عالمی عدالت برائے انصاف نے کروئیشیا اور سربیا کی حکومتوں کی جانب سے دائر مقدمات کا فیصلہ سنا دیا

عالمی عدالت برائے انصاف نے کروئیشیا اور سربیا کی حکومتوں کی جانب سے دائر ...

 ہیگ (این این آئی)نیدرلینڈ کے شہر دا ہیگ میں عالمی عدالت برائے انصاف نے کروئیشیا اور سربیا کی حکومتوں کی جانب سے دائر مقدمات کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ سربیا اور کروئیشیا جنگِ بلقان کے دوران نسل کشی کے مرتکب نہیں ہوئے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق کروئیشیا کی حکومت نے الزام عائد کیا تھا کہ سربیا 1991 میں ووکور اور دوسرے علاقوں میں نسل کشی کا مرتکب ہوا تھا۔اس کے جواب میں سربیا نے جوابی الزام عائد کیا تھا کہ اس نے دو لاکھ سرب باشندوں کو کروئیشیا سے نکال باہر کیا تھا۔کروئیشیا یوگوسلاویا سے علیحدہ ہو گیا تھا جس کے نتیجے میں 1991 سے 1995 تک ہونے والی جنگ میں 20 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔کروئیشیا کا قصبہ وکوور 1991 میں اس وقت تباہ کر دیا گیا تھا جب سربیا نے اس پر تین ماہ کے لیے قبضہ کیا تھا۔ مذکورہ عرصے میں دسیوں ہزار کروئیشیائی بے گھر ہوئے ٗ ان کے 260 مردوں کو حراست میں لے کر ہلاک کر دیا گیا۔چار سال بعد کروئیشیا نے آپریشن سٹورم نامی فوجی آپریشن میں سرب آبادی پر مشتمل علاقے کرائینا پر بمباری کی جس میں دو لاکھ افراد بے گھر ہو گئے تھے۔عدالت میں جج پیٹر ٹامکا نے دونوں ممالک کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کے دوران دونوں جانب سے پرتشدد کارروائیاں کی گئیں، لیکن کوئی بھی فریق ایسے ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کر سکا جن سے مخالف حریف پر نسل کشی کا الزام ثابت ہو۔سربیا کے وزیر خارجہ نے عالمی عدالت کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارے دو طرفہ تعلقات کے لیے بہت اہم فیصلہ ہے، یہ پچھلے پندرہ بیس سال سے جاری اس عمل کا خاتمہ ہے جس میں ہم دونوں ایک دوسرے کو زیادہ قصور وار ثابت کرنے کی کو شش کر رہے ہیں۔‘دوسری جانب کروئیشیا کے وزیرِ قانون نے کہا کہ مقدمے کو عدالت میں لے جانے کا مقصد کروئیشیا کے خلاف کی گئی جارحیت کو اجاگر کرنا تھا، عدالت میں مقدمے کی سماعت سے ہمارا مقصد حاصل ہو گیا ہے۔‘کروئیشیا نے یہ کیس 1999 میں عالمی عدالت برائے انصاف میں دائر کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ صدر سلوبودن ملوشووچ نے کروئیشیائی آبادی کو نشانہ بنایا تھا۔

مزید : عالمی منظر