کشمیریوں کی قربانیاں ضرور رنگ لائیں گی

کشمیریوں کی قربانیاں ضرور رنگ لائیں گی
 کشمیریوں کی قربانیاں ضرور رنگ لائیں گی

  

 ہیلو پیارے دوستو!سنائیں کیسے ہیں، امید ہے کہ اچھے ہی ہوں گے، دوستو! آپ کو پتہ ہے ناں کہ آج پانچ فروری ہے اور آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ پانچ فروری کے دن یوم یکجہتی کشمیر منایا جاتا ہے ۔ آپ کو یہ بھی بتاتے چلیں کہ یوم یکجہتی کا آغاز جماعت اسلامی نے کیا، جب قاضی حسین احمد امیر جماعت اسلامی تھے۔ جماعت اسلامی نے سب سے بڑھ کر یوم یکجہتی ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر منایا ۔مطلب انسانی ہاتھوں کی طویل تر زنجیر ملک بھر کے مختلف شہروں اور گلیوں میں بنائی گئی ،پھر اس کے بعد باقاعدہ پانچ فروری کو یوم یکجہتی کشمیر کے نام سے منسوب کر دیا گیا ۔ آج بھی مختلف سیاسی جماعتیں و سماجی حلقے کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے جلسے جلوس ریلیاں نکالتے ہیں،مظاہرے بھی کرتے ہیں ، ہندو ظالم حکمرانوں کا پتلا بھی جلاتے ہیں اور ہر سال کی طرح مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اقوام متحدہ کے دفتر میں یادداشت بھی پیش کرتے ہیں ،آج بھی پاکستان بھر میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کا دن نہایت جوش و خروش اور اہتمام سے منایا جائے گا ، تاہم سرکاری سطح پر بھی ہمیشہ کی طرح پانچ فروری کو عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے ۔بہت سی جماعتوں کی طرف سے بحث مباحثے کے پروگراموں کی تیاری ہو چکی ہے ۔ سیاسی و سماجی جماعتوں کی طرف سے بھی ریلیاں وجلوس نکالنے کا اہتمام ہو چکا ،جن میں سیاسی ،سماجی و مذہبی رہنما کشمیری قوم کی قربانیوں سے دنیا کو آگا ہ کریں گے اور دنیا بھر کو بھارت کا مکروہ چہرہ بھی دکھائیں گے کہ کس طرح بے دردی سے ظالم ہندو بنیا کشمیر پر نہ صرف قبضہ جاری رکھے ہوئے ہے ، بلکہ کشمیری عوام پر ظلم و ستم ڈھانے کی نئی داستان بھی ہندووٗں نے رقم کی ۔ گزشتہ ساٹھ برسوں سے کشمیری جنگ آزادی لڑنے میں مصروف ہیں ۔ کشمیری نوجوان آج بھی قدم قدم پر خون بہا رہے ہیں، کشمیری مائیں بہنیں ہندو بنیوں کے ہاتھوں اپنے سہاگ بھی لٹا رہی ہیں ، ا ور اپنی عصمتیں بھی پامال کروا رہی ہیں ۔کتنا ظلم ہو رہا ہے کشمیری عوام پر ، لیکن عالمی برادری کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی- ہمارے بہت سے دوست تو آج بھی اقوام متحدہ کی ان قراردوں کا رونا روتے ہیں، جو عرصہ دراز پہلے منظور کی گئی تھیں ،لیکن آج تک ان پر عمل نہیں ہو سکا ۔اقوام متحدہ کے چارٹر آف ڈیمانڈ میں مسئلہ کشمیر کو بھی نمایاں جگہ دی گئی ،لیکن اقوام متحدہ اتنے برس گزر جانے کے باوجود بھی مسئلہ کشمیر کے موزوں حل کے لئے کوئی بھی کردار ادا نہیں کر سکا ،اسی وجہ سے ہمارے بہت سے پاکستانی دوست اقوام متحدہ کے اعلیٰ عہدیداروں سے بھی ناراضی کا اظہار کر رہے ہیں ،بہرحال آج ایک بار پھر مسلم لیگ (ن) کی حکومت بر سر اقتدار ہے ۔ دنیا جانتی ہے کہ پاکستانی وزیر اعظم میاں نواز شریف نے اپنی سابقہ حکومت میں بھی مسئلہ کشمیر کے مثبت حل کے لئے دنیا بھر میں آواز اٹھائی ۔ اب ایک بار پھر یوم یکجہتی کشمیر کا دن ہے اور ہمارے بہت سے دوست یہ توقع کر رہے ہیں حکومت سے بھی اور حکومت کے سربراہ وزیر اعظم پاکستان سے بھی کہ وہ ایک پھر دنیا بھر کے سامنے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے نہ صرف بھرپور آواز اٹھائیں، بلکہ مسئلہ کشمیر کے مثبت حل کے لئے بھارتی حکومت پر بھی دباؤ ڈالیں کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے مذاکرات کی میز پر بیٹھے اور مل بیٹھ کر کشمیریوں کی مرضی سے کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کرے ، تاکہ کشمیری عوام کو بھی آزادی کا سورج دیکھنا نصیب ہو اور وہ بھی اپنی مرضی سے آزاد فضا میں سانس لے سکیں ۔یقیناً وہ دن بھی ضرور آئے گا، جب کشمیری عوام کو آزادی نصیب ہو گی ۔ ظالم بھارتی حکمرانوں سے کشمیریوں کو نجات ضرور ملے گی اور ایسا ضرور ہو گا ، لیکن کب ہو گا یہ تو رب ہی جانتا ہے ،لیکن یقین ہے ہمارے بہت سے دوستوں کو کہ کشمیریوں کی قربانیاں ضرور رنگ لائیں گی اور انہیں قربانیوں کا صلہ ضرور ملے گا ، یقیناً انہیں آزادی کا سورج دیکھنا بھی ضرورنصیب ہو گا ،بہر حال اسی آس و امید کے ساتھ اجازت چاہتے ہیں آپ سے، ملتے ہیں، جلد

مزید : کالم