”میں شاعر آخر الزماں ہوں اے جوش“۔۔۔آج جوش ملیح آبادی کو یاد کرنے کا دن ہے

”میں شاعر آخر الزماں ہوں اے جوش“۔۔۔آج جوش ملیح آبادی کو یاد کرنے کا دن ہے
”میں شاعر آخر الزماں ہوں اے جوش“۔۔۔آج جوش ملیح آبادی کو یاد کرنے کا دن ہے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

آج حضرت جوش ملیح آبادی کا یوم پیدائش ہے .

جوش ملیح آبادی(اصل نام شبیر حسن خاں تھا ) 5 دسمبر 1894ءکو ملیح آباد میں پیدا ہوئے۔ جوش کے والد نواب بشیر احمد خان، دادا نواب محمد احمد خاں اور پر دادا نواب فقیر محمد خاں گویا سبھی صاحب دیوان شاعر تھے۔
جوش نے 9برس کی عمر میں پہلا شعر کہا۔ ابتدا ءمیں عزیز لکھنوی سے اصلاح سخن لی پھر یہ سلسلہ منقطع ہوگیا اور خود اپنی طبیعت کو رہنما بنایا۔ عربی کی تعلیم مرزا ہادی رسوا سے اور فارسی اور اردو کی تعلیم مولانا قدرت بیگ ملیح آبادی سے حاصل کی۔
جوش نے حیدرآباد (دکن)، دہلی، کراچی اور اسلام آباد کئی شہروں میں زندگی گزاری۔ 2 رسالوں کلیم اور آج کل کے مدیر رہے، کئی فلموں کے گانے اور مکالمے لکھے اور پاکستان آنے کے بعد اردو لغت کے مدیر رہے۔

جوش ملیح آبادی نے متعدد شعری مجموعے یادگار چھوڑے۔ اپنی خودنوشت "یادوں کی برات "کے نام سے تحریر کی۔ جنگل کی شہزادی، ایسٹ انڈیا کمپنی کے فرزندوں سے خطاب، مناظر سحر، تلاشی اور فتنہ خانقاہ آپ کی مشہور نظمیں ہیں۔" حسین اور انقلاب" وہ مرثیہ ہے، جس نے مرثیہ گوئی کے ایک نئے دبستان کی بنیاد رکھی۔
70ء کی دہائی میں جوش کراچی سے اسلام آباد منتقل ہوگئے۔ 1978ءمیں انہیں ان کے ایک متنازع انٹرویو کی وجہ سے ذرائع ابلاغ میں بلیک لسٹ کردیا گیا مگر کچھ ہی دنوں بعد ان کی مراعات بحال کردی گئیں۔
حضرت جوش ملیح آبادی نے22فروری 1982ء کو اسلام آباد میں وفات پائی اور وہیں آسودہ خاک ہوئے۔ ان کی تاریخ وفات معروف شاعر نصیر ترابی نے ان کے اس مصرع سے نکالی تھی”میں شاعر آخر الزماں ہوں اے جوش“۔

مزید :

ادب وثقافت -