بریسٹ کینسر: بروقت اور جلد تشخیص ہوجائے تو علاج ممکن ہے

بریسٹ کینسر: بروقت اور جلد تشخیص ہوجائے تو علاج ممکن ہے

  



کینسر ایک خطرناک اور جان لیوا مرض کے طور پر مشہور ہے۔ مریض کے ساتھ ساتھ اس کی پوری فیملی اس مرض کی تشخیص ہونے جانے کے بعد ذہنی طور پر متاثر ہو جاتی ہے، لیکن اب طبی شعبہ کی شبانہ روز تحقیق و ترقی کی بدولت تقریباً تمام اقسام کے کینسرز کا خاطر خواہ علاج ممکن ہوتا جا رہا ہے، لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ بیماری کی تشخیص ابتدائی مرحلے میں ہوجائے۔ خواتین کو ہونے والے کینسرز میں بریسٹ کینسر سب سے بڑے خطرے کے طور پر جانا جاتا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر نویں عورت اس جان لیوا بیماری کا شکار ہوجاتی ہے۔ ہمارے ہاں غربت عام ہے، جبکہ تعلیم کی کمی، نجی ہسپتالوں کے مہنگے علاج، سرکاری ہسپتالوں میں علاج معالجے کی ناکافی سہولتوں اور دیگر سماجی مسائل کی وجہ سے بروقت اور جلدتشخیص نہیں ہو پاتی، جس سے اس بیماری سے ہونے والی اموات کی شرح میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو چکا ہے۔

بریسٹ کینسر ہونے کی یقینی وجوہات کے بارے میں طبی سائنس کچھ زیادہ نہیں جانتی، جبکہ بعض جینز BRC1 اور BRCA2 کی جسم میں موجودگی کو اس کی بڑی وجہ قرار دیا جاتا ہے۔ اِسی لئے یورپ اور ترقی یافتہ ممالک میں خواتین جوانی سے ہی تشخیصی معائنہ شروع کروا دیتی ہےں تاکہ اس بات کا یقین کرلیا جائے کہ کن خواتین میں مذکورہ جین موجود ہےںاور موجود ہونے کی صورت میں بروقت علاج کردیا جاتا ہے۔ ایسے ہی اگر کسی خاندان میں کسی کو بریسٹ کینسر ہوا ہو تو اس خاندان میں اس بیماری ہونے کے خطرات و امکانات بڑھ جاتے ہےں۔ وہ خواتین جن کی پہلی اولاد زیادہ عمر میں ہو، اضافی ہارمون یا کھانے والی مانع حمل ادویات کا استعمال اور 40سال سے زیادہ عمر کی خواتین میں بریسٹ کینسر ہونے کے خطرات بڑھ جاتے ہےں، البتہ ماں کا اپنے بچوں کو اپنا دودھ پلانا ان خطرات کو کم کرتا ہے۔

جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا کہ اس مرض کی جلد تشخیص قابل علاج ہے۔ تشخیص کےلئے تین طریقہ کار موجود ہےں۔ اپنی چھاتی کا خود سے معائنہ کرنا، ماہر ڈاکٹر سے معائنہ و تشخیص اور میموگرافی۔ بیس سال سے بڑی عمر کی خواتین کو ہر ماہ خود تشخیصی معائنہ ضرور کرنا چاہئے اور زیادہ بہتر ہے کہ ڈائری پر اس کا اندراج کریں اور تھوڑی سی تبدیلی کی صورت میں ماہر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ خود تشخیصی معائنہ کےلئے آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر خود کو دیکھیں۔ سینے کا بھی معائنہ کریں کہ اس پر کہیں کوئی گلٹی، پھوڑا یا زخم تو نہیں اور درد یا گلٹی کا احساس ہو تو ماہر ڈاکٹر کو چیک کروانا ضروری ہے۔ بغل، گردن اوراس کے ساتھ جگہ میں بھی کوئی گلٹی وغیرہ نہیں ہونی چاہئے۔ امریکن کینسر سوسائٹی کے چارٹ کے مطابق ماہانہ خود تشخیصی معائنہ کے ساتھ ساتھ 25سال کی عمر سے ہر سال میمو گرافی ضرور کروائیں۔ بڑے ہسپتالوں میں بریسٹ کینسر کے علاج کے لئے شعبہ جات موجود ہیں۔ شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اور ریسرچ سنٹر میں وومن امیجنگ یونٹ اس بیماری کے لئے مخصوص کیا گیا ہے، جہاں علاج اور تشخیص کے لئے واک اِن کلینک میں جدید ترین سہولیات اورفارن کوالیفائیڈ میڈیکل کنسلٹنٹ موجود ہےں۔ اس بیماری سے ہونے والے بے پناہ نقصانات اور خدشات کے سبب، ہسپتال میں ہر سال اکتوبر میں ایک ماہ کی خصوصی آگہی مہم بھی چلائی جاتی ہے۔ اس لئے سستی یا کوتاہی نہ کریں، کیونکہ بے پروائی یا غیرضروری شرم و حیا سے مسائل خطرناک صورت حال اختیار کر جاتے ہےں۔

بریسٹ کینسر کی علامات میں چھاتی میں گلٹی کا ہونا، نپل پر کوئی پھوڑا پھنسی یا زخم کا نمودار ہونا یا خون آنا، چھاتی میں درد رہنا، بغل یا گردن کے نیچے گلٹیاں بننا، ہڈیوں میں درد، متواتر کھانسی یا بلغم میں خون آنا شامل ہیں۔ ہمارے معاشرے میں تعلیم کی کمی اور توہمات وغیرہ کی وجہ سے بریسٹ کینسر کو چھوت کی بیماری سمجھا جاتا ہے جو کہ بالکل غلط ہے۔ اسی طرح یہ خیال بھی غلط ہے کہ خاص رنگ یا قسم کے کپڑے پہننے یا ہیئر ڈائی کروانے سے یہ بیماری ہو جاتی ہے۔ بریسٹ کینسر کے علاج کے لئے کینسر کی سطح جانچنے کے بعد علاج تجویز کئے جاتے ہےں، جن میں سرجری، کیموتھراپی اور ریڈیو تھراپی شامل ہےں۔ ادویات میں اینٹی ہارمونل گولیوں کا طویل کورس بھی کروایا جا سکتا ہے۔ بحرحال بعض کیسز اتنے بگڑ چکے ہوتے ہےں کہ چھاتی کو بچانا ممکن نہیں رہتا، شوکت خانم ہسپتال میں پلاسٹک سرجری کے طریقہ کار کو استعمال کرتے ہوئے جسم کے دوسرے حصہ سے جلد اور گوشت لے کر نئی چھاتی بنائی جاتی ہے۔

پاکستان کو یورپ کے ماڈل کو پیش نظر رکھتے ہوئے سکریننگ پروگرام شروع کرنے کی شدید ضرورت ہے تاکہ ابتدائی سٹیج پر اس مرض کی تشخیص ہو سکے اور بعد میں ہونے والے زندگی کو لاحق ہونے والے خطرے اور زیادہ مہنگے علاج سے بچا جا سکے۔ سکریننگ کےلئے موبائل یونٹ بھی ملک کے دور دارز علاقوں میں جا کر سہولتیں پہنچا سکتے ہےں،جن کے سال بھر کے دوروں کا شیڈول موجود ہو اور اس بیماری کو بروقت تشخیص اورعلاج کر کے زیادہ نقصانات سے بچا جائے۔

مزید : کالم