کانوں کا کچا عمران خان

کانوں کا کچا عمران خان
کانوں کا کچا عمران خان
کیپشن: hamid

  

طالبان نے عمران خان کوmisreadکیا ہے، وہ عمران خان کی امریکہ مخالف سیاست کو اپنے حق میں سیاست سمجھ بیٹھے تھے اور اسی لئے انہیں مذاکرات میں اپنا ثالث مقرر کرنے کا اعلان کر بیٹھے،حالانکہ عمران خان واحد لیڈر ہیں، جنہیں Son of the Soilکہا جا سکتا ہے، کیونکہ وہ کسی امریکہ ،سعودی عرب یا ابوظہبی کی شہہ پر پاکستان میںسیاست نہیں کر رہے ہیں ، وہ امریکی پٹھو ہیں نہ سعودی شہزادہ!

اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں کہ عمران خان پاکستانی سرزمین پر امریکی دخل اندازی کے خلاف ہیں، ڈرون حملوں میں معصوم جانوں کے ضیاع کے خلاف ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں نکالنا چاہئے کہ وہ طالبان اور ان کے نام پر ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں کے طرف دار ہیں، ان کے وزیرستان مارچ کو امریکہ کے خلاف تو قرار دیا جا سکتا ہے ،لیکن کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ عمران خان وزیرستان طالبان سے ملنے گئے تھے!

لیکن بلاول بھٹو سمیت یار لوگوں کا کیا کیا جا ئے کہ جو جلد ہی عمران خان کو یو ٹرن کا طعنہ دینے لگیں گے، ایسے تمام حلقے دراصل عمران خان کے سیاسی مزاج سے قطعی طور پر ناواقف ہیں،جس کی اصل یہ ہے کہ عمران خان پراپیگنڈے سے متاثر ہو جاتے ہیں اور کوئی ایسا قدم اٹھا بیٹھتے ہیں، جو سیاسی طور پر تو درست ہوتا ہے، لیکن اپنے ساتھ تنقید کا تانتا بھی لئے ہوئے ہوتا ہے، مثال کے طور پر 30اکتوبر 2011ءکے تاریخ ساز جلسے کے بعد جب پراپیگنڈہ شروع ہوا کہ عوام نے عمران خان کو سند قبولیت تو دے دی ہے، لیکن ان کے پاس electablesنہیں ہیں، تو عمران خان نے شاہ محمود قریشی اور جاوید ہاشمی کو ساتھ بٹھالیا....لیکن جونہی عمران خان نے یہ قدم اٹھایا تو تنقید کے ڈونگرے برسنے لگے کہ عمران خان کے گرد بھی روائتی سیاست دان جمع ہو گئے ہیں اور حقیقی تبدیلی کا نعرہ ہوا ہو گیا ہے، ہمیں یاد ہے کہ عمران خان نے ایک ٹاک شو میں ہنستے ہوئے کہا تھا کہ انہیں لوگو ں کی سمجھ نہیں آتی، جو پہلے مجھے electablesکے نہ ہونے کا طعنہ دیتے تھے اور جب مَیں نے electablesکو لیا تو مجھ پر روائتی سیاست کا لیبل چسپانا شروع ہو گئے ہیں، بس عمران خان کا یہی المیہ ہے کہ وہ ایاک نعبد و ایاک نستعین تو کہتے ہیں، لیکن کانوں کے کچے ہیں!

عمران خان کے حق میں ہمیں اتنا ہی کہنا تھا، آئیے اب کچھ مذاکرات کی بات ہو جائے!مذاکرات دو اطراف کے مابین ہوتے ہیں،جس میں ہر دوجانب کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اس موقع کا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائے، مگر ہم اپنے تئیں مذاکرات کے نام پر طالبان کو جان بچانے کا آخری موقع دینا چاہتے ہیں، جو سراسر غلط تاثر ہے اور اگر ہم عوام زیادہ دیر اس تاثر کے تابع رہے تو مذاکرات سے کچھ حاصل نہ کر سکیں گے!

ہمیں سمجھنا چاہئے کہ مذاکرات کسی بھی صورت حال کو بنا اور بگاڑ سکتے ہیں،ہمیں ثابت کرنا ہے کہ ہمارے لئے کسی تصفیے پر پہنچنا مشکل نہیں ہے اور یہ ایسی صلاحیت نہیں ہے، جس کا بحیثیت قوم ہم میں فقدان ہے، اگرچہ یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ طالبان کے خلاف جنگ کے لئے امریکہ سے Coalition Support Fund لینے والا اور IMFسے اربوں ڈالر کا ری سٹرکچرنگ پیکیج لینے والا ملک طالبان سے غیر مشروط مذاکرات کر بھی سکے گا یا نہیں!اسی لئے ابھی تک کوئی بھی وثوق سے نہیں کہہ سکتا کہ حکومت پاکستان طالبان سے مذاکرات میں فوری طور پر کسی ایسے مشترکہ نقطے پر متفق ہو سکے گی، جس سے دنیا کے حالات میں ایسی بڑی تبدیلی آسکتی ہے، جو جدید دنیا کے دانشوروں کے سوچنے کا انداز بدل دے اور وہ طالبان کو پُرامن زندگی گزارنے کا موقع فراہم کرنے کو تیار جائیں!

خالی ہتھیا ر ہی نہیں، بعض اوقات الفاظ کا استعمال بھی تاریخ کے دھارے کا رخ موڑ دیا کرتا ہے!ابھی کوئی بھی وثوق سے نہیں کہہ سکتا کہ ان مذاکرات سے کامیابی جنم لے گی یا ناکامی کا تازیانہ بجے گا، حتیٰ کہ مولانا فضل الرحمٰن جیسا زیرک سیاست دان بھی گومگو کی کیفیت میں مبتلا ہے کہ وہ بھی تیل دیکھو اور تیل کی دھار دیکھو ایسی نصیحت کرتے نظر آرہے ہیں، اس کا سبب یہ ہے کہ ابھی یہ طے نہیں ہے کہ کیا امریکہ طالبان سے علیحدہ مذاکرات کرے گا یا پھر پاکستان کے مذاکراتی نتائج پر ہی اکتفا کرے گا، اس سے بھی بڑھ کر ابھی یہ تعین کرنا بھی مشکل ہے کہ پاکستان یہ مذاکرات اپنے لئے اپنے طور پر کر رہا ہے یا کسی دوسرے کے لئے کسی دوسرے کے ایما ءپر کر رہا ہے!

ابھی ہمیں صرف اس قدر معلوم ہے کہ طالبان سے جنگ ہو یا امن، اس کا عوامی مینڈیٹ نواز شریف کے پاس ہے، اگر انہوں نے اس مینڈیٹ کا غلط استعمال کیا تو عوام سڑکوں پر آسکتے ہیں، لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ مذاکرات میں پاکستان کی کامیابی لازمی نہیں کہ امریکہ کی بھی کامیابی ہو، اسی طرح امریکہ کی کامیابی پاکستان کی کامیابی نہیں ہو سکتی ، لیکن ایک بات طے ہے کہ طالبان کی کامیابی دونوں ملکوں کی ناکامی ہے، اسی لئے طالبان کی جانب سے مذاکرات کے لئے ہاں امریکہ کو خوش یا ناراض کرنے کے لئے نہیں ہے بلکہ وہ پاکستان اور پاک فوج سے جنگ کے قواعد طے کرنا چاہتے ہیں، ان کے ارادے معلوم کرنا چاہتے ہیں، اس لئے ان مذاکرات کا اگر کوئی نتیجہ نہ نکلا ،تو یہ بھی ایک طرح کا نتیجہ ہی ہوگا!

ہم طالبان سے مذاکرات برائے امن چاہتے ہیں، خدا معلوم طالبان پاکستان سے کس مقصد کے لئے مذاکرات کر رہے ہیں، اورمقصد کچھ بھی ہو ہمیں کم ازکم یہ ضرور سمجھ لینا چاہئے کہ ہم افغانستان کی جنگ میں آج سے 30 سال پہلے داخل ہوئے تھے ، ہم اس جنگ سے تین سال میں باہر نہیں نکل سکتے، اس سے نکلنے میں بھی تیس سال لگیں گے، اس لئے حوصلے اور صبر کی ضرورت ہے!

مزید :

کالم -