مسئلہ کشمیر ، کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل کیا جائے

مسئلہ کشمیر ، کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل کیا جائے
 مسئلہ کشمیر ، کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل کیا جائے

  

مقبوضہ کشمیرمیں بزرگ حریت رہنما سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ان کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ مسئلہ ہے اور تنازعہ سے وابستہ حقائق کو ہرگز نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ حریت کانفرنس جموں وکشمیر کے سینئر رہنما شبیر احمد شاہ نے بھی کہا کہ مسئلہ کشمیر کو کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل کیے جانے تک جنوبی ایشیا میں امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ بھارتی فوجیوں کی طرف سے مقبوضہ علاقے میں مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ علی گیلانی نے بھارت پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق پاکستان ، بھارت اور آزادی پسند کشمیری قیادت پر مشتمل سہ فریقی مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اقدامات کرے۔ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال دن بدن ابتر ہوتی جا رہی ہے اور بھارتی افواج کی بربریت میں اضافہ ہونے کی وجہ سے نہتے کشمیریوں اور آزادی کے متوالوں پر مظالم بڑھتے جا رہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی، بھارتی افواج کے مظالم اور بھارتی پارلیمنٹ کے انتخابات کے خلاف مظاہروں میں شدت آگئی ۔ ان زندہ حقیقتوں کے باوجود بھارتی حکومت کشمیر کو اٹوٹ انگ قرار دیتی ہے تو اسے بھارت کی ہٹ دھرمی کے سوا اور کیا نام دیا جا سکتاہے۔ اب تو حکومتی سیاسی پارٹیاں بھی مسئلہ کشمیر حل کرنے پر زور دے رہی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت نواز جماعت نیشنل کانفرنس نے کہا ہے کہ بھارت اور پاکستان کی دوستی میں سب سے بڑے رکاوٹ کشمیر کا مسئلہ ہے۔ پاک بھارت دوستی کے خواب کو اس وقت تک شرمندہ تعبیر نہیں کیا جا سکتا جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا۔ بھارت انسانی حقوق کی پامالیاں بند کرے۔ مقبوضہ کشمیر میں نام نہاد انتخابات کے موقع پر بھی بھارتی چیرہ دستیوں میں اضافے کے باوجود کشمیری عوام نے بھارت کے اس ڈھونگ کو ناکام بنا دیا ہے۔کشمیری بھارتی الیکشن کو تسلیم نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت نواز سیاستدانوں کے خلاف کشمیری عوام کی نفرت بڑھ رہی ہے۔سیاسی اور مذہبی رہنماؤں نے بھارت میں ہونے والے عام انتخابات میں بھارتی جنتا پارٹی کی فتح کو خطے کے لئے خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا نریندر مودی کے منتخب ہونے سے اقلیتوں میں تشویش کی لہر اور خطے میں صورت حال کشیدہ ہوگئی۔کشمیری قیادت نے مقبوضہ جموں کشمیر میں آٹھ لاکھ بھارتی افواج کی سنگینوں کے سائے تلے انتخابی ڈرامے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے بھارتی آئین اور الیکشن کمشن کے تحت نام نہاد انتخابات حق خودارادیت کا نعم البدل نہیں ہو سکتے۔ اس بارے میں اقوام متحدہ کی قرارداد میں وضاحت کی گئی ہے کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا تعین کرنے کے لئے رائے شماری کا حق دیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے بعض شہری اور دور دراز کے دیہاتوں میں بھارتی خفیہ ایجنسیوں نے کشمیری نوجوانوں کو منشیات کا عادی بنانے کیلئے بڑے پیمانے پر منشیات کا کاروبار پھیلا دیا ہے۔ کشمیری نوجوانوں کو تحریک آزادی سے دور کرنے اور انہیں نشہ آور اشیاء کا عادی بنانے کیلئے مقبوضہ کشمیر کے دور دراز علاقوں میں شراب چرس اور دوسری منشیات بڑے پیمانے پر فروخت اور فراہم کی جارہی ہے۔ مقبوضہ کشمیر سے آنیوالی اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیر سے نوجوان طالبات کو بھارت میں مختلف تقریبات میں بغیر کسی محرم سے شرکت کیلئے دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ سینئر بھارتی صحافی اور معروف مصنفہ ارون دھتی رائے نے مقبوضہ کشمیر میں لاگو کالے قوانین کو عوامی حقوق کا قاتل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی حکومت نے کشمیریوں کیخلاف جنگ چھیڑ رکھی ہے ۔امن، ترقی کے تمام دروازے بنداور حالات انتہائی نامساعد ہیں۔ آفسپا اور پبلک سیفٹی ایکٹ جیسے قوانین نے کشمیری عوام کے حقوق سلپ کررکھے ہیں ۔ لوگ پریشانیوں اور مشکلات کا شکار ہیں ۔ بھارتی اور ریاستی حکومتوں کو عوامی مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں اور لوگوں کیخلاف جنگ شروع کررکھی ہے۔ سینکڑوں افراد کو جیلوں میں ٹھونس کر ان پر ملک اور حکومت دشمنی کا الزام لگا دیا گیا ہے اور ان ریاستوں میں قانون اور فوج کی تلوار غریبوں پر لٹکائی جارہی ہے۔ افسپا ،پبلک سیفٹی ایکٹ ایک ایسی بیماری ہے جس کا اگر بروقت علاج نہ کیا گیا تو یہ لاعلاج بیماری بن سکتی ہے۔ جموں وکشمیر ، منی پور ، ناگالینڈ کی ریاستوں میں لوگوں کے سروں پر فوج تعینات ہے۔ خود بھارتی میڈیا اور عدالتیں مسلمانوں کے کشت وخون میں بی جے پی کی رہ نما سنگیت سوم کو قصور وار قرار دے چکی ہیں۔ سب کو یاد ہے کہ پارٹی کے وزارت عظمیٰ کے امیدوار نریندر مودی نے مسلمانوں کی اس قاتل کو ’’ہیرو‘‘ قرار دیا تھا۔کانگریس کی حکومت لوک سبھا کے الوداعی اجلاس تک چارسال کے دوران انسداد فرقہ وارانہ فسادات بل پیش کرنے کی کوشش کرتی رہی لیکن کئی بار کی کوشش میں بی جے پی ہی حائل رہی اور مسلمانوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کا یہ بل منظور نہ کیا جا سکا۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی تو ہرحکومت کے دور میں رہی ہے لیکن بی جے پی جب بھی برسراقتدارآئی اس نے کشمیر میں جارحیت میں اضافہ کیا۔ انسانی حقو ق کی تنظیمیں آج بھی گواہ ہیں کہ وادی جنت نظیر میں گمنام قبریں اس دور میں بنیں جب مرکز میں بھارتیہ جنتا پارٹی اورشری اٹل بہاری واجپائی جیسے امن دشمن لوگ مقتدر تھے۔ حقِ خود ارادیت کشمیریوں کا وہ حق ہے جسے اقوامِ عالم 1948/49میں اقوامِ متحدہ اور سلامتی کونسل کے فورم پر تسلیم کر چکی ہیں۔ اور جس کے لیئے آزادی و حریت کا جذبہ سے اہلِ کشمیر نے لازوال قربانیاں دی ہیں۔ اہلِ پاکستان ایک بار پھر کشمیری بھائیوں کے حق خود ارادیت کی بھرپور حمایت کا اعلان کرتے ہوئے یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور کشمیری عوام کی قربانیوں پر انہیں دل کی اتاہ گہرائیوں سے خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔

مزید : کالم