کالج سے واپسی پر 4 آنے کے پکوڑے لے آتا، پیاز مصالحہ ڈال کر شاندار ڈش بن جاتی، ایک دن چاول بنانے کی کوشش کی جسکا انجام ناقابل قبول تھا

 کالج سے واپسی پر 4 آنے کے پکوڑے لے آتا، پیاز مصالحہ ڈال کر شاندار ڈش بن جاتی، ...
 کالج سے واپسی پر 4 آنے کے پکوڑے لے آتا، پیاز مصالحہ ڈال کر شاندار ڈش بن جاتی، ایک دن چاول بنانے کی کوشش کی جسکا انجام ناقابل قبول تھا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 مصنف:محمد سعید جاوید
قسط:116
 کامل تنہائی
اگلے دو تین دن سخت ذہنی تناؤ میں گزرے، ابا جان کی کوئی خبر نہیں آ رہی تھی اور نہ ہی کوئی ذریعہ تھا جس سے پتہ چلتا کہ وہ خیریت سے راولپنڈی پہنچ گئے ہیں۔ کچھ بھی تو اچھا نہیں لگ رہا تھا۔
ا نہی دنوں پاکستان آرمی کی طرف سے ایک خط آیا کہ آپ فوری طور پر دوبارہ سلیکشن سنٹر پہنچیں تاکہ آپ کی فوج میں بھرتی کے سلسلے میں مزید کارروائی کی جاسکے، پتہ نہیں کیا ہوا کہ اب جانے کو دل ہی نہ مانا، ایک تو ویسے ہی پریشانی بہت تھی دوسرا ذہن کے کسی گوشے میں عجیب سا ایک شکوہ بھی آ گیا کہ جب میں اپنی خوشی سے وہاں گیا تھا تو  مجھے گھر کا راستہ دکھا دیا گیا اور اب جب جنگ کی وجہ سے شاید نوجوانوں کی ضرورت آ پڑی ہے تو رد کئے گئے لوگوں کو بھی بلا لیا گیا ہے۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ یہ سچ نہیں تھا، بات صرف اتنی تھی کہ یکے بعد دیگرے ایسے حالات ہوئے  تھے کہ دل بہت پریشان تھا اور میں تنہا کوئی بھی بڑا فیصلہ کرنے کا حوصلہ اور ہمت اپنے اندر نہیں پاتا تھا۔ 
پھر ایک شام جب گھر آیا تو قصرِ صدارت کے ایک ملازم نے پیغام پہنچایا کہ آپ کے ابا جان کا فون آیا تھا کہ وہ لوگ خیریت سے راولپنڈی پہنچ گئے ہیں۔ ذہن سے ایک بوجھ اترا تو حالات سے سمجھوتا کر لیا، نہ بھی کرتا تو کیا ہو جاتا، حالات تو بدل نہیں سکتے تھے وہ لوگوں کی پسندو نا پسند سے بے نیاز اپنے معمول کے مطابق چلتے رہتے ہیں۔ابھی تک میری مرضی سے کیا ہوا تھا جو اب ہوجاتا۔
محدود سی رقم سے،جو ابا جان جاتے وقت دے گئے تھے، ہوٹل سے روزانہ کھانا لانا ناممکن تھا۔ اس لیے میں نے اپنے آپ پر سگھڑ پن طاری کیا اور پہلی بار گھر میں انڈہ بنایا، جس میں نمک مرچ ڈال کر تلنے سے جو بھی نتیجہ نکلتا میں اس کو آملیٹ کا نام دے کر صبر شکر کر کے کھا لیتا۔ پھر ہمت بڑھی تو دالیں لے آیا۔ شروع میں تو ایسی کوشش کرنے سے ایک عجیب و غریب اور نا قابل شناخت سی کوئی چیز معرض وجود میں آتی تھی۔ بہر کیف جو کچھ بھی بنتا اور جیسا بھی بنتا تھا وہ میرے لیے سالن ہی ہوتا تھا۔ دوڑ کر باہر تندور سے روٹیاں لے آتا اور یوں یہ سلسلہ چل نکلا۔
 اکثر دوپہر کو کالج سے واپسی پر میں 4 آنے کے پکوڑے لے آتا، اور تھوڑا سا پیاز مصالحہ بنا کر پکوڑے مسل کر ان میں ڈال دیتا اور یوں ایک شاندار ڈش تیار ہو جاتی جسے میں انتہائی ایمانداری سے 2حصوں میں تقسیم کر لیتا، ایک فوراً ہی استعمال ہو جاتا دوسرا شام کے لیے بچا رکھتا۔ ایک دن چاول بنانے کی کوشش بھی کی جس کا انجام انتہائی دردناک اور ناقابل قبول تھا، ایسے شاہکار کو آخر کارکوڑے کے ڈھیر میں ہی گم ہو جانا ہوتا تھا۔ اسی طرح اور بھی کئی لاشوں کو اخبار میں لپیٹ کر باہر پھینکا گیا۔پھر ان تجربوں کی بدولت اعتماد بڑھا توحالات قدرے بہتر ہونے لگے۔ 
 ہفتے میں ایک دن میں مکمل عیاشی کرتا تھا، اور چائے سموسموں میں سے بچائے ہوئے پیسوں سے میں شہنشاہی طعام کیاکرتا، جو ایک پلیٹ پلاؤ، تھوڑا سا مٹن قورمہ، 2 تندروی روٹیاں، اور کٹے ہوئے چند پیاز پر مشتمل  ہوتا تھا جن کے ساتھ چٹنی کے نام پر 2چمچے دہی نما پانی کے بھی مل جاتے۔ یہ سب کچھ کسی بھی ایرانی ہوٹل سے ایک روپے میں باآسانی دستیاب تھا۔اس وقت تک وہاں کا کھانا بہت اچھا لگتا تھا جب تک کہ آپ ان کے باورچی خانے اور باورچیوں کا حلیہ نہ دیکھ لیں جن کے بڑے بڑے پیٹ میلی کچیلی اور پھٹی ہوئی بنیانوں سے اتنا باہر آجاتے تھے کہ بنیان لپٹ کر گلے تک چڑھ جاتی تھی۔ظلم کی انتہا یہ تھی کہ ان کے ویٹر بھی ہر وقت منہ میں پان کی گلوری دبائے پھرتے اور اسی حالت میں جب وہ آسمان کی طرف منہ اٹھا کر رٹا رٹایا مینو بیان کرتے تو انتہائی احتیاط کے باوجود بھی وہ سامنے بیٹھے ہوئے گاہک کو اپنی پیک سے سیراب کر دیتے تھے۔اس لیے اکثرلوگ تو ان کے منہ کھلنے سے قبل ہی اپنے مطلوبہ کھانے کے بارے میں بتا کر انھیں رخصت کر دیا کرتے۔اور جو کوئی ایسا نہ کرتا تھاتو وہ بعدمیں بڑی دیر تک پچھتاتا رہتاکہ آخر اس نے ایسا کیوں نہ کیا، کر لیتا تو کم از کم کپڑے بچ جاتے۔ 
 (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -