پاکستان مسئلہ کشمیر کو پس پشت ڈال کر بھارت کے ساتھ دیگر مسائل پر آگے نہیں بڑھ سکتا ہے ، عبدالباسط

پاکستان مسئلہ کشمیر کو پس پشت ڈال کر بھارت کے ساتھ دیگر مسائل پر آگے نہیں بڑھ ...

 نئی دہلی (کے پی آئی)کشمیر پر بھارت کے موقف کو سخت گیر قرار دیتے ہوئے پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کو پس پشت ڈال کر بھارت کے ساتھ دیگر مسائل پر آگے نہیں بڑھ سکتا ہے ،کچھ مسائل کو حل کرنے میں طویل وقت لگ سکتا ہے لیکن اس کا یہ ہر گز مطلب نہیں کہ ہم حساس مسئلے کو پس پشت ڈالکر آگے بڑھیں،خارجہ سیکریٹری سطح مذاکرات منسوخ کرنے کا کوئی جوازنہیں بنتا تھا، بھارت کو باہمی تجارت کو فروغ دینے کے حوالے سے مزید اقدامات اٹھانے ہونگے،۔ دونوں ملکوں کے درمیان باہمی بداعتمادی سے دو طرفہ تعلقات کے ساتھ ساتھ تجارت کو فروغ نہیں مل سکتا ہے ۔ دلی میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط نے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ 10برسوں کے دوران باہمی تجارت میں کافی اضافہ ہونے کے باوجود خارجہ سیکریٹری سطح مذاکرات منسوخ کرنے کا کوئی جوازنہیں بنتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کو پس پشت ڈال کر دیگر مسائل پر آگے نہیں بڑھ سکتا ہے ۔نئی دلی میں ہندو پاک تجارت کے عنوان سے منعقدہ ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دلی میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان باہمی تجارت میں کافی اضافہ ہوا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت کو فروغ ملنے اور اس میں اضافہ ہونے سے بھارت نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اپنا موقف سخت کردیا۔ عبدالباسط نے کہا کہ یہ دلیل دی جارہی ہے کہ اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارتی اور ثقافتی مراسم بہتر ہوتے ہیں تو دونوں ممالک کے درمیان ایک بہترین ماحول قائم ہوسکتا ہے جس کے ذریعے دونوں ممالک اہم اور حساس مسائل پر بھی بات چیت کرسکتے ہیں ۔ پاکستانی ہائی کمشنر نے کہا کہ گزشتہ 10برسوں کے دوران پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارت میں کافی اضافہ ہوا ہے تاہم اس کے باوجود دونوں ممالک ایک دوسرے کے قریب نہیں آسکے جس کی بنیادی وجہ بھارت کا سخت موقف ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاں گزشتہ 10برسوں کے دوران بھارت اور پاکستان کے درمیان باہمی تجارت میں کافی اضافہ ہوا وہیں بھارت نے مسئلہ کشمیر پر سخت موقف بھی اختیار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے سخت موقف کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ گزشتہ برس 25اگست کو دلی اور اسلام آباد کے درمیان طے شدہ خارجہ سیکریٹری مذاکرات کو بھارت نے ہی منسوخ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ اگر چہ گزشتہ 10برسوں کے دوران دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت میں کافی اضافہ ہوا ہے تو کیا مذاکرات کو منسوخ کرنے کا کوئی جواز بنتا ہے ۔ انڈین کونسل فار ریسرچ آن انٹرنیشنل اکنامک ریلیشنز کے زیر اہتمام منعقدہ کانفرنس میں دلی میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر نے مزید بتایا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان باہمی بد اعتمادی سے نہ تو دونوں ممالک کے تعلقات بہتر ہوسکتے ہیں اور نہ ہی دوطرفہ تجارت کو فروغ مل سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو تعلقات کو بہتر بنانے کے حوالے سے آگے قدم بڑھانا ہوگا اور یہ کہ پاکستان نے اس ضمن میں پہلے ہی اپنا قدم بڑھایا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان باہمی تجارت میں اضافہ توہوا ہے لیکن محدود حدود کے باعث یہ تجارت تب تک فروغ نہیں پاسکتی ہے جب تک اسے وسیع نہیں کیا جاتا ۔ پاکستانی ہائی کمشنر نے مسئلہ کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس دیرینہ تنازعہ کو پس پشت ڈال کر پاکستان دیگر مسائل پر آگے نہیں بڑھ سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کچھ معاملات پر جامع مذاکرات کا عمل شروع کیا جاسکتا ہے اور کچھ معاملات پر پیش رفت ہوسکتی ہے جبکہ کچھ مسائل کو حل کرنے میں طویل وقت لگ سکتا ہے لیکن اس کا یہ ہر گز مطلب نہیں کہ ہم حساس مسئلے کو پس پشت ڈالکر آگے بڑھیں ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے 1996میں پاکستان کو پسندیدہ ملک قرار دیا ہے اور اس لحاظ سے بھارت کے ساتھ تجارت اس کے ہی مفاد میں ہے ۔ انہوں نے بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دینے کے حوالے سے پاکستانی تحفظات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان نے بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دیکر اس کی مصنوعات کو پاکستانی بازار تک رسائی فراہم کی تو ہم نہیں جانتے کہ آگے جاکر ہماری معیشت پر کیا اثر پڑسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو باہمی تجارت کو فروغ دینے کے حوالے سے مزید اقدامات اٹھانے ہونگے۔

مزید : عالمی منظر