دوسروں پر پتھر پھینکنے کا حق

 دوسروں پر پتھر پھینکنے کا حق
 دوسروں پر پتھر پھینکنے کا حق

  

 مصنف: ڈاکٹر صائمہ علی

قسط:71

اس طرح ”تادم تحریر“ کا مضمون ”موڈرن تعزیت نامہ“ جس کا موضوع ہی دولت مند مغرب زدہ طبقے پر طنز ہے اس میں ایک نواسا اپنے نانا کے انتقال پر نانی کو تعزیت کا خط لکھتا ہے۔ مثال ملاحظہ ہو:

”آخر میں میَں آپ کو مشورہ دوں گا کہ آپ مرنے سے متعلق جتنے بھی فنکشن کریں ان میں کھلے دل سے خرچ کریں کیونکہ اس سے مرنے والے کا سوشل اسٹیٹس"Social Status"بلند ہوتا ہے میری تجویز ہے کہ آپ مولوی صاحب کو کاٹن کا جوڑا دینے کے بجائے اعلیٰ قسم کا سوٹ دیں اور غریبوں اور مسکینوں کو انگریزی کھانا کھلا ئیں تاکہ یہ لوگ جہاں جائیں آپ کی تعریف کریں جب اس جہاں میں ہر آدمی کے ساتھ اس کے سوشل اسٹیٹس کو اہمیت دی جاتی ہے تو عین ممکن ہے کہ اگلے جہاں میں بھی سوشل اسٹیٹس کو اہمیت دی جاتی ہو“

اخلاقی اقدار پر طنز:

ایسا لگتا ہے کہ سالک پہلے ہی طے کر لیتے ہیں کہ امیر شخص ہر قسم کی برائی میں ضرور ملوث ہو گا چنانچہ وہ اس امیر شخص کی اخلاقی تہی دامنی پر طنز کرنا اپنے فرائض منصبی میں شامل سمجھتے ہیں۔ صدیق سالک ایک مذہبی اور روایت پسند انسان ہیں وہ مغربی تہذیب سے درآمدشدہ مادر پدر آزادی سے شدید نفرت کرتے ہیں۔ لیکن ایک مزاح نگار کو یہ زیب نہیں دیتا کہ ان اخلاقی عیوب کی نشاندہی کرتے ہوئے ادیب کے بجائے محتسب کا رویہ اختیار کرے اور طعن و تشنیع سے اسے سنگسار کرے‘ ایسا کرتے ہوئے ان کے طنز کی شدت مزاح کی لطافت کو نقصان پہچاتی ہے مثلاً: زمبابوے کے سفر میں چراغ دین کے گھرانے کے متعلق رقمطراز ہیں:

 ”مزید گفتگو کے دوران جو تفصیلات سامنے آئیں ان کا خلاصہ یہ تھا کہ برخوردار کا تعلق بمبئی کی بزنس فیملی سے ہے کٹر ہندو ہے۔پہلے بینی کا بوائے فرینڈ ہوتا تھا حال ہی میں اس کا خاوند واقع ہوا ہے اور یوں چنیوٹ کی مسلمان شیخ فیملی کا معزز رکن بن گیا۔ میرا سر ندامت سے جھک گیا------- میری گفتگو کے دوران ٹینی ‘ بینی اور راجیش یوں غائب ہو گئے جیسے لاحول پڑھنے سے شیطان۔“

اس اقتباس میں طنز تلوار کی طرح شخص مذکور پر وار کر رہا ہے۔اس طرح وہ ”رشید احمد صدیقی“ کے اس معیار سے بہت پیچھے رہ جاتے ہیں جس میں وہ کہتے ہیں:

”طنز کا مقصد تلقین حقیقت ہوتا ہے اور حقیقت بلاشبہ ہمیشہ تلخ ہوتی ہے اس تلخی کو ایسے الفاظ میں بیان کرنا کہ اس شخص اور سماج کو تو کم نقصان پہنچے لیکن غیر شعوری طورپر اس کی اصلاح ہو جائے کہ جس پروار کیا گیا ہے حقیقی طنز ہے۔“

صدیق سالک کے فن کا یہ حصہ کمزور ہے بشری کمزوریاں ہر شخص میں ہوتی ہیں۔ان کا ذکر اس انداز میں کرنا کہ خود کہیں اس کی گرفت میں نہ آئیں مناسب نہیں۔ معاشرے میں کسی نہ کسی سطح پر وہ ادیب خودبھی شا مل ہوتا ہے۔ کسی شخص پر اتنی کڑی تنقید کا منطقی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ خود کو ان عیوب سے مبّرا سمجھتا ہے کسی سماجی برائی سے خود کو لاتعلق رکھ کر دوسروں پر تنقید کرنا اچھے مزاح کی نشانی نہیں۔ ممتاز مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی کے بقول:

”میری رائے میں (جو ضروری نہیں کہ ناقص ہی ہو) جس شخص کو پہلا پتھر پھینکتے وقت اپنا سر یاد نہیں رہتا اسے دوسروں پر پتھر پھینکنے کا حق نہیں۔“( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )

مزید :

ادب وثقافت -