کشمیریوں سے قلبی وابستگی کا دن

کشمیریوں سے قلبی وابستگی کا دن
کشمیریوں سے قلبی وابستگی کا دن
کیپشن: riaz

  

اقوام متحدہ نے تنارعہ کشمیر کے حل کے لئے دو قراردادیں منظور کیں، جن میں نہ صرف کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو تسلیم کیا گیا، بلکہ یہ طے ہوا کہ کشمیریوں کو اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے کے لئے رائے شماری کا موقع فراہم کیا جائے گا۔ بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے یہ وعدہ کیا کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو استصواب رائے فراہم کریں گے، لیکن اس کے بعد بھارتی حکمرانوں نے کشمیریوں کو نہ صرف حق خود ارادیت دینے سے انکار کر دیا، بلکہ یہ راگ الاپنا شروع کر دیا کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے،حالانکہ مسلم اکثریتی ریاست ہونے کی وجہ سے ساری ریاست کشمیر کو پاکستان میں شامل ہونا چاہیے تھا۔ کشمیری لیڈروں کا بھارتی حکومت کے ساتھ جائز مطالبہ ہے کہ وہ 1947ءمیں اپنے لیڈروں کی طرف سے کشمیری عوام سے کئے گئے وعدوں کو عملی جامہ پہنائے۔

بھارتی حکمرانوں کی یہ دیرینہ خواہش ہے کہ تنازعہ کشمیر ”کچھ لو اور کچھ دو“ کی بنیاد پر حل کیا جائے۔ مسئلہ کشمیر درحقیقت تقسیم ہند کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔ جس طرح شمالی ہند میں پاکستان مسلم اکثریت کی بنیاد پر وجود میں آیا، اسی اصول کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو 1947ءپاکستان میں شامل ہو نا چاہیے تھا، لیکن ہند¶وں اور انگریزوں نے سازش کے ذریعے ریاست جموں وکشمیر کی پاکستان میں شامل ہونے میں رکاوٹ ڈالی اور جموں و کشمیر کا سازش کے ذریعے بھارت سے الحاق کیا گیا۔ 1947ءمیں مہاراجہ کشمیر اور بھارتی حکمرانوں نے گٹھ جوڑ کر لیا اور بھارت نے اپنی فوجیں کشمیر میں داخل کر کے اُن کے بڑے حصے پر قبضہ کر لیا، تاہم کشمیریوں کی بھر پور جدو جہد کے نتیجے میں جب کشمیر آزاد ہونے کے قریب تھا تو بھارت نے اقوام متحدہ میں کشمیرکا مسئلہ اٹھادیا۔

بھارتی حکمرانوں کی ستم ظریفی ملاحظہ کی جائے کہ وہ نہ صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں اور پہلے بھارتی وزیر اعظم کے وعدے پر عمل نہیں کررہے بلکہ بڑی ڈھٹائی کے ساتھ آزادکشمیر اور شمالی علاقوں پر اپنا حق جتاتے رہے ہیں، حالانکہ کشمیریوں نے اپنی جدوجہد آزادی کے ذریعے بھارت کی فوجوں کے خلاف جنگ کر کے ان علاقوں کو آزاد کرایا تھا۔ بھارتی حکمران مسئلہ کشمیر کے بارے میں عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے پر کمر بستہ ہےں۔ بھارتی پارلیمنٹ نے بڑی ڈھٹائی اور بے شرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آزاد کشمیر،گلگت اور بلتستان کو ہندوستان میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے منافی ہے۔

ہندوستانی حکومت عالمی رائے عامہ کو یہ تاثر دینا چاہتی ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر سمیت تمام تنازعات پُر امن مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہندوستانی حکمران پاکستان پرکشمیر میں دہشت گردی کا بے بنیاد الزام عائد کر رہے ہیں۔ ہندوستانی حکمرانو ں کو معلوم ہونا چاہیے کہ جب کوئی قوم آزادی کے حصول پر تل جائے تو دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت بھی اس کو آزادی کے حصول سے نہیں روک سکتی۔ کشمیری گذشتہ 60 سال سے آزادی کی تلاش میںسرکردہ ہیں اور وہ اس مقصد کے لئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں۔ اس میں بڑے تو بڑے جوان، عورتیں، بچے سبھی شامل ہیں۔ہندوستان اپنی آٹھ لاکھ فوج استعمال کرنے کے باوجود کشمیریوں کی تحریک آزادی کو روک نہیں سکا اور وہ زیادہ دیر تک طاقت کے استعمال سے کشمیریوں کو غلام نہیں رکھ سکتا۔بھارت تنازعہ کشمیرکو پُر امن مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہے تو اسے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرنا ہوگا، کیونکہ کشمیری عوام بھی اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے کا حق رکھتے ہیں: اس لئے بھارت کے لئے یہ بہتر ہوگا کہ وہ صرف پاکستان اور کشمیری قیادت کے ساتھ بامقصد مذاکرات کرے۔

سید علی گیلانی نے کہا کہ پاکستان کشمیر کے بارے میں اپنے موقف سے ہٹ رہا ہے۔کسی بھی بات چیت میں کشمیر یوں کو بھی شامل کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ’ کشمیری ہی کشمیر کے مالک ہیں اور کشمیریوں کو نظر انداز کر کے ہندوستان اور پاکستان ان کے مستقبل کا فیصلہ نہیں کر سکتے۔ان کو اندیشہ ہے کہیں پاکستانی حکمرانوں کی کشمیر کاز سے بیوفائی خود ان کی جدوجہد کو سبو تاثر نہ کردے اور کہیں وہ اس جال میں نہ آجائیں جو مسئلہ کشمیر سے پیچھا چھڑانے کے لئے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر بنا جارہا ہے۔جب جنرل پرویز مشرف کے دور میں سرینگر اور مظفرآباد کے درمیان دوستی بس کا منصوبہ بنایا گیا تو پاکستانی حکمران کی خواہش تھی کہ سید علی گیلانی دیگر کشمیری لیڈروں کے ہمراہ پہلی بس سے مظفرآباد آئیں،بعد ازاں پاکستان کا بھی دورہ کریں تاکہ مسئلہ کشمیر کے پس منظر میں بھارت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی پاکستانی کوششوں کو سند جواز حاصل ہوسکے۔سید علی گیلانی اس کھیل کو سمجھ رہے تھے، اس لئے انہوں نے اپنے دوستوں کے تمام تر دباﺅ کے باوجود دوستی بس سے سفر کرنے سے انکار کردیا۔ بعد کے واقعات نے ثابت کیا کہ سید علی گیلانی کا موقف درست تھا اور جنرل پرویز مشرف کشمیر کاز سے بیوفائی کی راہ پر گامزن تھا۔ اجنرل پرویز مشرف نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے اصول پر ڈٹے رہنے کی بجائے مسئلہ کشمیر کے ”آﺅٹ آف باکس“ کتنے ہی حل پیش کردئے اور یہ سارے حل مسئلہ کشمیر کو حق وانصاف کی بنیاد پر طے کرنے کی بجائے اس سے پیچھا چھڑانے کی دانستہ کوشش کے آئینہ دار تھے۔

جنرل پرویز مشرف کے بعد پیپلز پارٹی کی منتخب حکومت آئی تو آصف علی زرداری نے ابتداء ہی میں مسئلہ کشمیر پر اپنا ذہن واضح کردیا کہ مسئلہ کشمیر کو آئندہ نسلوں پر چھوڑ دیا جائے اور بھارت کے ساتھ تجارت سمیت دیگر تعلقات بڑھانے پر توجہ دی جائے پیپلز پارٹی اور اس کے اتحادیوں کی حکومت اسی وژن پر کام کرتی رہی ۔ اس نے قوم کی تمام تر مخالفت کے باوجود بھارت کو تجارت کے میدان میں پسندیدہ ترین ملک قرار دینے کا فیصلہ بھی کرلیا ۔ ہم بھارتی حکمرانوں پر واضح کر دینا چاہتے ہیںکہ مسئلہ کشمیر کا واحداور پائیدار حل صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق رائے شماری سے ہو سکتاہے جو اقوام متحدہ کی نگرانی میں ہو نی چاہیے اور اس میں کشمیری جو بھی فیصلہ کریں، وہ ہندوستان اور پاکستان کو قبول کرنا ہوگا۔ حق خود ارادیت کے حوالے سے 5 فروری کا دن کئی سال سے یہ باور کرانے کے لئے منایا جاتا ہے کہ کشمیر میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق رائے شماری کرائی جائے، جن میں کشمیریوں سے یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ عوام سے یہ رائے لی جائے ، آیا وہ پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں یا بھارت میں؟ 21 اپریل 1948ءکو یو این او کی قرارداد بھارت نے بھی تسلیم کی تھی۔

مزید :

کالم -