سیالکوٹ میں ہجوم کے ہاتھوں مارے جانے والے سری لنکن شہری کیسے انسان تھے ؟ ایسی باتیں سامنے آ گئیں کہ ہر آنکھ نم ہو جائے

سیالکوٹ میں ہجوم کے ہاتھوں مارے جانے والے سری لنکن شہری کیسے انسان تھے ؟ ...
سیالکوٹ میں ہجوم کے ہاتھوں مارے جانے والے سری لنکن شہری کیسے انسان تھے ؟ ایسی باتیں سامنے آ گئیں کہ ہر آنکھ نم ہو جائے
سورس: File Photo

  

 سیالکوٹ (ڈیلی پاکستان آن لائن) سیالکوٹ میں ہجوم کے ہاتھوں قتل کئے گئے سری لنکن منیجر کی خوش اخلاقی کی مسلمان محلے دار رمضان نے تصدیق کرتے ہوئے کہاہے کہ پریانتھا خوش اخلاقی سے ملتے،وہ جھگڑنے والے انسان نہیں تھے۔

نجی ٹی وی کے مطابق محلے دار رمضان نے سری لنکن منیجر کے حوالے سے کہا کہ پریانتھا خوش اخلاقی سے ملتے تھے، وہ جھگڑے والے انسان نہیں تھے۔انہوں نے کہا کہ پریانتھا سے صبح واک کرتے وقت ملاقات ہوتی تھی، وہ ایک اچھے انسان تھے۔محلے دار رمضان نے کہا کہ پریانتھا کے ساتھ جو بھی ہوا وہ افسوس ناک اور قابل مذمت ہے۔

دوسری طرف نجی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے سیالکوٹ کی ایک رہائشی خاتون جن کی بیٹیاں راجکو فیکٹری میں کام کرتی ہیں نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ میری بچیاں فیکٹری میں گذشتہ چھ ،سات سال سے کام کر رہی تھیں، پریانتھا کمارا بہت اچھے آدمی تھے، خاص طور پر فیکٹری میں کام کرنے والی خواتین کا بہت خیال رکھتے اور ان کی مدد بھی کرتے تھے،فیکٹری کے اندر خواتین کو تنگ کرنے والوں کے ساتھ پریانتھا کمارا کا رویہ کافی سخت ہوتا تھا،فیکٹری کا کوئی ملازم بیمار ہوجاتا تو وہ اسے خود اپنی گاڑی میں فیکٹری کے ہسپتال بھجواتے اور اس کا پورا علاج معالجہ کرواتے یہاں تک کہ غریب ملازمین کے گھر جا کر بھی ان کی مالی مدد بھی کرتے تھے۔خاتون کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھ جو حادثہ ہوا اس سے دلی افسوس ہوا ، میری بچیاں اب کافی پریشان ہیں۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -سیالکوٹ -