جب آپ شریک حیات کے بارے میں غودغرضانہ رویہ اختیار کر لیتے ہیں تو ”ذہنی طلاق“ اسی وقت رونما ہو جاتی ہے, آپ بھی غلطیوں سے مبرا نہیں 

جب آپ شریک حیات کے بارے میں غودغرضانہ رویہ اختیار کر لیتے ہیں تو ”ذہنی طلاق“ ...
جب آپ شریک حیات کے بارے میں غودغرضانہ رویہ اختیار کر لیتے ہیں تو ”ذہنی طلاق“ اسی وقت رونما ہو جاتی ہے, آپ بھی غلطیوں سے مبرا نہیں 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 مصنف: ڈاکٹر جوزف مرفی
مترجم: ریاض محمود انجم
قسط:121
8:آپ دعا کے ذریعے اپنے جس مطلوبہ اور متوقع ساتھی کی تلاش میں ہیں، زماں و مکاں کے لحاظ سے اس سے ملاقات پر مصر نہ ہوں۔ اپنے تحت الشعوری ذہن کی فہم و فراست اور دانش پر مکمل اور قطعی یقین اور بھروسہ رکھیے۔ آپ کے تحت الشعور کے پاس ہر قسم کی مہارت موجود ہے اور اسے آپ کی مدد کی بھی ضرورت نہیں ہے۔
9:جب آپ اپنے شریک حیات کے بارے میں رنجیدگی، نفرت، کراہت، پرخاش، بدنیتی اور غودغرضانہ رویہ اختیار کر لیتے ہیں تو ”ذہنی طلاق“ اسی وقت رونما ہو جاتی ہے۔ آپ بھی غلطیوں سے مبرا نہیں ہیں۔ شادی کے اس عہد و پیمان پر قائم رہیے: ”تمام زندگی میں اپنے / اپنی شریک حیات کو خوشی، سکون، طمانیت اور عزت مہیا کروں گا / گی۔“
10:اپنے شریک حیات کے متعلق منفی رویہ ترک کر دیجیے۔ اپنے شریک حیات کیلئے محبت و چاہت، سکون، طمانیت، باہمی آہنگی اور نیک نیتی پر مبنی روئیے کا اظہار کیجیے، اس طرح آپ کی ازدواجی زندگی مزید خوبصورت اور شاندار ہوتی جائے گی۔
11:ایک دوسرے کو اپنی محبت، طمانیت اور اخلاص سے فیض یاب کیجیے۔ یہ متحرک جذبات آپ کے تحت شعور پر نقش ہو جاتے ہیں جسکے ذریعے آپ کی ازدواجی زندگی میں باہمی اعتماد و بھروسہ، محبت، چاہت اور عزت و احترام پیدا ہوتا ہے۔
12:ایک نکتہ چینی بیوی عام طور پر محبت وپیار کی طلبگار اور متلاشی ہوتی ہے۔ ا س کی خوبیوں اور اچھے کاموں کو سراہیں۔ اپنے روئیے سے ظاہر کریں کہ آپ کے دل میں اس کیلئے محبت و پیار اور تعریف و ستائش موجود ہے۔
13:ایک خاوند جو اپنی بیوی کو چاہتا ہے، اس سے محبت کرتا ہے، زبانی یا فعلی طور پر کبھی وہ منفی او رغلط رویہ نہیں اپناتا۔ محبت کی عملی شکل ہی محبت ہے۔
14:ازدواجی زندگی کے متعلق مسائل و معاملات کے ضمن میں، ہمیشہ کسی ماہر فرد سے رابطہ کریں اور اس سے راہنمائی اور مشاورت حاصل کریں۔ آپ اپنے دانت نکلوانے کیلئے کسی بڑھئی کے پاس نہیں جا سکتے، اسی طرح اپنے ازدواجی زندگی کے مسائل کے ضمن میں اپنے پڑوسیوں یا رشتہ د اروں سے گفتگو مت کیجیے۔ اس ضمن میں کسی ماہر اور تربیت یافتہ مشیر سے رابطہ اور گفتگو کریں۔
15:اپنے خاوند یا بیوی کی فطری عادات کو بدلنے کی ہرگز کوشش نہ کیجیے۔ عام طور پر ایسی کوششیں احمقانہ ثابت ہوتی ہیں اور ایک دوسرے کی عزت و افتخار کی تباہی کا سامان ہوتی ہیں۔ مزید، ان کوششوں کے باعث دونوں میں رنجیدگی اور ناراضگی کے احساسات و جذبات پید اہوتے ہیں جو شادی کے بندھن اورعہد کیلئے نہایت ہی مہلک اور نقصان دہ ثات ہوتے ہیں۔
16:آپ دونوں اکٹھے ہی دعا کریں۔ اس طرح آپ مستقبل میں بھی اکٹھے رہیں گے۔ سائنسی انداز میں مانگی ہوئی دعا تمام مسائل کے حل کی ضامن ہے۔ ذہنی تصور اور تخیل کے ذریعے اپنی بیوی کو خوش و خرم، صحت مند اور خوبصورت دیکھیے۔ اسی طرح، بیوی کو چاہیے کہ وہ بھی عالم تخیل میں اپنے خاوند کو مضبوط، طاقتور، محبت آمیز اور مہربان سمجھے۔ ان ذہنی تصورات و تخیلات کو برقرار رکھیے۔ آپ محسوس کریں گے کہ آپ کی یہ ازدواجی زندگی،جنت کا ایک تحفہ ہے۔(جاری ہے) 
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں)

مزید :

ادب وثقافت -