ایم کیو ایم وفد کی ن لیگی رہنماؤں سے ملاقات ، ایسا کام کرنے کا عندیہ دے دیا کہ سندھ حکومت کے لئے نئی مشکل کھڑی ہو جائے

ایم کیو ایم وفد کی ن لیگی رہنماؤں سے ملاقات ، ایسا کام کرنے کا عندیہ دے دیا ...
ایم کیو ایم وفد کی ن لیگی رہنماؤں سے ملاقات ، ایسا کام کرنے کا عندیہ دے دیا کہ سندھ حکومت کے لئے نئی مشکل کھڑی ہو جائے

  

 کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)متحدہ قومی موومنٹ پاکستان(ایم کیو ایم)پاکستان کے وفد نے کراچی میں مسلم لیگ ن کے رہنماؤں سے ملاقات کی اور آل پارٹیز کانفرنس(اے پی سی) میں شرکت کی دعوت دی جبکہ سندھ کے نئے بلدیاتی نظام کو مسترد کرتے ہوئے ن لیگ اور ایم کیو ایم نے سڑکوں پر آنے کا عندیہ دے دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ملاقات کے موقع پر ایم کیو ایم کے رہنما عامر خان نے گفتگو کرتے ہوئے  کہا کہ ہر سطح پر احتجاج کریں گے ،ضرورت پڑی تو اسمبلی میں بھی احتجاج کریں گے، نئے بلدیاتی نظام میں میئر کو اختیارات نہیں دیئے گئے،پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) سے مایوس ضرور ہیں،اپنے تحفظات کااظہاربھی کرتے ہیں،حکومت کےاتحادی ہیں جب وقت آئےگا تو الگ ہوجائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے بلدیاتی نظام سے متعلق بل پر کوئی مشاورت نہیں کی، سندھ حکومت نے اسمبلی میں جعلی اورجھوٹی اکثریت سے بل پاس کرایا، سندھ حکومت نے مقامی حکومت سے اختیارات چھین لیے، بلدیات کے تمام اختیارات سندھ حکومت اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے،سندھ حکومت نے بلدیاتی نظام کو معطل کردیا اورمختلف پارٹیوں سے مشاورت کررہے ہیں،بل کےخلاف ضرورت پڑی تو سڑکوں پر بھی نکلیں گے۔

مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق گورنر محمد زبیر نے کہا کہ سندھ میں جو فنڈ آتے ہیں نہ وہ پیسہ کراچی میں لگ رہا ہے نہ ہی اندرون سندھ میں لگ رہا ہے،سندھ میں فنڈز کی تقسیم این ایف سی کی بنیاد پر ہونی چاہیے، ن لیگ حکومت میں فیڈرل ٹیکس ریونیو ڈبل ہوا تو صوبے کو زیادہ پیسہ ملا، سندھ میں پیسہ کہاں لگ رہا ہے کہاں ترقیاتی کام ہو رہے ہیں۔مفتاح اسماعیل نے کہاکہ پیپلز پارٹی نے بلدیاتی اختیارات پر حملہ کیا ہے، مزید اختیارات ختم کردئیے ہیں، پیپلز پارٹی شہریوں کے حقوق پر حملے جاری رکھی ہوئی ہے، پیپلز پارٹی کا وفاق میں اور صوبے میں الگ الگ چہرہ ہے، وفاق میں یہ فیڈریشن کی بات کرتے ہیں صوبے میں یہ حقوق سلب کرتے ہیں جبکہ پیپلزپارٹی والے ہمارے دشمن نہیں ہیں۔

مزید :

علاقائی -سندھ -کراچی -