اردو زبان میں عسکری موضوعات کا سفر (2)

اردو زبان میں عسکری موضوعات کا سفر (2)
 اردو زبان میں عسکری موضوعات کا سفر (2)

  

ان اولین ایام میں جب مَیں ’’پاکستان آرمی جرنل (اردو)‘‘ کا پہلا شمارہ ترتیب دے رہا تھا تو جن دوستوں نے میری کاوش کو سراہا اور کئی ملاقاتوں کے بعد خالصتاً عسکری موضوعات پر قلم اٹھانے کی زحمت گوارا کی ان میں جنرل امیر حمزہ خاں، ہلالِ جرات، ستارۂ جرات، بریگیڈیئر گلزار احمد، کرنل مختار احمد گیلانی، میجر سعید ٹوانہ ستارۂ جرات اور کرنل حامد شامل تھے۔ میری خصوصی درخواست پر ان حضرات نے جو مضامین تحریر کئے ان کا حجم زیادہ سے زیادہ پانچ چھ صفحات پر مشتمل تھا۔ ان دنوں اردو کمپیوٹر ہنوز مارکیٹ میں نہیں آئے تھے، اس لئے خطاط حضرات کا سہارا لینا پڑا، لیکن یہ کتابت کا مرحلہ تو آخری مرحلہ تھا، اس سے پہلے مسودے کو آئی جی ٹی اینڈ ای (IGT&E) سے منظور کروانا تھا۔ جب ان کو یہ مسودہ پیش کیا گیا تو انہوں نے Very Assuaring کے ریمارکس لکھ کر واپس کر دیا اور ساتھ ہی لکھا: Approved دوسرا بڑا مرحلہ ملٹری انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ سے اس کی Vetting اور کلیئرنس کا تھا،یعنی سارے مسودے کو انٹیلی جنس افسروں نے اس نگاہ سے دیکھنا تھا کہ اس میں کوئی مواد (دانستہ یا نادانستہ طور پر) ایسا تو نہیں شامل ہوا جو دشمن کے لئے کارآمد ہو اور انٹیلی جنس کے دوسرے بہت سے تقاضوں کو پورا نہ کر سکے، چنانچہ مَیں نے مسودے کی ایک نقل ملٹری انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ (M.I. DTE) کو بھیجی اور انتظار کرنے لگا۔ جب دو ہفتے تک وہاں سے کوئی جواب نہ آیا تو مَیں نے افسر متعلقہ (میجر صاحب) کو فون کیا۔ انہوں نے ’’ہوں ہاں‘‘ میں بات ٹال دی اور فرمایا کہ جلدی کیا ہے؟۔۔۔ مَیں نے کہا کہ وہی جلدی ہے جو ’’پاکستان آرمی جرنل (انگلش)‘‘ کے لئے ہوتی ہے۔ اس پر کافی لے دے ہوئی۔ الغرض جب ایم آئی نے مسودہ کلیئرکر دیا تو کتابت کا مشکل تر مرحلہ درپیش ہوا۔ اس کے بعد پروف ریڈنگ کی مشکلات مستزاد تھیں۔ میری کوشش تھی کہ اس میگزین میں کتابت کی کوئی ایسی غلطی نہ رہ جائے جس پربعدازاں باز پرس ہو سکے یا قاری انگلی اٹھا سکے کہ فلاں لفظ غلط چھپا ہوا ہے اور فلاں اصطلاح ٹھیک نہیں۔  راولپنڈی میں جی ایچ کیو کا اپنا ایک بڑا پرنٹنگ پریس ہے جس کو سنٹرل آرمی پریس کہا جاتا ہے۔ تمام عسکری مطبوعات وہاں برائے طباعت ارسال کی جاتی تھیں۔ وہاں بھی کچھ دن لگے اور ان لوگوں کو بھی جب تک پانچ سات بار یاد دہانی نہ کروائی گئی اور دو تین بار خود پریس کے کمانڈنگ آفیسر ( لیفٹیننٹ کرنل) کے ہاں حاضری نہ دی، میگزین طبع نہ ہو سکا۔۔۔یہ میگزین ساری فوج میں تقسیم کیا جانا تھا۔ ہر بڑی (Major) یونٹ میں اس کی ایک کاپی ارسال کی جانی تھی۔ اس طرح اس کی کل تعداد 2000سے زیادہ بن جاتی تھی۔ کور کمانڈروں اور ڈویژن کمانڈروں کو بطور خاص ایڈیٹر کی طرف سے With the compliments of کے الفاظ لکھ کر دو دو کاپیاں ارسال کی جاتی تھیں۔ جی ایچ کیو کے اندر ہی ایسی مطبوعات کی سرکولیشن کا ایک بڑا دفتر تھا۔ ان سب لوگوں سے دوستی گانٹھنی پڑی جو بعد ازاں میرے بڑے کام آئی۔ مَیں نے اندازہ لگایا کہ ایک میگزین مکمل کرنے کے لئے کم از کم اڑھائی تین ماہ کا عرصہ لگ جاتا ہے۔ اس دورانیہ میں مضامین لکھوانا، جنرل صاحب سے Approve کروانا، ملٹری انٹیلی جنس والوں سے اس کی کلیئرنس لینا، کتابت کروانا، پریس سے چھپوانا اور پھر اس کی تقسیم پر نگاہ رکھنے کے مراحل شامل تھے، چنانچہ مَیں نے جی کڑا کرکے اور رات دن ایک کرکے سب سے پہلے ایک نہیں دو شماروں کے مسودات تیار کئے۔ ایک کو ’’راہ‘‘ پر ڈالا اور دوسرے کو ’’انتظار‘‘ کی پائپ لائن میں ڈال دیا۔۔۔ اس طرح مجھے تیسرے مسودے کے لئے تیاری کے لئے کافی وقت مل گیا۔ یہی پریکٹس بارہ برس تک چلتی رہی اور میگزین کا حجم 70،80 صفحات سے بڑھ کر 150،200 صفحات تک پہنچ گیا۔ اس کوشش کو مزید قابلِ کشش بنانے کے لئے تصاویر، رنگین نقشہ جات، خاکوں اور جدولوں (Tables) کا اضافہ بھی کر دیا گیا۔۔۔یوں ایک دفعہ جب گاڑی چل نکلی تو میرا ذاتی شوق و ذوق بھی فزوں تر ہونے لگا۔ نئے نئے مضامین و موضوعات سوجھنے لگے۔ مَیں اپنے لکھنے والوں کو کسی مخصوص مضمون کا عنوان دے کر اس کے نمایاں پہلوؤں کو بھی ساتھ ہی باقاعدہ لکھ کر دینے لگا جس سے مضمون نگار حضرات کو موضوع زیر تحریر کو جامع بنانے میں آسانی ہوگئی۔ میرے سامنے امریکہ، کینیڈا، برطانیہ ، آسٹریلیا اور بھارت کے پروفیشنل میگزین پھیلے ہوتے تھے۔ جن میں کچھ ماہانہ تھے، کچھ سہ ماہی اور کچھ سالانہ۔۔۔ جی ایچ کیو کے ساتھ ہی (چار دیواری سے باہر) آرمی سنٹرل لائبریری تھی جو خاصی وسیع و عریض تھی۔ مَیں چھٹی کے وقت دفتر سے نکلتا اور گھر جانے سے پہلے ایک گھنٹہ وہاں چیف لائبریری آفیسر (فاروقی صاحب) سے گپ شپ لگاتا ،پھر مطالعہ کی ایک وسیع میز اور مختلف شیلفوں میں سجے ہوئے متذکرہ بالا ممالک کے پروفیشنل میگزین ایشو کراکے ساتھ گھر لے آتا۔ اس طرح میری راتیں مصروف رہنے لگیں۔ ’’انڈین ملٹری ریویو‘‘ بوجوہ میرا پسندیدہ میگزین ہوتا تھا۔ انڈین آرمی کے میجر جنرل افسر کریم اس کے ایڈیٹر تھے۔ اس میگزین میں مضامین کا تنوع میرے ذوقِ مطالعہ کو اس لئے مہمیز کرتا تھا کہ ان میں سے آدھے مضامین ’’متعلق بہ پاکستان ‘‘ ہوتے تھے اور سب کے سب اینٹی پاکستان ۔۔۔ میرا جی چاہتا کہ ان سب کا ترجمہ کرکے پاکستان آرمی جرنل (اردو) میں شائع کر دوں، لیکن یہ کام وقت طلب کام تھا اور میرے پاس وقت کم ہوتا تھا۔ مجھے یاد ہے ان تمام بارہ برسوں میں (1985ء تا 1996ء) میرا ایک ایک ہفتہ پہلے سے طے شدہ ڈیٹ لائن کے مطابق گزرتا رہا۔ اللہ کریم کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ان برسوں میں اگرچہ ذاتی طور پر کئی گرم و سرد ایام بھی آئے، لیکن الحمدللہ کبھی بھی ایسا نہ ہوا کہ یہ میگزین دیر سے شائع ہوا ہو۔ ان بارہ برسوں میں میرے اپنے ڈی جی اور آئی جی ٹی اینڈ ای بدلتے رہے، لیکن ماسوائے ایک آدھ سینئر کے مجھے تمام حضرات کی آشیرباد حاصل رہی۔ جب بھی رسالے کا مسودہ ان کے پاس جاتا تو ان پر جو ریمارکس لکھے ہوتے، وہ میری حوصلہ افزائی کرنے میں پیش پیش رہتے۔ کئی بار ایسا بھی ہوا کہ مجھے انگلش اور اردو دونوں رسالوں کی ادارت کے فرائض ادا کرنے پڑے، لیکن سچی بات یہ ہے کہ انگلش والے میگزین کو ہینڈل کرنے میں مجھے بہت آسانی رہتی۔ جب مطلوبہ تعداد سے زیادہ مضامین کسی ایڈیٹر کے پاس آ جائیں تو انتخاب کی آپشن آسان ہوتی ہے ،لیکن جب دس کی بجائے صرف 5،6 مضامین ہی اکٹھے ہو سکیں (اور وہ بھی بعد از کوششیں بسیار) تو دس میں سے باقی 4،5 مضامین کے لئے تگ و دو کرنا ایک الگ مسئلہ تھا جو اردو والے جرنل کی راہ میں ہمیشہ رکاوٹ بنتا اور مجھے اس رکاوٹ کو دور کرنے کے لئے خصوصی اور اضافی کوششیں اور کاوشیں کرنا پڑتیں۔ پاکستان آرمی کے مختلف شعبوں (آرمز اینڈ سروسز) میں معمول کا ارتقائی عمل جاری رہا۔ یہی حال دوسرے جدید ممالک کی افواج (Armies) کا بھی تھا۔ لکھاریوں کے لئے پروفیشنل چیلنج یہ تھا کہ بدلتے ہوئے حالات میں بدلتی ہوئی پیشرفتیں کہیں پیچھے نہ رہ جائیں۔ اس کے لئے نہ صرف اپنی پاک آرمی، بلکہ دنیا کے دوسرے جدید ممالک کی افواج (Armies) میں ہونے والی ان تبدیلیوں کا ادراک کرنا جو پاک آرمی پر بھی اثر اندازہوتی یا ہو سکتی تھیں، ایک بڑا چیلنج تھا۔ اس تناظر میں فارن پروفیشنل میگزینوں کو سرسری نظر سے دیکھنا بھی وقت اور محنت مانگتا تھا۔ پھر کئی مقامات ایسے بھی آتے کہ مجھے ان کی تفہیم کے لئے متعلقہ آرم (Arm) یا سروس کے افسروں سے رہنمائی لینا پڑتی۔ میرا اپنا تعلق اگرچہ ایجوکیشن کور سے تھا، لیکن مختلف شعبہ ہائے افواج میں سروس کرنے کی وجہ سے مجھے وہ مواقع میسر آتے رہے کہ مَیں انفنٹری، آرمر، آرٹلری، سگنلز اور انجینئرز کے Armsاور سپورٹنگ آرمز کے علاوہ سروسز کے چیدہ چیدہ موضوعات کو بھی سمجھنے کے قابل ہو گیا۔ جس پہلو یا جس نکتے کی سمجھ نہ آتی، مَیں فوراً متعلقہ ڈائریکٹوریٹ کے کسی شناسا یا غیر شناسا آفیسر کے دفتر میں جا گھستا اور اس سے معاونت اور امداد کی درخواست کرتا۔ میری خوش نصیبی تھی کہ یہ تمام دوست میری محنت کی قدر کرتے اور بڑی دلسوزی سے ان نکات کی تفاصیل بتاتے جو مَیں نہیں جانتا تھا۔ اس میگزین کے آخری صفحات میں ، مَیں نے ’’آپ کے خطوط‘‘ کے عنوان سے ایک سلسلہ ء خط و کتابت بھی شروع کر دیا، جس کا حجم بعض اوقات میگزین کے چوتھائی حجم سے بھی بڑھ جاتا تھا۔ قارئین نے اس کو بطور خاص پسند کیا۔ نیم لفٹین سے سینئر آفیسرز تک سب نے اس سیکشن میں اپنا حصہ ڈالا۔ مجھے فیڈبیک ملنے لگا کہ سب سے زیادہ پڑھا جانے والا حصہ (Segment)یہی ہے۔(جاری ہے)

مزید : کالم