کالی بنگن کا مغربی ٹیلا قلعہ ہی تھا یا پھر سچ مچ کے قلعے کی نقل تھا؟

کالی بنگن کا مغربی ٹیلا قلعہ ہی تھا یا پھر سچ مچ کے قلعے کی نقل تھا؟
کالی بنگن کا مغربی ٹیلا قلعہ ہی تھا یا پھر سچ مچ کے قلعے کی نقل تھا؟

  

مصنف: سرمور ٹیمر وھیلر

ترجمہ:زبیر رضوی

قسط:5

قلعے والے ٹیلے پر جو حفاظتی انتظام کے طور پر کچّی اینٹوں کی ایک فصیل تھی اس فصیل کی بنیاد 40 فٹ چوڑی تھی اور وہ اوپر کو کم ہوتی جاتی تھی۔ اس کی مضبوطی اور تحفظ کے لیے باہر کی طرف پختہ اینٹوں کی چنائی تھی جو اسی طرح اوپر کو جاتی ہوئی پتلی ہوجاتی تھی۔ ٹیلے اور دریا کے درمیانی 300 گز علاقے میں مزدوروں کے رہنے کے لیے بیرکوں جیسی ساخت کی مجموعی عمارتیں تھیں۔ ایک دوسرے کے ساتھ سٹے ہوئے ایسے گول فرشوں کی قطاریں تھیں جن پر درمیان میں اناج چھڑنے کے لیے لکڑی کی اوکھلیاں لگی ہوں گی اور روشندانوں سے آراستہ اناج کے گوداموں کی دو قطاریں تھیں۔ کل 12گودام تھے جو قاعدے کے ساتھ ایک بڑے اور اونچے چبوترے پر بنے تھے۔ اناج کے گوداموں کے فرشوں کا کل رقبہ کوئی 9 ہزار مربع فٹ تھا۔

توسیع سے پہلے موہن جوداڑو کے اناج گوداموں کا رقبہ بھی قریب قریب اتنا ہی رہا ہوگا۔ قلعے کے زیرسایہ ان عمارتوں کی منصوبہ بندی سے ظاہر ہوتا ہے کہ اناج کے بلدیاتی ذخیروں پر‘ دریائی راستے سے بھی بہت قریب واقع تھے‘ چست انتظامی کنٹرول تھا‘ قلعے کے جنوب میں ایک وسیع قبرستان تھا جس کے متعلق مزید تذکرہ کیا جائے گا۔

بوقت تحریر (1965ءمیں) سندھ کی تہذیب سے متعلق جس اہم ترین مقام کی کھدائی (بی۔ بی۔ لال اور بی۔ کے تھاپر کی زیرنگرانی) ہورہی تھی وہ کالی بنگن ہے۔

یہ جگہ راجستھان کے گنگا نگر ضلع میں گھگھر (سابقہ سرسوتی) دریا کی خشک وادی کے پاس ہے اور ہڑپہ سے 100 میل جنوب مشرق میں واقع ہے۔ جو نشانات دکھائی دیتے ہیں وہ دو ٹیلوں پر مشتمل ہیں۔ ایک چھوٹا ٹیلا مغرب میں ہے اور دوسرا اس سے بڑا ٹیلا مغرب کی سمت واقع ہے۔ پہلے ٹیلے کی بنیاد میں ہڑپہ سے پہلے کا کوئی تمدن ہے جو بعد میں ہڑپہ کے آثار میں مدغم ہوگیا ہے۔ ان آثار میں ایک چبوترہ یا چبوتروں کا مجموعہ ہے جس کے گرد کچی اینٹوں کی مستطیل دیوار تھی۔ اس دیوار میں جگہ جگہ مستطیل برجیاں تھیں۔ شاید جنوب کی سمت داخلے کا ایک راستہ تھا جہاں کچھ پکی اینٹوں کی چنائی تھی جو آثار بچ رہے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ باہر کی طرف کچی اینٹوں کی تعمیر کو اس طرح ہموار کیا گیا تھا کہ وہ اوپر کو جاتے ہوئے پتلی ہوتی گئی تھی اور اس پر گارے کا پلستر کیا گیا تھا۔

اس میناروں والی دیوار کی تعمیر کا مقصد تحفظ کے سوا اور کچھ ہونا قرین قیاس نہیں ہے۔ یا اگر یہ ساخت خالص رہی تھی تو کسی فوجی تعمیر کے نمونے کی نقل ہوگی۔ ایک خیال یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ہوسکتا ہے اسے مذہبی رسوم کے لیے مخصوص ایک ٹیلے کو سیلاب سے محفوظ رکھنے کے لیے بنایا گیا ہو لیکن جو سامان لگایا گیا ہے اسے دیکھتے ہوئے یہ اندازہ صحیح نہیں ہے۔ (سیلاب کو کچّی اینٹوں سے روکنا ایسے ہی ہے جیسے اسے کھچڑی سے روکنے کی کوشش کرنا)۔ کالی بنگن کا مغربی ٹیلا قلعہ ہی تھا یا پھر سچ مچ کے قلعے کی نقل تھا۔ پہلے سے موجود ایک ٹیلے کو سہولت کے لیے بنیاد بنالیا گیا تھا۔ یہ قلعے والا ٹیلہ‘ ہڑپہ اور موہن جوداڑو کے مغربی سروں پر واقع دیواروں والے ٹیلوں سے مشابہ ہے۔( جاری ہے )

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -