بے اعتنائی کا دکھ تھا، ایک کرب تھا، انکی گلوگیر آواز، ان کے بیٹوں میر فرید اللہ جمالی، کیپٹن شاہنواز جمالی اور ان کے رفیق خاص سید یحییٰ مرحوم کے آنسو روکنے میں ناکام ہو گئی۔ بعد ازاں ایوان صدر کے دباو پرہمیں دوبارہ پریس کانفرنس بلانا اور وضاحت کرنا پڑی کہ  اقتدار کا ہما دراصل ابھی چودھری صاحب کے سر عارضی بیٹھا ہے، اصل شاہ سوار شوکت عزیز صاحب ہیں، بس یہ ایک الگ داستان ہے کہ کیسے یہ  خبر سنتے ہی مبارکباد کے لئے جاتے سیانوں نے اپنی گاڑیوں کا رخ فوری طور پر ایف ایٹ سے موڑ کر منسٹر کالونی کی طرف کر لیا۔ 

کہتے ہیں کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا، اس کی عملی تفسیر میں نے انکے اقتدار سے رخصتی کے بعد اپنی آنکھوں سے دیکھی، جب وہ ٹرین کے ذریعے کوئٹہ رخصت ہو رہے تھے تو یحییٰ منور مرحوم،  چند ذاتی دوستوں کے سوا انہیں الوداع کہنے کو کوئی موجود نہیں تھا۔ ان کے اقتدار کی رخصتی کے بعد میں  ان کی کابینہ کے بہت سارے لوگوں کا ان سے رویہ دیکھتا تو ضرور سوچتا کیسے کیسے لوگ حکمران بن جاتے ہیں۔ میر ظفراللہ جمالی سے سید یحییٰ منور مرحوم نے آخری سانس تک وفاداری نبھائی، عظیم چودھری،عامر الیاس رانا، طارق سمیر صرف چند اور ہمیشہ انہیں اپنے بزرگوں کی طرح احترام دیتے رہے اور وہ بھی سب کو بچوں کی طرح پیار کرتے رہے۔ مجھے دوست پوچھتے ہیں کہ چودھری صاحبان سے ان کی دوری، اقتدار سے محرومی کے اصل اسباب کیا تھے، تو اکثر خاموشی ہی میرا جواب ہوتا،میرے خیال میں چودھری صاحبان سے دوری میں ان کے وزیر اطلاعات شیخ رشید کا بڑا ہاتھ تھا، جنہوں نے ایک مخلص، سادہ اور درویش شخص کو متحدہ مسلم لیگ بنانے کے مسئلہ پر گمراہ کیا اور وہ تنہا ہو کر طارق عزیز کی سازشوں کا شکار بن گئے تھے۔ 

 چودھری شجاعت حسین اور سیکرٹری جنرل سلیم سیف اللہ خان ملک سے باہر تھے تو ان کی غیر موجودگی میں مسلم لیگ کی سی ای سی اور پارلیمانی پارٹی کا اجلاس جو انکی کچن کیبنٹ کے چند لوگوں کے ایما پر بلایا گیا تھا، قائد ایوان کا پارلیمانی پارٹی کے سربراہ سے دوری کا سبب بنا تھا، چودھری صاحبان اور سلیم سیف اللہ صاحب اس اجلاس کو پارٹی پر قبضہ کی خواہش سمجھنے لگ گئے، حالانکہ میر ظفراللہ جمالی صاحب نے، وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد چودھری صاحب کے پارٹی سربراہ بننے کی راہ ہموار کی تھی اور خود تنظیمی معاملات سے الگ ہو گر جناب سلیم سیف اللہ کو اپنا جانشین مقرر کیا تھا، جمالی صاحب کی خواہش تھی کہ وہ چودھری وجاہت حسین کو کابینہ کا حصہ بنائیں تاکہ کیبنٹ میٹنگز میں ہونے والی بات چیت سے چودھری صاحب براہِ راست آگاہ ہوں، مگر ان کی اس مخلصانہ کاوش کو کچھ  لوگوں نے ناکام بنا دیا، بعد ازاں انہی نادانوں  نے ان کے خلوص اور سادگی  کا ناجائز فائدہ اٹھایا اور بُرا وقت آنے پر اپنا دھڑا تبدیل کر کے شیردل بلوچ کی پیٹھ میں چھرا گھونپ دیا۔

میر ظفر اللہ جمالی صاحب کو اللہ پاک نے بے پناہ خوبیوں سے نوازا تھا، اور ان کی سب سے بڑی خوبی راسخ العقیدہ مسلمان ہونا تھا، انہیں جب بھی کوئی  مسئلہ درپیش آتا تو اللہ کے گھر پہنچ جاتے، ان کی نجات کے لئے سابقہ اسمبلی سے مستعفی ہوتے وہ تقریر ہی کافی ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ  ”مَیں اس اسمبلی کا حصہ کیسے رہ سکتا ہوں جو ختم نبوتؐ کے قانون میں ترمیم کر رہی ہو، کل میں حضورؐ کو کیا منہ دکھاؤں گا۔“

اللہ کریم اس درویش صفت انسان کی کامل بخشش فرمائے،آخرت کی منازل آسان فرمائے اور ان کے لواحقین کو صبر جمیل دے۔آمین انا للہ و انا الیہ راجعون۔

مزید :

رائے -کالم -