بہو کی سالگرہ منانے چائینیز ریسٹورنٹ گئے، کھاناخوب مزے لے لے کر کھایا، پھر آئس کریم کھانے چلے گئے،آرڈر لینے انڈین لڑکی آئی 

 بہو کی سالگرہ منانے چائینیز ریسٹورنٹ گئے، کھاناخوب مزے لے لے کر کھایا، پھر ...
 بہو کی سالگرہ منانے چائینیز ریسٹورنٹ گئے، کھاناخوب مزے لے لے کر کھایا، پھر آئس کریم کھانے چلے گئے،آرڈر لینے انڈین لڑکی آئی 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:ع۔ غ۔ جانباز 
قسط:36
بیگم احمد ندیم کی برتھ ڈے پارٹی 
یہی کوئی 20 منٹ کی مسافت پر واقع Hakka Ren"  "Chinese Restaurant میں ہم شام کو جا پہنچے۔ برخوردار ارسلان احمد نے پہلے پہنچ کر ایک ٹیبل بک کروا لیا تھا، کیونکہ وہاں کافی رش تھا۔ مجھے یہ ریسٹورنٹ کافی بڑا لگا۔ لیکن یہ عقدہ بعد میں کھلا کہ جناب انہوں نے ایک طرف کی ساری دیوار میں شیشہ لگایا ہوا ہے اور سارے اندر بیٹھے لوگ اُس شیشے سے منعکش ہو کر دوسری طرف دکھائی دیتے ہیں۔
برخوردار ارسلان احمد نے اپنی امّی کو ایک بریس لیٹ گفٹ کیا اور ساتھ ہی میری بیگم نے بھی اپنی بہو کو نقدی کی صورت میں گفٹ دیا کہ وہ اپنی پسند کا گفٹ لے لے۔ پھر کیک کاٹا گیا اورہیپی برتھ ڈے کا شور تالیوں کی گونج میں سُنا گیا۔
چائینیز کھانے کا آرڈر آتے ہی دے دیا گیا تھا جو سرو کردیا گیا۔ کھانا بڑا لذیذ تھا۔ خوب مزے لے لے کر کھانا کھایا گیا اور ساتھ کوک سپرائٹ کا اضافہ کیا۔ یہیں بات ختم نہیں ہوئی۔ میٹھے کے لیے کچھ فاصلے پر ایک سب وے پر جا براجمان ہوئے اور اپنی اپنی پسند کی آئس کریم وغیرہ کا آرڈر دے دیا۔ آرڈر لینے والی انڈین لڑکی کی سمارٹنس قابلِ داد تھی۔ یوں سب وے کے اندر چل پھر رہی تھی جیسے کوئی مکینیکل کل پرزہ ہو۔ اِدھر گئی واپس آئی۔ ٹیبل پر فوراً کمپیوٹر پر جمع تفریق کی اور ایک گاہک کو بریف کیا اور دوسری طرف ٹیبل پہ محوِ گفتگو ہوئی اور پھر مڑی، اِدھر آئی آرڈر لیا، نوٹ کیا…… اور پھر یہ جا وہ جا…… آئس کریم سے بھرپور لطف اُٹھا کر دام چکائے اور واپس چل دئیے۔ کافی رات ہو چکی تھی لہٰذا اِسی میں عافیّت تھی کہ اپنے اپنے بیڈز کی راہ لیں۔ 
30-8-2018
National Canadian Exhibition (NCE)
کم و بیش 2ہفتے دورانیہ کا "National Canadian Exhibition"  کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں جاری و ساری تھا۔ اِس کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے ہم نے 30-8-2018 کی شام کمر کس لی۔ اپنے گھر سے گاڑی میں سوار ہو کر چلے تو بس آدھے گھنٹے میں وہاں تھے۔ پارکنگ کی مشکلات تو ایسے موقعوں پر ہوتی ہیں بہرحال گاڑی پارک کر کے نمائش کے اندر چلے گئے۔
سامنے جو نظر پڑی "Farm Hill" تو جناب دیہاتی جو ٹھہرے تو گھس گئے اُس کے اندر۔ چند بھیڑیں ایک جنگلے میں تو جناب ایک اُن کی نگران ماشاء اللہ بھاری بھر کم۔ لیکن بھئی چستی میں کوئی کمی نہ دیکھی۔ ایک ایک بھیڑ کو پکڑ کر کھینچ کر ایک سٹینڈ پر لے جاتی جہاں ایک بڑے برتن میں خوراک رکھّی تھی۔ جونہی بھیڑ خوراک کھانے میں مگن ہوتی تو جناب ایک مشین اُس کے تھنوں پہ چڑھا کر پائپ کے ذریعے سارا دودھ دور رکھّے ایک چھوٹے ڈرم میں ڈالے جا رہی ہے۔ ایک کے بعد دوسری بھیڑ اور پھر تیسری…… اور ساتھ ہی چند بکریاں ایک جنگلے میں تو اُسی طرح باری باری جناب اُن کا دودھ دوہا اور کام مکمل۔ تھوڑا آگے بڑھے تو اچھّی نسل کی گائیں بندھی تھیں۔ تو اُن کو جناب کونسی معافی تھی اُن کے ساتھ بھی یہی سلوک ہوا اور دودھ کے ڈرم بھر گئے۔ (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں)

مزید :

ادب وثقافت -