چین کی گھڑی ہے تو!

  چین کی گھڑی ہے تو!
  چین کی گھڑی ہے تو!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 گھڑیوں کا دور اگرچہ بہت پرانا ہے لیکن بھٹو کے دور میں زیادہ مقبول ہوا۔ جب کوئی پاکستانی دوبئی جاتا رشتے دار دوست احباب ایئرپورٹ پر بڑی امیدوں سے اسے چھوڑنے جاتے۔ ایک لسٹ فرمائشوں کی اس کے ہاتھ میں تھما دی جاتی۔ کئی سال محنت مزدوری کرنے کے بعد وہ واپسی میں سنہری گھڑیاں ریڈیو اور ٹیپ و دیگر اشیاء ضرور لاتا، لوگ اسے بڑے ذوق و شوق سے گھر لاتے اس کے استقبال کے لئے علاقے کے بچے بوڑھے گھروں سے نکل آتے، لڑکے کی ماں بھی بڑے فخر سے سرپر چادر اور کلائی میں سونے کی چوڑیاں جو اس کا بیٹا باہر سے لایا تھا سب کو دکھاتی پھر دوبئی جانے کی بیماری سارے معاشرے میں پھیل گئی جس سے ملک میں خوشحالی آئی مگر مہنگائی نے بھی راستہ دیکھ لیا۔


راقم کا ایک دوست بنک کی نوکری میں رازداری سے دوبئی چلا گیا مگر بدنصیبی اس کا پیچھا کر رہی تھی، اسے گئے ہوئے چند ماہ بیتے تھے، اس کا چار پانچ ماہ کا خوبصورت معصوم بیٹا فرش پر چلتے ہوئے چولہے پر رکھے دودھ کے برتن کو پکڑنے لگا گرم دودھ کا برتن اس پر گر پڑا، پھر ہسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد مر گیا۔ ”ہائے نی ماں“ اس بات میں ایک دکھ کا پہلو ہے کہ اس کے باپ کو خبر نہ دی جائے کہ وہ دوبئی ابھی ابھی کافی رقم خرچ کر کے گیا ہے کہتے ہیں ایسا سونا بھاڑ میں جائے جو کانوں کو کھائے۔
آج کے دور میں گھڑی کون لیتا ہے مگر کیا کیا جائے اگر کوئی شوق سے دے تو کیا کریں، انکار کفر ہے۔ تحفہ قبول کرنا چاہئے ہم نے کون سا پہننا ہے ٹائم دیکھنا ہے وہ تو موبائل سے معلوم ہو جاتا ہے، ٹائم ویسے بھی سخت چل رہا ہے۔ اس وقت عمران خان کو محبت کا اندازہ نہیں تھا، خریدار بہت چالاک نکلا اس نے مارکیٹ کے حساب سے آدھی قیمت ادا کی۔ ہم نے خوشی سے رقم قبول کی، اب کم ہو یا زیادہ ہمارے باپ کا مال تھوڑا ہی ہے۔


بڑے بڑے ڈاکو چور بھی تجارت کرتے ہیں مال دیتے ہیں رقم حاصل کر تے ہیں۔ اب مال اٹھائے اٹھائے تو نہیں پھرنا ہم قالین تو فروخت نہیں کر رہے آخر وہ بھی رات گئے بوجھ اتارا کرتے ہیں، ہزاروں کا قالین چند ہزار میں فروخت کر کے گھوڑے بیچ کر سو جاتے ہیں۔
جہاں تک کیپٹن کا تعلق ہے غیر ملکی شخصیات سے تحائف لینے کے بعد توشہ خانہ میں جمع نہیں کرائے اور اپنے پاس رکھے پھر اوپن مارکیٹ میں فروخت کر دیئے جبکہ اپنی ہی حکومت کے بنائے ہوئے 18 دسمبر 2018ء کے قانون پر عمل نہیں کیا گیا۔ جبکہ طے شدہ تحفے کی قیمت 20 فیصد سے بڑھ کر 50 فیصد کر دی گئی۔ مگر کیپٹن نے 20 فیصد رقم ادا کرکے تحائف اپنے پاس رکھ لئے۔اس میں دور اندیشی نظر آتی ہے اگر وہ 20 فیصد رقم ادا نہ کرتا تو کوئی اور صاحب حیثیت زیادہ رقم ادا کرتے یہ قیمتی تحفے حاصل کر سکتا تھامگر اپوزیشن کو تو موقعہ ملنا چاہئے انہوں نے گھڑی کے حوالے سے زیادہ مسئلہ بنایا۔ جس میں مسلمانوں کی مقدس عبادات گاہ کی تصویر بھی نظر آتی ہے اور قیمتی ہیرے جواہرات بھی لگے ہوئے ہیں۔


کیا یہ عوام کے مسائل سے توجہ ہٹانے کے لئے شور مچایا گیا ہے مہنگائی، سیلاب کی صورتحال بہت خطرناک ہے۔ اس کی طرف توجہ دینی چاہئے۔ عوام کے مسائل کی طرف کبھی بھی توجہ نہیں دی گئی۔ البتہ آبادی خوفناک حد تک بڑھ رہی ہے۔ جس میں 70 فیصد لوگ کوئی کام نہیں کرتے۔ البتہ انہیں تمام سہولتیں میسر ہیں۔ مفت پولیو کے ٹیکے لگائے جاتے ہیں۔ پانی، رہائش کھانا مفت مل جاتا ہے۔ کوئی ٹیکس وغیرہ نہیں دینا پڑتا۔ ان کے بچوں کو تعلیم و تربیت کی ضرورت نہیں۔ اگر اس قسم کی بڑھتی ہوئی آبادی پر کنٹرول نہ کیا گیا تو حکومت کے تمام بجٹ فیل ہو جائیں گے۔
تو بات ہو رہی تھی توشہ خانے کی وہ عدالت میں زیر سماعت ہے حکومت کو عوام اور ملک کے مسائل حل کرنے کے لئے وقت مل جائے گا ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائے گا۔ گھڑی ہو مگر چین کی گھڑی ہو۔

مزید :

رائے -کالم -