سارہ انعام قتل کیس ،مرکزی ملزم شاہ نواز امیر اور والدہ پر فردجرم عائد

سارہ انعام قتل کیس ،مرکزی ملزم شاہ نواز امیر اور والدہ پر فردجرم عائد
سارہ انعام قتل کیس ،مرکزی ملزم شاہ نواز امیر اور والدہ پر فردجرم عائد

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سیشن کورٹ اسلام آباد نے سارہ انعام قتل کیس میں مرکزی ملزم شاہ نوازامیر اور والدہ ثمینہ شاہ پر فردجرم عائد کردی، ملزموں نے عدالت کے رو بروصحت جرم سے انکارکردیا،عدالت نے 14 دسمبر کے پراسیکیوشن کے گواہ طلب کرلئے ،سیشن جج عطا ربانی نے ملزمان پر فرد جرم عائد کی ۔

نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق سیشن کورٹ اسلام آباد میں سارہ انعام قتل کیس کی سماعت ہوئی، پولیس نے چالان میں ملزم شاہنواز امیر کو قتل کا مرتکب قراردیدیا،چالان میں کہاگیاہے کہ دوران تفتیش ملزم شاہنواز امیر نے سارہ انعام کا قتل تسلیم کرلیا۔

ملزم شاہ نوازامیر نے اپنے بیان میں کہاکہ سارہ انعام بروقت رقم نہیں بھیجتی تھی، چند روز قبل سارہ انعام کو تلخ کلامی پر طلاق دی۔

پولیس چالان میں کہاگیاہے کہ 22 ستمبر کو سارہ انعام ابوظہبی سے پاکستان پہنچی،سارہ انعام سے رات کو تکرار ہوئی، سار ہ انعام نے رقم کا حساب مانگا تو ملزم نے پہلے اسے شوپیس مارا،ملزم کاکہناتھا کہ سارہ انعام نے زیادہ شور کیا تو ڈمبل کے متعدد وار کئے پھرلاش گھسیٹ کر باتھ ٹب میں چھپائی ۔

عدالت نے مرکزی ملزم شاہ نواز اور والدہ ثمینہ شاہ پر فردجرم عائد کردی، ملزموں نے عدالت کے رو بروصحت جرم سے انکارکردیا،عدالت نے 14 دسمبر کے پراسیکیوشن کے گواہ طلب کرلئے ،سیشن جج عطا ربانی نے ملزمان پر فرد جرم عائد کی ۔

مزید :

اہم خبریں -علاقائی -اسلام آباد -