اپوزیشن کا اگلا پڑاو اور ملکی نقشہ

اپوزیشن کا اگلا پڑاو اور ملکی نقشہ
اپوزیشن کا اگلا پڑاو اور ملکی نقشہ

  

تحریر :بیرسٹر امجد ملک

چیئرمین ایسوسی ایشن آف پاکستانی لائرز برطانیہ

ممبر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن ‘ممبر ہیومن رائٹس کمیشن پاکستان 

نواز شریف کا بیانیہ ہے کہ ووٹ کو عزت دو،ملک کو آئین اور قانون کے مطابق چلایا جائے، پیشہ ورانہ خدمات ادا کرنے والے اداروں کا متنازع اور غیر آئینی اقدامات اور سیاست میں کوئی عمل دخل نہیں ہونا چاہیے اور یہ بیانیہ ایک دفعہ پھر پنجاب میں پزیرائی کی تمام حدیں کراس کرتا نظر آرہا ہے اور مینار پاکستان پر پی ڈی ایم کا جادو سر چڑھ کر بدلنے کو تیار ہے۔ عوام کو ہالینڈ کی سائیکل والا وزیراعظم دکھا کر پاکستان کا امیر وزیراعظم عمران خان سفید برساتی ہیلی کاپٹر پر غریب عوام کے شہروں میں سستے عوامی دورہ کررہے ہیں جہاں وہ سستی روٹی اور لنگر خانوں کا افتتاح اور دفاع کرتے ہیں اور ایسے میں پورا پروٹوکول کرو اور فروکے ساتھ انکے شاہانہ ٹھاٹھ اور باٹھ کی عکاسی کرتا ہے۔ اسکی چھوٹی سی سائیکل اسکی جیب میں ہے اور یہ نوٹنکی اب روز کا معمول ہے۔ اسنے یہی جھانسے دیکر پورا گاوں لوٹا ہے اب وہ کہ رہے ہیں کہ فیصل آباد کو مانچسٹر بنا دیں گے۔پورا ملک دیوالیہ کرکے نئے سفنے دکھا رہے ہیں لیکن ان تلوں میں تیل نہیں۔ یہ سراب ہے دھوکہ ہے یہ عوام کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔ انکی دو سالہ کارکردگی اور حکومت کاآڈٹ ہونا چاہیے کہ کیا پنجاب میں بہنوئی کے پلاٹ کا قبضہ چھڑوانے کے علاوہ بھی کوئی کام کیا ہے یا سب کہانیاں ہیں۔ پنجاب شہباز شریف کے بناءیتیم سا لگتا ہے۔ عمران خان اور وہ اب نواز شریف کو برطانیہ سے زبردستی واپس لیکر جانے کے دعویدار ہیں یار لوگ کہتے ہیں کہ عمران خان بورس جانسن کے ساتھ چائے پی سکتے ہیں، سیلفی کھچوا سکتے ہیں، یو کے میں آکر سٹیڈیم میں تقریر کر سکتے ہیں پر نواز شریف کو ساتھ نہیں لے جا سکتے- ووٹ کو عزت دو ایک فل پیکج ہے اس میں کوئی ابہام نہیں اور وقت آرہا ہے جب سیاسی ورکرز کہیں گے کہ ریٹائرڈ جرنیلوں کو ایکس سروس مین سوسائٹی سے سیاست کرنا چاہیے۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوتی جارہی ہے کہ عمران خان کے پاس نہ نظریہ ہے نہ ٹیم نہ تجربہ اور بری معیشت اور بدترین کارکردگی کی بنا پر اب وہ انتقام پہ اتر آئے ہیں-جتنی توجہ، محنت، وسائل ذرائع ابلاغ میں اپوزیشن کو بھارت کا ایجنٹ ثابت کر نے پر وقف کیے گئے ہیں ان کا آدھا اگر قومی سلامتی کے چیلینجز کو سنجیدگی سے زیر بحث لانے پر صرف کیا جاتا تو شاید ہم آج ایک موثر اقتصادی پالیسی بنانے کے قریب ہوتے۔ لیکن یہ نہیں ہوگا۔کیونکہ یہ کرنےکے لیے ہمیں اس تمام نظام کو تبدیل کرنا ہوگا جو نفاق، نفرت اور مسلسل سیاسی لڑائی کے ذریعے چلایا جا رہا ہے اور جس کے نتیجے میں ایسے حالات بنے ہیں کہ پاکستان مشرق، مغرب، شمال، جنوب ہر طرف سے گھیرے میں ہے۔ اصل لڑائی بارڈر پار نہیں بارڈر کے اندر ہے جو ہم کسی صورت ختم کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ جو لوگ عوام کی بات نہیں سنتے ایک دن عوام انکی بات سننا چھوڑ دیتی ہے۔ اگر عوامی معاملات عوامی کی بجائے فوجی انداز میں حل کریں گے تو دوریاں بڑھیں گی اور علیحدگی پسند طاقتیں مظبوط ہوں گی۔ ہم نے بنگلہ دیش اس ضعم میں گنوایا تھا ، بلوچستان میں وہی شورش تھی اور ابھی تک احساس محرومی ہے اور اب فاٹا میں لوگوں میں احساس محرومیت کا احساس بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے اپنی مقامی لیڈرشپ بھی ڈھونڈ لی ہے۔ اسکا حل فوجی نہیں سیاسی ہے۔ نواز شریف نے بلوچستان میں سیاسی عمل کو آگے بڑھایا اور سندھ میں بدامنی کا خاتمہ کیا، کےپی کے میں دہشت گردی کا خاتمہ کیا۔ سارا عمل ایک سیاسی کوشش کے زریعے تمام اکائیوں اور سٹیک ہولڈرز کو ساتھ لیکر مکمل کیا گیا۔ اسی انتقامی بناءپر حزب اختلاف سے ہاتھ نہ ملانے کو روادار وزیراعظم عمران خان اب ہر ایک سے بات کرنے کو تیار تو ہے لیکن کوئی بھی اس سے کلام کو تیار نہیں۔یہ مکافات عمل ہے اور پی ڈی ایم13 دسمبر 2020کو شو آف پاور کیلئے تیار ہے۔وہ کہتے ہیں اب بات عمران سے نہیں اسلے پیشوا سے ہوگی۔ اب ساٹھ ملئین کی سلائی مشینوں کا حساب ہوگا اب فارن فنڈنگ کا حساب بابت کتاب ہوگا۔ اب تمام پیزا بزنس عوام کے سامنے ہوگا۔ ووٹ کو عزت دو کا نعرہ سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ مریم نواز شریف دھاڈ رہی ہیں کہ کرونا سے بچاو تو ماسک، ہاتھ دھونے اور سماجی دوری سے شایدممکن ہوجائے لیکن جو کرونا پاکستانی عوام کو تبدیلی کے نام پر جڑا ہے وہ دیوانگی سے جائیگا۔ مسلم لیگ نواز اس بات پر مضر ہے کہ نواز شریف ہی وہ طبیب ہے جو “عمرانی کرونا “ اور اس بیماری کو جڑ سے نکال سکتا ہے اور وہ بار بار یہ اعادہ کررہے ہیں کہ ووٹ کو عزت دو ، آئین پر عملداری اور مکمل انصاف ہی وہ تریاق ہے جس سے فسطائیت کا یہ زہر عوام کے اندر سے نکلے گا۔ وگرنہ باہر جزیرے ، پیزے اور ملئین ڈالرز کی سلائی مشینیں تو بنتی رہیں گی پاکستان میں نوکری روٹی ، گھر اور پانی سستا نہیں ہوگا۔ ایک بات طے ہے : لاہور اور پنجاب مسلم لیگ نواز کا گڑھ ہے۔ اب اگر سیلیکشن پراسس والے افراد بڑے ن لیگی لیڈران کو جیل میں رکھیں گے تو مریم نواز شریف لاہور میں انکی بینڈ بجادے گی۔ لگتا یہی ہے۔ تمام غیر آئینی اقدامات کا سوچنے والے افراد کی بولتی نواز شریف کے بیانئے نے بند کردی ہے۔ آہستہ آہستہ تمام ریٹائرڈ جرنیل باغبانی ، بندوق کھولنے بند کرنے، پی ٹی آئی کی بجائے پی ٹی کے اوپر لیکچر دیتے نظر آئیں گے۔ جرنیل اب صرف پیشہ ورانہ خدمات اپنے ملک میں ادا کریں گے سود سمیت بشکریہ نواز شریف۔ بیچارے نوے لاکھ تارکین وطن کے ساتھ بھی تماشا ہی ہوا ہے۔ انکے ساتھ وعدہ کچھ، دعوی کچھ ، اار انکو حکومت نے دکھایا کچھ ہے اور حقیقت میں انکے ساتھ کیا کچھ اور ہے۔ اوورسیز پاکستانیز حکومت سے نالاں نظر آتے ہیں۔ وہ پہلے جیسی گرمجوشی ناپید ہوتی جارہیہے۔ کام کرنے کی لگن ہو تو خدمت کی کوئی انتہا نہیں۔ اوورسیز پاکستانیوں کےلئے گزشتہ حکومت نے انکے پاس جاکر انکو سنا۔بین الاقومی کانفرنس اوورسیز بینک،ون ونڈو آپریشن ،پارلیمانی سیٹیں،اوورسیز تھانے/عدالتیں قائم ہونی چاہیے۔ پنجاب اوورسیز کمیشن خادم اعلی پنجاب کا ایک شاندار کارنامہ ہے۔پھر بھی سب سے بڑا مسلہ مہنگائی ہے۔ کی دساں یار فریدا روٹی بندہ کھا جاندی اے۔ اب عوام اڑالہ چاہتے ہیں۔ “ایں وہ سجن واہ واہ تےاوں وی سجن واہ واہ” اب نہیں چلے گا۔ اب دعائیں نصیحتیں وضاحتیں، ارادے ، وعدے اور نہ پورے ہونے والے والے بلند و بانگ دعوے سب بے سود ہیں۔ سو مرشد اڑالہ کیجئے دعائیں نہ دیجئے۔پی ڈی ایم ایک مشکل مرحلے میں داخل ہورہی ہے۔ اسکے سامنے کیا چیلکنجز ہوسکتے ہیں۔کیا وہ گورنمنٹ کو مستعفی ہونے پر مجبور کرپائے گی اور کامیابی کی صورت میں نئے انتخابات کی راہ ہموار کرنا چاہے گی یا سیلیکٹرز کو عمران خان سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کرے گی اور ان ہاوس چینج اور عدم اعتماد کے زریعے آگے بڑھے گی۔حکومت کے پاس گنوانے کو کچھ نہیں ہے کہ وہ انکی دھمکیوں کو خالی سمجھے گی اور وہ سب کر گزرے گی جو صرف کتابوں میں لکھا ملتا ہے یا اپنے نیچے سے قالین کھسنے دے گی۔ ان سب باتوں کے لئے وسیع تر ڈائیلاگ اور اقدامات کی ضرورت ہوگی اور آنے والا وقت سرپرائز کا منبع ہوگا۔ پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں اپنی اپنی ساخت ، ووٹ بنک ، رجحانات، دایاں یا بایاں بازو، مشرقی اور مغربی جھکاو¿ اور طبقاتی ، مذہبی ، تجارتی مزدور وکلا اور چیمبر آف کامرس کے ساتھ اشتراک اور دلچسپی رکھتی ہیں۔ زرداری صاحب ایک گھاک سیاستدان ہیں اور سندھ میں قدرے طاقتور ہونے کی وجہ سے وہ کراچی میں خود مختار بھی ہیں ان کے مینڈیٹ کو کوئی سیاسی خطرہ نہیں ہے۔ سندھ ہوٹل میں کیپٹن صفدر کی گرفتاری کا واقعہ بھی انکی حکومت کے لئے لمحہ فکریہ ہوگا کہ طاقت مکمل اور مستقل نہیں ہوتی اور اسٹیبلشمنٹ انکی توجہ چاہتی ھوگی۔ وہ پنجاب میں پاور شئیرنگ کے لئے پارٹنر کی تلاش میں بھی ہوں گے کیونکہ پنجاب انکی سابقہ حکومت کے بعد پیپلز پارٹی کے لئے سکڑ گیا ہے۔ پرویز الہی انکے ڈپٹی وزیراعظم رہ چکے ہیں اور تھوڑا وقت ملنے پر انکی جماعت پیپلز پارٹی پنجاب میں اپنا کھویا ہویا اثر و رسوخ ق لیگ کی برادری ازم کی سیاست کی وجہ سے دوبارہ بڑھا سکتی ہے۔اسٹیبلشمنٹ بھی ایسے موقعے کی تلاش میں ہوگی کہ پی ڈی ایم پلک جھپکے اور یہ ان کو آ لیں۔ زرداری صاحب کو پنجاب میں ان ہاو¿س تبدیلی لانا سوٹ کرے گا وہ الیکٹورل ریفارمز اور انتقامی کاروائیاں ختم کرکے ہی نئے انتخابات کی طرف جانا پسند کریں گے۔ یہ وقت ن لیگ کا زور توڑنے کا سب مستقل مخالف اور مقابلہ وار جماعتوں کو موقعہ فراہم کرے گا۔ لیکن ن لیگ تحریک انصاف کے وزیراعظم کے استعفی نہ دینے کی صورت میں احتجاج اور دھرنے کے ساتھ ساتھ استعفوں کے زریعے ایلکٹورل کالج ختم کردینے کی حمائت کرنا چاہے گی کیونکہ ضمنی اور فریش انتخابات دونوں صورتوں میں وہ اپنا مینڈیٹ پنجاب میں بچا لیں گے۔ان ?اوس تبدیلی کے زریعے وہ تحریک انصاف کا عدم کارکردگی کا بوجھ اپنے سرنہیں لینا چاہیں گے۔ ابھی تک انکے مینڈیٹ کو کوئی بڑا خطرہ لاحق نہ ہے۔ وہ استعفے دینے کے مولانا کی دھمکی کو اب عملی طور پر استعمال کرنا چاہے گی کیونکہ پرویز الہی فارمولا انکے لئے جاوید اقبال فار مولے کی طرح سیاسی قانونی اور عسکری اعتبار سے عبرت ناک اور سبق آموز بھی ہوسکتا ہے۔ پرویز الہی کی جماعت کے ساتھ الیکشن الائنس اور مستقبل میں ملکر حکومت بنانا متحدہ مسلم لیگ کی طرف پیش قدمی ہوگی- اگر ق لیگ سے ملکر پنجاب چلانا ہو تو شہباز شریف بہتر آدمی ہوں گے کیونکہ پنجاب انکی کارکردگی کی وجہ سے انکی انگلیوں پر ہے۔ زرداری صاحب سنٹر میں عدم اعتماد کی صورت میں جیالوں کے لئے الیکشن سے پہلے ایک دو سال کے لئے حکومت بلاول کے لئے لینے کو تیار ہوں گے تاکہ مقالمہ آگے بڑھے اور پیپلز پارٹی کی مشکلات کم ہوں۔ حکومت حکومت ہوتی ہے اور عوام میں ایک تاثر بحرحال چھوڑتی ہے۔مشہور زمانہ جاوید اقبال پتہ نہیں کس طرح نیب کا چئیرمین بننے کے لئے ن لیگ کی حمائت ن لیگ کی حکومت میں حاصل کرنے پر کامیاب ہوئے یہ ابھی تک صیغہ راز ہے۔ راز تو اور بھی بہت ہیں کہ کون کسطرح اس جگہ پہنچا لیکن یہ پھر کبھی صحیح لیکن 9 مارچ 2007 کو بھاگم بھاگ قائم مقام چیف جسٹس بننے والے ایبٹ آباد اور لاپتہ افراد کے کمیشن کے لئے اہل سمجھے جانے والے سول جج سے آگےتمام مراحل بخیرخوبی طے کرنے والے جج کو احتسابی چکر کے لئے قابل قبول کرلینا بھی سیاستدانوں کا اک کمال ہے۔ غفلت اگر نہیں ہے تو تساہل پرستی ضرور ہے۔ اگر استعفے ہوجاتے ہیں اور عمران خان اور انکے سپانسرز بضد رہے تو ضمنی انتخابات کی حکومتی کوشش ہوسکتی ہے، غداریاں اور ہم خیال گروپ تشکیل پاسکتے ہیں اگر حکومت اور سرکار کا ایک صفحہ برقرار رہا۔ اگر حزب اختلاف نے ایوان چھوڑ دیا تو استعفے دینے کی صورت میں پی ڈی ایم ضمنی انتخابات ہونے نہیں دے گی اور حکومت ایسے بائی الیکشن کروا بھی نہیں پائے گی جس میں حزب اختلاف سڑکوں پر ہو اور وہ انتخابات کا بائیکاٹ کرے یا سڑکوں پر احتجاج کرے یا مشترکہ انتخاب لڑے۔ جنرل الیکشن کی نگرانی اور مشترکہ محاز کے زریعے الیکشن لڑا جائے تو مشترکہ مقاصد حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ اگر اپوزیشن استعفوں کا وقت طے کرکے یہ کام سینٹ سے پہلے مکمل کرلے تو یہ پی ڈی ایم کو سوٹ کرے گا لیکن تمام جماعتوں کا متفق ہونا ضروری ہے۔ سینٹ کے انتخابات موجودہ الیکٹورل کالج کے زریعے نہ ہوں یہ حکومت نہیں چاہے گی۔اگر پنجاب اور سنٹر میں ان ہاوس تبدیلی پر غور کریں تو ق لیگ ، مسلم ن اور پیپلز پارٹی ملکر پنجاب چلا سکتے ہیں۔ ق لیگ کے پرویز الہی کا فارمولا حکومت اور ق لیگ کا گڑھ جوڑ بھی ہوسکتا ہے یا اسکے امکانات موجود رہیں گے۔ پرویز الہی کی بجائے ڈرائیونگ سیٹ پر پیپلز پارٹی یا ن لیگ کا متفقہ وزیراعلی ہو تو الیکشن تک وقتی محفوظ راستہ ہوسکتا ہے اور اندرون خانہ نقب زنی کے امکانات کم ہوں گے۔ق لیگ حکومت کی ساتھی ہے انکے اپنے موجودہ اور پرانے ساتھیوں کے زریعے ملک کے وسیع تر مفاد میں استعمال ہوجانے کے امکانات زیادہ ہیں یا موجود رہیں گے۔ کیا ان ہاو¿س تبدیلی سے نیب ختم ہوگا، کیا کیسز پر انصاف ہوگا کیااپوزیشن پابند سلاسل رہے گی یہ وہ سوال ہیں جو جواب طلب ہیں۔ جب تک سلیکٹرز آمادہ نہ ہوں گے تو کسی بھی وقت احتساب کا یہ عمل تیز کیا جاسکتا ہے۔ اگر ق لیگ کا پنجاب انکی منشاءکے مطابق جسٹس جاوید اقبال نکلا تو پھر پی ڈی ایم /ن لیگ کیا کرےگی ہی سب سے اہم سوال ہے۔ کیا حزب اختلاف دوبارہ ایسی ہلچل پیدا کریں گے اور کیا یہ پی ڈی ایم کی آپ کو اپنے مقاصد سے ہٹانے کا راستہ نہیں ہوگا۔ مسلم لیگ نواز کا استعفی آپشن ان تمام برائیوں اور مسائل کا احاطہ کرتا ہے۔ اگر پی ڈی ایم کے خالی ہاوس پر ضمنی انتخابات کروائے جاسکتے ہیں کیا نواز شریف مولانا اور پیپلز پارٹی یہ ہونے دیں گے اور ایسے انتخابات ہونے کی صورت میں ٹرن آوٹ کیا ہوگا اور اگر کم ہوا تو عوام کو قابل قبول ہوگا۔ لیکن استعفوں سے حکومت /اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں استعمال ہونے والی پوزیشن سے نکل جائیں گے اور انکے ہاں ہم خیال گروپ بننے کے امکانات بھی معدوم ہوجائیں گے۔ ان ہاوس تبدیلی سے سینٹ میں حکومت کو برتری حاصل کرنے سے نہیں روکا جاسکے گا۔ اگر موجودہ صورت حال میں سینٹ الیکشن ہونے دیے تو من مانی ، ایک پیج پر ہونے کے ضعم اور طاقت کے نشے میں بپھری حکومت اپنی من مانی میں اپوزیشن کو دیوار سے لگانے کا سلسلہ جاری رکھے گی۔ یہ بھی خدشہ موجود رہے گا کہ حکومتی کا ظلم بڑھے اور نیب حکومت کے ہاتھ مزید استعمال ہو۔ اپوزیشن کسی بھی قسم کی قانون سازی میں اپنا کردار ادا کرنے سے قاصر رہےگی۔کیا یہ سب ہلہ گلہ حزب اختلاف نے خاموش تماشائی بننے کے لئے کیا ہے - اصل تبدیلی کا محور اور منبع فریش پول ہوں گے کو ان تمام مسائل اور برائیوں کا حل نکالیں گے۔مولانا فضل الرحمن نے پہلے ہی کہا تھا کہ ایسی جعلی ووٹ کی پیداوار اسمبلی میں پہلے دن سے نہ بیٹھا جائے لیکن انکا اسٹیک اس وقت قدرے کم تھا اب ڈنڈا بردار سٹریٹ پاور اور بیلٹ والی ووٹ پاور والی دونوں بڑی جماعتیں پی ڈی ایم میں ساتھ ساتھ ہیں۔ سیاستدانوں نے اسمبلی چلنے کا موقع دیا لیکن اسمبلی کہاں چلی ہے ہٹ دھرمی سی ہٹ دھرمی ہے اور دیوار سے لگانے کی کاروائی مکمل ہے۔ تمام جماعتوں کو مشاورت کیساتھ سب لیڈران کو آن بورڈ کرنا چاہیے اور اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی آپشن اور احتجاج اور دھرنے کو منتقی انجام تک پہچانے کے لئےاستعفوں کے آپشن پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے-تمام استعفی مولانا صاحب کے پاس جمع کروا دینے چاہیے۔ حکومت اور اسکے لانے والوں کو پتہ چلنا چاہیے کہ یہ گیدڑ بھبھکیاں نہیں بلکہ پی ڈی ایم سیریس ہے۔ پی ڈی ایم کو یہ بھی معلوم ہوجائیگا کہ کون کتنا پی ڈی ایم کیساتھ آخر تک جائیگا۔ اگر حزب اختلاف کی جماعتیں سیریس ہوں گے تو شاید بڑا استعفی بھی مل جائے اور اپوزیشن عوام کے ساتھ ملکر تیار ہوگی تو ان ہاوس تبدیلی بھی ممکن ہوسکتی ہے اور ملکر حکومت گرا کر بھی نئے انتخابات کی راہ ہموار کی جاسکتی ہے۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ حزب اختلاف کو جو کرنا چاہیے ملکر کرنا چاہیے۔ استعفی مانگنا ، ان ہاو¿س تبدیلی لانا ، یا فی الفور اسمبلیوں سے مستعفی ہوکر ہاوس خالی کرنا اور نئے انتخابات کی راہ ہموار کرنی سب ملکر اکٹھے کرنا چاہیے اور اسکے لئے میثاق جمہوریت کی تو ثیق کرنی چاہیے۔ جب پی ڈی ایم اس بات پر متفق ہیں کہ خدا کے بعد صرف اور صرف عوام کو ہی یہ حق ہے کہ وہ حق حکمرانی عطا کرے تو ادھورا بکسے اٹھا کر چوری شدہ اور ادھارا مینڈیٹ لینے کی بجائے عوام سے سکہ بند پورا اور ڈبہ بند مینڈیٹ لینے کے لئے الیکشن میں جانا چاہیے۔ باقی دوڈ اپنی اپنی اور مفاد بھی اپنا اپنا۔ سب ملکر ملک کا سوچیں گے تو سب مراحل آسانی سے طے ہوجائیں گے۔پاکستان میں کرپشن اتنا سادہ مسئلہ نہیں ہے جتنا نظر آتا ہے۔ پشاور میٹرو دھکا سٹارٹ ہے۔ عمران حکومت دھکہ سٹارٹ ہے اور پورا نظام انڈر ٹریننگ وزیروں نے دھکہ سٹارٹ کردیا ہے۔ لوگ رو رہے ہیں روٹی پانی دوائی سے تنگ ہیں۔ حکمران وقت اپنے اے ٹی ایم کی بجائے عوام کی فلاح کے لئے سوچیں وگرنہ انکا انجام دیوار پر لکھا نظر آرہا ہے۔ حزب اختلاف کہتی ہے کہ اگر ڈان لیکس برپا کرنے کی بجائے نواز شریف کی باتوں پر کان دھرا ہوتا تو آج فاٹف میں بلیک لسٹ میں داخل ہونے کے ڈر سے یہ نوٹنکیاں نہ کررہے ہوتے۔حکومت پر کشمیر کا سودا کرنے کا الزام لگ رہا ہےاور ریٹائرڈ کمانڈروں کے بین الاقوامی دنیا میں اربوں ڈالر کے جزیرے اور پیزے بزنس نکل رہے ہیں۔ اب یاد کرو اس عظیم شخص کو اور ڈھونڈو لیکن ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم۔ جنرل عاصم باجوہ جیسی مقدس گائے کے پاپا جانی پیزے سارے ملکر کھاتے ہیں تب ہی نہ کوئی رسیدیں پوچھتا ہے نہ کھاتے مانگتا ہے نہ نیب سوالنامہ بھیجتا ہے نہ تفتیش نہ ریمانڈ ہوتا ہے ، نہ کوئی واٹس آپ پر جے آئی ٹی بنتی ہے ، نہ خواتین سمیت نیب عدالت میں ٹرائل چلتے ہیں نہ سزائیں ہوتی ہیں اور نہ ہی انکو جیل میں مچھر لڑتا ہے نہ ڈینگی ہوتا ہے نہ انکے پلیٹلیٹس گرتے ہیں۔ بلکہ مذاق نہیں حقیقت ہے کہ انکی نونی سلونی خبریں بنا کر واہ واہ کرنے والوں کے غیر قانونی شکار شدہ تو تیتر بھی گیلے نکلتے ہیں۔میڈیا پاکستان میں سخت پابندیوں کا شکار ہے۔ اسکی ایک تازہ مثال تازہ بی بی سی کا انٹرویو ہے جو پاکستان میں نہیں ہوسکتا لیکن اس کو بنیاد بناکر تبصرے مگر جاری ہیں۔ تنقید کے لئے پاکستان میں جگہ تنگ ہورہی ہے۔ توبہ توبہ، خدا کی پناہ اسحق ڈار صاحب کا برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مشہور زمانہ پروگرام ہارڈ ٹاک کےدسمبر کے آغاز میں خوب چرچے ہوئے ہیں۔ انکی پاکستانی ٹیلیویڑن پر ممانعت کے باوجود اس پروگرام کو اوپر نیچے دکھا کر انکی اقتصادی برتری کو خوب داخل دفتر کیا گیا ہے۔ آزادی صحافت کافی عرصہ سے پاکستان میں خطرے میں ہے۔ آرٹیکل ۱۹اے ریاستی اور آئینی آزادیاں یقینی بنانے کے لئےصحافی تنظیموں ہیومن رائٹس کمیشن بار ایسوسی ایشن یا سیاسی جماعتوں کی طرف سے ہی بنتی ہے۔ انفرادی سطح پر صحافی معاشی اور آجر کی طرف سے پریشر آنے پر یا نوکری جانے کے خطرے پر اپنے نام شامل رکھنے یا نہ رکھنے پر پریشرائز ہوسکتے ہیں۔ صحافت ویسے بھی تجارتی مالکان کے قبضہ میں گروی ہے اور ہر دوسرا ٹی وی مالک اشیائے خوردونوش کی خرید و فروخت میں ملوث ہوکر اخبار یا ٹی وی نکال رہا ہے۔ لازمی نہیں وہ پریشر سامنے آئے لیکن یہ بلیک میلنگ تمام افراد کے ساتھ ہوسکتی ہے۔ صحافتی بقاءکےلئے ادارہ جاتی جنگ ضروری ہےپریس کلب پریشر برداشت کرتا ہے۔ بار بنچ اور صحافی تنظیموں نے مشرف کی ۳ نومبر ۲۰۰۷ کی ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف اس پریشر کا ملکر کامیابی سے سامنا کیا۔ اب سنسرشپ حدود و قیود سے آزاد ہے۔ اب حکومتی مینترا یہ ہے کہ بولتے جو چند ہیں سب یہ شرپسند ہیں کھینچ لے انکی زبان گھونٹ دے انکا گلا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ مسلم لیگ نواز عموماً انگریزی چینلز سے اسطرح مکالمہ نہیں کرتی جسطرح بے نظیر بھٹو صاحبہ کی پارٹی کرتی ہے۔ ڈار صاحب بھیڑیے کی کھچار میں گھس گئےاور شیر کی طرح خوب مقابلہ کرکے آئے۔سلیکٹرز نے قومی ٹی وی پر پابندی لگائی تھی ڈار صاحب عمران خان حکومت کے دانت کھٹے کرنے انٹرنیشنل ٹی وی پر آ گئے-ان کو مغربی میڈیا پر مسلم لیگ کا بھرپور موقف پیش کرتے رہنا چاہیے- حکومت وقت ، بس گورے کا کیا ہوا انٹرویو ترجمہ کرکے چلا سکتی ہے خود اسحق ڈار صاحب کا انٹرویو کرنے کی اجازت نہیں دیتے اور ادھر گورے کا ملک برطانیہ کرونا کی ویکسین لگا رہا ہے۔ فرق جان کر جئیں کہ کہیں سرفراز دھوکہ تو نہیں دے گیا۔ اگر عمران خان اتنا بہادر ہے تو کل نہیں آج ہارڈ ٹاک میں مذاکرہ کرے کہ 2020 کا پاکستان معاشی طور پر بہتر ہے یا 2018 کا پاکستان بہتر تھا،کرپشن پہ کتنی ٹکٹکیاں لگیں کیا سماجی انصاف بہتر ہوا؟ جہانگیر خان ترین کا عدل اسکا منہ چڑا رہا ہے۔سننے کا حوصلہ کریں گالیاں مسائل سے توجہ نہیں ہٹا سکتیں۔آخر میں علامہ خادم حسین رضوی صاحباب ہم میں نہیں رہے۔انسان فانی ہے۔ خادم حسین رضوی صاحب کے جانے سے قومی افق پر ختم نبوت کے مسئلے پر تباہی مچانے والا ایک سپوت چلا گیا۔ وہ اپنی دنیاوی معذوری کے باوجود خطرناک حد تک دلیر تھے اور بڑے بڑے ان سے ختم نبوت کے معاملے پر استفادہ کرتے تھے اور بڑے بڑوں کو وہ بیٹھے بیٹھے صلواتیں سنا دیتے تھے۔ “فیض آباد دھرنوں “ پر سیاست اور سرپرستی جیسے محرکات اور اس پر عدالتی دھرنہ کیس پر نظیر نکال کر انہوں نے اوور آل سیاسی طور پر ختم نبوت کے قومی مسلہ پر پریشر گروپ کا کردار ادا کیا اور ختم نبوت کے قانون کو بدلنے کی کسی کی بھی کوئی بھی کوشش کامیاب نہ ہونے دی۔ وہ ملکی سطح پر کم وقت میں اپنی دلیری اور تلوار گفتاری سے شہرت پانے والے چند لوگوں میں شامل ہیں جو دنوں میں ہی کہاں سے کہاں چلے گئے۔سابقہ چیف جسٹس نے بھی فیض آباد دھرنوں جیسی دلیری دکھائی تھی لیکن وہ پھر ڈیم فنڈ اکٹھا کرنے کے بعد ریٹائر ہوگئے اور دوبارہ نظر نہیں آئے۔ اللہ علامہ خادم حسین رضوی مرحوم کی مغفرت فرمائیں۔ ان کا کہا سنا معاف فرمائیں۔ انہیں معاف فرماکر پردہ پوشی فرمائیں، آمین-ختم نبوت مسلمانوں کا دینی مسلہ اور ایمان کا حصہ ہے۔ اللہ تعالی خود اپنے دین کی حفاظت کا وعدہ کر چکے ہیں۔ انشااللہ اسلے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی حرمت کا دفاع انکے چاہنے والے رہتی دنیا تک کرتے رہیں گے۔ انکی محبت سے وفا کاعظیم کام کرنے والے رہتی دنیا تک آتے اور جاتے رہیں گے لیکن ان سے وفا کا فریضہ نہیں رکے گا۔ بہترین عمل نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اسوہ حسنہ پر مکمل عمل کرکے کیا جاسکتا ہے تاکہ “مسلمان “ کے کردار کو دیکھ کر دوسرے لوگ اسلام کی طرف راغب ہوں۔ اللہ پاک اس انتقال پر ملال کی خبر کوہمارے لئے باعث صبر و سبق اور اپنے لئے مغفرت کی استدعا کرنے کا راستہ سیکھنے کا زریعہ بنائے۔ آنے والے دن ملک پاکستان کے لئے محفوظ فرماءآمین یا رب العالمین۔

مزید :

بلاگ -