قدیم ترین انسانی کھوپٹری دریافت،حیرت انگیز انکشافات

قدیم ترین انسانی کھوپٹری دریافت،حیرت انگیز انکشافات
قدیم ترین انسانی کھوپٹری دریافت،حیرت انگیز انکشافات

  

تل ابیب (نیوز ڈیسک) زمین پر نسلِ انسانی کے پھیلاﺅ کے متعلق جدید سائنس کا نظریہ ہے کہ انسان کی ابتداءافریقہ سے ہوئی اور پھر یہ دیگر براعظموں میں پھیل گیا۔ سائنسدانوں کو پہلی دفعہ مشرقِ وسطیٰ میں اس جگہ کا سراغ مل گیا ہے جس کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ ابتدائی دور کا انسان یہاں آیا اور اس جگہ قبل از انسان دور کے انسان نما جانور نی اینڈرتھل (Neanderthal) سے اس کا ملاپ ہوا۔ آج سے تقریباً 60 ہزار سال قبل انسان نے افریقہ سے دیگر علاقوں کی طرف نکلنا شروع کردیا تھا مگر یورپ اور ایشیاءکے متعدد علاقوں کے سرد برفیلے موسم کی وجہ سے ان علاقوں کا رُخ نہ کرسکا۔

انسانی سوچ کی آزادی اور پیشاب میں گہرا تعلق،تحقیق میں سامنے آگیا

تقریباً 15 ہزار سال تک انسان نے ان علاقوں کا موسم سازگار ہونے کا انتظار کیا اور اس دوران موجودہ اسرائیل،شام اور عراق کے علاقوں کا رُخ کیا اور یہاں طویل عرصہ تک مقیم رہا۔ سائنسدانوں کو اسرائیل کے علاقے مغربی گیلیلی کی مشہور Manot غار سے 55 ہزار سال پرانی کھوپڑی ملی ہے جو انسانی کھوپڑی سے ملتی جلتی پرانی ترین دریافت ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایک عورت کی کھوپڑی ہے اور اس کی ہیئت ظاہر کرتی ہے کہ یہ افریقی انسان اور موجودہ لیوانت (اسرائیل و شام وغیرہ) کے نی اینڈرتھل کے ملاپ سے وجود میں آئی۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس علاقے میں انسان نے نی اینڈرتھل سے ملاپ کیا اور پھر یہاں سے جدید انسان وجود میں آیا جس نے حالات سازگار ہونے پر ایشیاءاور یورپ کا رُخ کیا اور ساری دنیا میں پھیل گیا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس