وہ خوف کے مارے اپنے رہنماکے ساتھ یوں چپکا ہوا تھا جیسے کوئی سہما ہوا بچہ اپنی آیا کے ساتھ لگا ہو

وہ خوف کے مارے اپنے رہنماکے ساتھ یوں چپکا ہوا تھا جیسے کوئی سہما ہوا بچہ اپنی ...
وہ خوف کے مارے اپنے رہنماکے ساتھ یوں چپکا ہوا تھا جیسے کوئی سہما ہوا بچہ اپنی آیا کے ساتھ لگا ہو

  

مصنف : اپٹون سنکلئیر

ترجمہ :عمران الحق چوہان 

 قسط:97

چوکیدار بہت ترش مزاج تھا اس نے کافی ردّوکد کی لیکن یورگس نے اسے کچھ نہیں بتایا۔ چونکہ خط مہربند تھا اس لیے چوکیدار کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ اسے متعلقہ آدمی تک پہنچا دے۔ ایک آدمی نے اندر سے آکر یورگس کو انتظار کرنے کو کہا۔ وہ پھاٹک سے اندر آگیا۔ وہ خود کو ان سے زیادہ خوش قسمت سمجھ رہا تھا جو باہر سے اسے بھوکی نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ 

کارخانہ کام کر رہا تھا۔ آدمی کو اپنے قدموں تلے زمین تھرتھراتی محسوس ہو تی تھی۔ رفتہ رفتہ سارا منظر دکھائی دینے لگا۔ یہاں وہاں اونچی سیاہ عمارات تھیں۔ دکانوں اور چھجوں کے طویل سلسلے تھے۔ ہر طرف ریلوے کی پٹڑیوں کا جال بچھا ہوا تھا۔ زمین پر سرمئی راکھ کی تہہ تھی تو سر پر کالے دھویں کا سائبان۔ ایک طرف ریلوے کا سلسلہ تھا تو دوسری طرف بڑی سی جھیل تھی جہاں اسٹیمر وں پر سامان لادا جا رہا تھا۔یورگس کو 2گھنٹے بعد اندر سے بلاوا آیا، اس دوران وہ تسلی سے ماحول کا جائزہ لیتا رہا۔ وہ عمارت کے اندر داخل ہوا تو کمپنی کے ٹائم کیپر نے اس کا انٹرویو لیا۔ اس نے بتایا کہ سپرنٹندنٹ صاحب تو مصروف ہیں البتہ وہ یورگس کے لیے کوئی نوکری ڈھونڈنے کی کوشش کرے گا۔اچھا پہلے کبھی اسٹیل مل میں کام نہیں کیا ؟ کوئی بھی کام کرنے کے لیے تیار ہو ؟ چلو ٹھیک ہے، تو چل کر دیکھتے ہیں۔

مل کی سیاحت شروع ہوئی۔ یورگس کے لیے سب کچھ حیران کُن تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ کیا وہ ایسی جگہ کام کر سکے گا جہاں ہر وقت ہوا گرج سے لرزتی رہتی اور ہرجانب مسلسل تنبیہی سیٹیاں بجتی رہتی تھیں۔ چھوٹے انجن جیسے اس پر چڑھے آتے تھے اور پگھلا ہوا سفید فولاد اس کے آس پاس بہتا تھا۔ آگ اور شعلوں کی تپش سے اسے چہرہ جھلستا محسوس ہو رہا تھا۔ وہاں کام کرنے والے تمام مزدوروں کے چہرے کلونس سے کالے تھے۔ ان کی آنکھیں اندر دھنسی ہوئیں اور مونھ مریل سے دکھائی دیتے تھے۔ وہ بہت تندہی سے کام کر رہے تھے اور کام کے دوران ادھر اُدھر بھاگتے ہوئے آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے تھے۔ یورگس خوف کے مارے اپنے رہنماکے ساتھ یوں چپکا ہوا تھا جیسے کوئی سہما ہوا بچہ اپنی آیا کے ساتھ لگا ہو۔ اس کا رہنماجگہ جگہ فورمینوں سے پوچھتا کہ کیا ان کے پاس کسی ناتجربہ کار کی جگہ ہے۔ 

اسے بیس سیمر فرنس (Bessemer furnace) میں لے جایا گیا جہاں فولاد کی سلاخیں بنتی تھیں۔ گنبد نما عمارت جو دیکھنے میں تھیٹر جتنی بڑی تھی۔ سامنے سٹیج کی جگہ پر تین بڑی بڑی دیگیں تھیں۔ وہ اتنی بڑی تھیں کہ جہنم کے سارے شیطان ان میں ڈال کر ابالے جا سکتے تھے۔ ان میں کوئی خِیرہ کُن چیز ابل رہی تھی جس کی چھینٹے اڑتے تھے اور گرج کی آواز آتی تھی۔یوں لگتا تھا جیسے کوئی آتش فشاں پھٹنے کو ہے۔ یہاں بات کرنے کے لیے چیخنا پڑتا تھا۔ ان دیگوں سے پگھلی ہوئی آگ چھلک کر بموں کی طرح نیچے گرتی تھی اور وہاںمزدور اتنی بے پروائی سے کام میں مگن تھے کہ یورگس کو ڈر لگ رہا تھا۔ پھر ایک سیٹی بجی اور اور ایک انجن اندر آیا جس پر لدا بوجھ ایک ذخیرے میں ڈال دیا گیا۔ پھر دوسری سیٹی بجی، ایک دوسری ٹرین اندر آئی اور بغیر کسی تنبیہ کے بڑی دیگ کا شوں شوں کرتا اور شعلے اگلتا مواد اس میں انڈیلا جانے لگا۔ یورگس یہ سمجھ کر کہ کوئی حادثہ ہوگیا ہے ڈر کر پیچھے ہٹ گیا اور ہاتھوں سے چہرے ڈھانپ لیا۔ یہ اتنی سفید آگ تھی کہ آنکھیں جھلساتی تھیں۔ دیگ خالی ہوکر واپس سیدھی ہوئی تو یورگس کو یہ دیکھ کر اطمینان ہوا کہ کوئی زخمی نہیں ہوا تھا۔ وہ اپنے رہنماکے ساتھ باہر دھوپ میں آگیا۔

وہاں سے وہ بلاسٹ فرنس میں گئے، پھر رولنگ مل میں گئے جہاں فولاد کی سلاخیں یوں کاٹی جا رہی تھیں جیسے پنیر کے ٹکڑے کاٹے جا رہے ہوں۔ ہر طرف دیو قامت مشینوں کی بانھیں حرکت کر رہی تھیں، بڑے بڑے پہیے گھوم رہے تھے، بڑے بڑے ہتھوڑے کُٹائی کر رہے تھے، اوپر بھاری کرینیں اِدھر اُدھر آتے جاتے ہوئے اپنے آہنی ہاتھوں سے آہنی شکار کو دبوچ رہی تھیں۔ یوں لگتا تھا جیسے وہ زمین کے مرکز میں کھڑا ہے اور وقت کی مشینیں چل رہی ہےں۔

آخر وہ اس جگہ پہنچ گئے جہاں اسٹیل کی پٹڑیاں بنائی جا رہی تھیں۔ یورگس کو اپنے عقب میں ایک سیٹی سنائی دی اور وہ اچھل کر ایک گاڑی کی زد میں آتے آتے بچا۔ اس گاڑی پر پگھلا ہوا لوہا لدا تھا۔ گاڑی یک دم رکی تو پگھلا ہوا لوہا متحرک پلیٹ فارم پر چھلک گیا جہاں اسٹیل کی بانھوں اور ہاتھوں نے اسے دبوچ لیا۔ اسے کُوٹ پِیٹ کر ایک جگہ اکٹھا کیا گیا پھر اسے ایک بڑے رولر میں ڈال دیا گیا۔ وہاں سے آگے اسے پھر دوسری مشین میں ڈالا گیا جہاں اسے موٹی سلاخوں میںتبدیل کرنے کا عمل شروع ہوا۔ یہ سرخ دہکتا ہوا لوہا کسی سانپ کی طرح زندہ محسوس ہوتا تھا۔ یہ عمل تب تک چلتا رہا جب تک وہ ٹھنڈا اور سیاہ نہیں ہوگیا۔ اس کے بعد اسے ریل کی پٹڑی میں تبدیل کرنے کے لیے صرف سیدھا کرنے کی ضرورت تھی۔ اس عمل کے آخرپر پہنچ کر یورگس کی نوکری کا امکان بھی پیدا ہوا۔ ان پٹڑیوں کو مزدور کسنیوں (crowbars) کی مدد سے اٹھا رہے تھے۔ وہاں باس کو ایک آدمی کی ضرورت تھی۔ یورگس نے کوٹ اتارا اور فوراً ہی کام میں جُٹ گیا۔( جاری ہے ) 

نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

ادب وثقافت -