ڈیموں کی تعمیر نے سندھو کی ڈاؤن سٹریم زندگی مشکل کر دی، جن لوگوں کا صدیوں سے سندھو کے پانی پر حق تھا آج انہیں پینے کے لئے بھی پانی میسر نہیں رہا 

ڈیموں کی تعمیر نے سندھو کی ڈاؤن سٹریم زندگی مشکل کر دی، جن لوگوں کا صدیوں سے ...
ڈیموں کی تعمیر نے سندھو کی ڈاؤن سٹریم زندگی مشکل کر دی، جن لوگوں کا صدیوں سے سندھو کے پانی پر حق تھا آج انہیں پینے کے لئے بھی پانی میسر نہیں رہا 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 مصنف:شہزاد احمد حمید
 قسط:208
 ”سکندر اعظم کا بیڑا بھی 325 قبل مسیح میں مصر جاتے ہوئے کچھ دیر کے لئے یہاں رکا تھا۔تاریخ ہند (چچ نامہ) کے مطابق؛”چھٹی صدی عیسوی میں دیبل کی بندرگاہ بھی اسی مقام پر تھی جہاں آج میرا مغربی ڈیلٹا ہے۔دیبل کے ”ناگا قبائل“ کے قذاقوں نے مسلمانوں کے تجارتی قافلے کو لوٹاتو خلیفہ عبدالمالک نے سندھ کے حکمران راجہ داہر کو اُن کے خلاف کارروائی کے لئے کہا۔ انکار پر خطہ کی تاریخ بدل دی جب محمد بن قاسم نے712 ء میں دیبل اور ارد گرد کا علاقہ فتح کیا اور ملتان تک جا پہنچا۔ تاریخ کے اوراق میں 1223ء تک اس بندرگاہ کا ذکر ملتا ہے۔ابن بطوطہ جب سندھ آیا تو وہ لکھتا ہے؛ ”دیبل کی بندرگاہ کو غیر آباد ہوئے عرصہ بیت چکا ہے۔محمد بن قاسم کے جانے کے بعد یہ ڈیلٹا مختلف حکمرانوں کے قبضہ میں رہا۔ کچھ پر عباسی خلفاء کا کنٹرول رہا اور کچھ پر ””سمرا“ قبیلے کا۔ ڈیلٹا کے قدیم مقامات میں سے اب کسی کا بھی نام و نشان باقی نہیں ہے۔“ سندھو مزید کچھ نہ کہہ سکا۔ باتیں کرتے کرتے اس کا سانس اکھڑنے لگا ہے۔
یہ ڈیلٹا دنیا کا اہم ترین خطہ اور نقل مکانی کرکے یہاں آنے والے ایک سو پنتالیس (145) مختلف اقسام کے پرندوں کا مسکن بھی ہے۔ ان میں بائیس کا تعلق سندھو سے ہے جبکہ باقی ہجرت کرکے یہاں پہنچتے ہیں۔یہاں ڈولفن کی خاص نسل ”بلائنڈ ڈولفن“ بھی پائی جاتی ہے۔ ایسی ڈولفن دریائے گنگا میں بھی ہے لیکن اس کی اور سندھو کی نسل میں فرق ہے۔آبی زندگی میں 26 قسم کی مچھلی بھی پائی جاتی ہے جن میں پلا، گولڈن مہاشیر، indus garua  indus baril  کے علاوہ سانپ کی شکل کی مچھلیاں شامل ہیں۔ ان میں قابل ذکر  chauna marolios  بھی ہے جو دو میٹر تک لمبی ہو سکتی ہے۔”ہلسا مچھلی“ تو ایک دم میں ستر (70) میٹر تک کا فاصلہ طے کر سکتی ہے۔پلا مچھلی تو اس دریا کی سوغات اور دریائی لوگوں کی من بھاتی خوراک ہے۔سندھو کی جھولی سے صدیوں سے ماہی گیر اپنا رزق حاصل کرتے رہے ہیں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ جھولی سکڑتی جارہی ہے۔”اکبر پنوار“ ملاح کو تو یہ بھی یاد نہیں کہ اس کے آباؤ اجداد نے کب ماہی گیری کا پیشہ اپنایا تھا۔ البتہ اسے یہ اچھی طرح یاد ہے ”کہ دو دہائیاں قبل تک سندھو اور وہ دونوں ہی خوشحال تھے۔ اب ان کے جال خالی لوٹنے لگے ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ بعض دفعہ تو بچوں کے لئے بھی مچھلی ہاتھ نہیں آتی ہے۔ تربیلا، تونسہ، گڈو، سکھر اور کوٹری بیراجز نے سندھو کے بہاؤ میں نمایاں کمی کر دی ہے۔ اس کے ڈیلٹا تک پانی کی مقدار انتہائی کم ہو گئی ہے۔ ڈیلٹا کے اضلاع بھی کافی متاثر ہوئے ہیں اوراب داسو ڈیم سے پانی مزید کم ہو جائے گا اور ماہی گیری بھی خطرے میں پڑ جائے گی۔“ سندھی ماہی گیروں کا خیال بلکہ شکوہ ہے کہ”ڈیموں کی تعمیر نے سندھو کی ڈاؤن سٹریم زندگی مشکل کر دی ہے۔ جن لوگوں کا صدیوں سے سندھو کے پانی پر حق تھا آج انہیں زراعت، مال مویشی تو دور کی بات خود پینے کے لئے بھی پانی میسر نہیں رہا ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے مچھلی کا کاروبار صدیوں سے یہاں کے لوگوں کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دریائی لوگوں کی کثیر تعداد تقریباً 70 فی صد(70) مچھلی جبکہ (سترہ) 17فی صد زراعت کے شعبے سے وابستہ ہے۔“
پانی نہ ہونے سے سندھو کے اطراف جنگل بھی کم پڑنے لگے ہیں دوسرے الفاظ میں ختم ہو رہے ہیں۔ دریائی لوگ سندھو سے بے دخل ہو رہے ہیں اور ایک اندازے کے مطابق آٹھ لاکھ لوگ ڈیلٹا سے نقل مکانی کر گئے ہیں اور بہت سے نقل مکانی کی تیاری میں ہیں۔”انسٹیوٹیو ٹ آف اوشیونو گرافی“ کی رپورٹ کے مطابق؛ ”ہر سال سمندر کی سطح میں ایک اشاریہ تین فی صد (1-3) اضافہ ہو رہا ہے۔ حکومت سندھ کے مطابق پنتیس لاکھ (3500000) ایکڑ زمین سمندر برد ہو چکی ہے یا بنجر بن چکی ہے۔ما ہر ماحولیات”ناصر پنوار“کے مطابق؛  ”سمندر آگے بڑھنے سے زیر زمین میٹھے پانی کے ذخائر بھی کھارے ہو چکے ہیں۔نتیجہ یہ ہے کہ ایک طرف لوگ میٹھے پانی سے محروم ہو رہے ہیں تو دوسری طرف زمین بنجر ہو رہی ہے۔ سندھوکے پانی میں سلٹ نہ آنے کی وجہ سے سمندر آگے بڑھ رہا ہے۔ ”تمر“  کے پودے تباہ ہو ئے ہیں لیکن اب ان کو دوبارہ لگایا گیا ہے۔ یہ پودے آبی حیات جیسے مچھلی، جھنگے اور کیکڑوں کی افزائش کے لئے اہم ہیں۔یہاں کی انیس (19)جھیلوں اور سندھو کے ڈیلٹا کو عالمی ”رامسر کنونشن“(اس کنونشن پرایران کے شہر رامسر(ramser) میں 1971ء میں دستخط کئے گئے تھے) کے تحت تحفظ دیا گیا ہے۔ یہاں کئی قسم کے نباتات، پرندے اور حیوانات پائے جاتے ہیں۔سرد علاقوں سے جو پردیسی پرندے ادھر کا رخ کرتے ہیں ان کا راستہ بھی انڈس ڈیلٹا کے اوپر سے ہی گزرتا ہے۔ یہ ”انڈس فلائی زون“ کہلاتا ہے۔ڈیلٹا میں پانی کی کمی کی وجہ سے جھیلیں بھی خشک ہو رہی ہیں۔ ناصر پنوار کے مطابق پانی کی ترجیح میں پہلے زراعت، پھر انسان اور آخر میں صنعت ہونی چا ہیے۔“(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں)

مزید :

ادب وثقافت -