زمین سے رشتہ ,,,,,,,!!!!

زمین سے رشتہ ,,,,,,,!!!!
زمین سے رشتہ ,,,,,,,!!!!

  

سنگا پور نے 9 اگست 1965 میں ملائشیا سے آزادی حاصل کی اس وقت یہ ایک چھوٹا سا جزیرہ تھا جس کی زیادہ تر آبادی مچھیروں پر مشتمل تھی اس کو ملائشیا کا انتہائی پسماندہ, فضول اور خراب علاقہ سمجھا جاتا تھا زیادہ تر لوگ مچھلیاں پکڑتے یا ملائشیا, انڈونیشیا اور تھائی لینڈ میں مزدوری کرتے 1962,63 تک سنگا پور کے جزیرے میں کوئی جوان مرد نظر نہیں اتا تھا یہ علاقہ خواتین اور بچوں تک محدود تھا اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ جب بھی کوئی بچہ جوان ہوتا تو وہ نوکری کے لئے باہر چلا جاتا یا مچھلیاں پکڑنے کے لئے گہرے سمندر میں اتر جاتا یہ مچھلیاں انڈونیشیا اور تھائی لینڈ میں فروخت کرتے اس دور میں سنگا پور کی فی کس آمدنی 110 ڈالر سالانہ تھی. لی کو ان نے 1965 میں سنگا پور کی قیادت سنبھالی اور اس کو جدید ملک بنانے کا اعلان کردیا. لی کو ان ایک وژنری شخص تھا اس نے لوگوں کی نفسیات کا جائزہ لیا تو اسے معلوم ہوا زیادہ تر شہری سمندر کنارے کچی آبادیوں میں رہتے ہیں یہ لوگ جھاڑ پھونس, لکڑی, اور ٹینٹ کے گھر بناتے ہیں, ان کے پاس واش روم تک نہیں, گھروں کی نا پختگی کی بڑی وجہ سمندری طوفان ہیں, ہر سال ایک ہزار کے قریب چھوٹے بڑے طوفان اتے تھے جو اپنے ساتھ گھر بھی بہا لے جاتے, لہذا گھروں کے ٹوٹنے کا خوف ان لوگوں کو پختہ گھر نہیں بنانے دیتا تھا , لی کو آن نے محسوس کیا ان لوگوں کے پاس روزگار نہیں لہذا ان کی زیادہ تر صلاحیت دوسرے ملکوں میں مزدوری کر کے ضائع ہو جاتی ہے, اس کا خیال تھا سنگا پور کے لوگ خود کو اس علاقے کے کمی سمجھتے ہیں, ان لوگوں میں فخر اور عزت نفس کا وہ احساس نا پید ہے جو اس علاقے کے دوسرے لوگوں میں موجود ہے, اس وقت لی کو آن نے سوچا وہ ان چند ہزار لوگوں کو دنیا کی بڑی طاقت بنائے گا, لی کو آن نے سب سے پہلے لوگوں کا زمین کے ساتھ رشتہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا, اس نے فیصلہ کیا وہ ہر شخص کو اپنی ذاتی رہائش فراہم کرے گا, اس کا کہنا تھا جب تک کسی شخص کا زمین کے ساتھ رشتہ قائم نہ ہو وہ محب وطن نہیں بن سکتا, لی کو آن دنیا کا پہلا حکمران تھا جس نے لوگوں کو بنے بنائے گھر فراہم کرنا شروع کیے اس نے سنگا پور کے مختلف علاقوں میں اپارٹمنٹس بنوائے , ان میں لوگوں کو آباد کیا اور قسطوں میں قیمت وصول کی, اج 55 برس بعد سنگا پور دنیا کا واحد ملک ہے جس کے 93 فیصد لوگوں کے پاس اپنے گھر موجود ہیں, ہر شہری سنگا پورین ہونے کی وجہ سے فخر کرتا ہے, اپ کو پوری دنیا میں مختلف ملکوں اور قوموں کے لوگ نوکریاں کرتے ہوئے دکھائی دیں گے لیکن کسی ملک میں سنگا پور کے لوگ زیادہ عرصہ کام کرتے نظر نہیں آئیں گے , یہ دنیا کا واحد ملک ہے جس کے کسی شہری نے اج تک کینیڈا اور امریکہ کی شہرت حاصل نہیں کی, میں نے جب لی کو آن کے اس ماڈل کا مطالعہ کیا تو مجھے عمران خان صاحب کے گھروں والے فارمولے کی سمجھ آئی اور یقین مانیں اگر یہ اپنا یہ وعدہ پورا کر گئے تو ملک میں معاشی انقلاب بھی آیا گا اور ساتھ ساتھ بہ روزگاری کا بھی خاتمہ ہوگا, اب سوال یہ ہے کہ حکومت کے پاس اتنے گھر بنانے کے لئے پیشہ کہاں سے آئے گا ؟ تو اس کا طریقہ بڑا سادہ اور دلچسپ ہے, حکومت کسی ڈویلپر کے ساتھ مل کر ہزار, دو ہزار, دس ہزار رہائشی یونٹ بنوائے بعدازاں حکومت بینکوں کی مدد سے رہائشی یونٹ خرید لے, ان گھروں کی کل قیمت بینک ڈویلپر کو ادا کر دے ڈویلپر اس رقم سے نئے رہائشی گھر بناے ان گھروں کے حقوق ملکیت حاصل کرنے والے لوگ مکان یا فلیٹ کی قیمت قسطوں میں ادا کریں, اس سسٹم سے ملک کو چار بڑے فائدے ہوں گے 1. ملکی اکانومی میں حرکت پیدا ہو گئی اور لوگوں کو نئی جابز ملیں گی 2. بینکوں کے بزنس میں دو گنا, تین گنا, اور بعض جگہ دس گنا اضافہ ہو گا 3. حکومت چھوٹے چھوٹے مسائل سے باہر نکل آئے گی 4. اور سب سے اہم گھر حاصل کرنے والوں کو اندازہ ہو گا انہوں نے ہر مہینے بینک کو قسط ادا کرنی ہے تو لوگ گھر کی الاٹمنٹ حاصل کرنے کے لیے دن رات کام کرنا شروع کر دیں گے آور گھر کے تمام افراد اپنی اپنی استطاعت کے مطابق بھی حصہ ڈالیں گے اس سارے عمل میں معاشرے میں کام کا رجحان بڑھے گا لوگوں میں احساس ذمہ داری پیدا ہو گئی. ہمارے پچھے رہ جانے کی سب سے بڑی وجہ مکانوں کی کمی ہے اپ خود اندازہ لگائے جس شخص کے پاس گھر نہیں ہو گا اس کا ملک کے ساتھ کیا تعلق پیدا ہو گا, خان صاحب اپ نے بس لی کو آن کی طرح لوگوں کا رشتہ زمیں سے جوڑنا ہے ملک اللہ کے فضل سے درست سمت نکل پڑے گا, اور اللہ کے فضل سے پھر یہاں کا شہری بھی پاکستانی ہونے پر فخر کرے گا.

مزید :

بلاگ -