غنویٰ بھٹو کا الزام، بے نظیربھٹو کا المیہ!

غنویٰ بھٹو کا الزام، بے نظیربھٹو کا المیہ!
 غنویٰ بھٹو کا الزام، بے نظیربھٹو کا المیہ!

  

بڑے لوگوں کی تو باتیں بھی بڑی ہوتی ہیں اور وہ جو چاہیں کہہ بھی سکتے ہیں، یہ حضرات خود ہی ایک دوسرے کے عیوب اوربرائیوں کا ذکر کرتے اور پھر جواب بھی لیتے ہیں، ان کی بیان بازی میں حقائق کیا اور کتنے ہوتے ہیں، یہ بھی انہی کے علم میں ہوتے ہیں۔عام آدمی تو ان کے کہے کو سچ ہی جانتا ہے ۔ اب یہی دیکھیں کہ دو روز قبل پیپلزپارٹی (شہید بھٹو) کی چیئرپرسن غنویٰ بھٹو کا تازہ ترین بیان نظر سے گزرا تو صدمہ ہوا، غنوٰی بھٹو کہتی ہیں، مرتضیٰ بھٹو کے خلاف آپریشن کا حکم خود محترمہ بے نظیر بھٹو(شہید) نے دیا اور مرتضیٰ کے قتل ہو جانے کے بعد روتی تھیں، یہ بیان حیران کن ہے کہ محترمہ کو اللہ کے حضور حاضر ہوئے سات سال سے زیادہ ہو گئے اور میر مرتضیٰ بھٹو کے قتل کو بھی تقریباً بیس برس ہو گئے ہیں اور غنویٰ بھٹو کو اب یہ خیال سوجھا ہے، اس سے قبل ہم نے ان کی زبانی محترمہ بے نظیر بھٹو کے خلاف یہ الزام نہیں سنا۔ البتہ یہ تاریخی حقیقت ہے کہ اس قتل کے کیس میں آصف علی زرداری کو ضرور ملوث کیا گیا اور سیشن عدالت میں چالان بھی بھیجا گیا، آصف علی زرداری اس کیس میں بری ہو چکے ہوئے ہیں۔ ہمیں غنویٰ بھٹو کے بیان پر حیرت اس لئے ہوئی کہ محترمہ بے نظیر بھٹو نے ایک بالکل آف دی ریکارڈ نجی محفل میں اپنے بھائیوں کے ساتھ تعلقات اور محبت کا بھی ذکر کیا اور یہ بھی بتایا کہ میر مرتضیٰ بھٹو سے ان کی صلح ہو چکی تھی اور وہ ان کو ملنے کے لئے اسلام آباد آ رہے تھے کہ ان کو پہلے ہی قتل کر دیا گیا، محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنی کتاب ڈاٹر آف ایسٹ (دختر مشرق) میں اپنے دونوں بھائیوں کے حوالے سے بہت کچھ لکھا ہے اور اپنے خاندانی پس منظر پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ ہم نے پہلے بھی دو چار مرتبہ محترمہ بے نظیر بھٹو سے ہونے والی گفتگو کا مختصر سا ذکر بھی کیا جو بالکل غیر رسمی آف دی ریکارڈ تھی، اس گفتگو کے دوران مرتضیٰ بھٹو کا ذکر آنے پر وہ آبدیدہ بھی ہوئیں اور روتی رہیں، اسی طرح غنویٰ بھٹو کے بیان کا یہ حصہ تو درست ہے کہ بے نظیر روتی تھیں لیکن ان معنوں میں نہیں جو مطلب غنویٰ بھٹو کا ہے۔ محترمہ نے تو بتایا تھا کہ بہن بھائیوں میں بہت پیار تھا، ان کا گھرانہ بہت خوش باش تھا جسے سیاست کی نظر لگی۔ محترمہ کے مطابق مرتضیٰ بھٹو کو ایسے حضرات نے ورغلایا جن کا تعلق ایجنسیوں سے تھا اور پھر وہ ٹھیک بھی ہو گئے تھے کہ ان کو اپنے گرد پھیلے جال کا علم ہو گیا تھا۔ بے نظیربھٹو نے تو یہ بھی بتایا کہ میر مرتضیٰ بھٹو نے لاڑکانہ والے گھر المرتضیٰ کے بارے میں خواہش کی تو ہم بہنوں (صنم بھی) نے فوراً رضامندی ظاہر کر دی اور میں (بے نظیر) نوڈیرو والی حویلی میں آ گئی جو بڑی ماں( امیر بیگم) کو ورثہ میں ملی اور انہوں نے (امیر بیگم) نے مجھے دے دی تھی۔ آج کل یہاں بے نظیر کے بچوں کی پھوپھو فریال تالپور ہوتی ہیں۔ جہاں تک غنویٰ بھٹو کا تعلق ہے تو ان کے قبضے میں اراضی اور المرتضیٰ لاڑکانہ کے علاوہ 70کلفٹن کراچی بھی ہے جو دراصل ایک نہیں دو جڑواں کوٹھیاں 70اور 71کلفٹن ہیں، البتہ شہرت 70کلفٹن سے ہے۔ جائیداد کی وراثتی تقسیم کا دعویٰ صنم بھٹو کی طرف سے سندھ ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے، جس کی سماعت نہیں ہو پا رہی۔ جہاں تک محترمہ بے نظیر بھٹو (شہید) کا تعلق ہے تو وہ اپنے بھائیوں اور ان کے بچوں کو یاد کرتی تھیں اور ان کی طرف سے کبھی بھی کسی پر ذاتی حملہ نہیں کیا گیا وہ غنویٰ بھٹو کے بارے میں بھی کچھ نہیں کہتی تھیں۔ غنویٰ کو بھی احتیاط کرنا چاہیے، لیکن انہوں نے ایک بہن کے خلاف بھائیوں کے قتل میں براہ راست ملوث ہونے کا الزام لگا دیا محترمہ اس دنیا میں نہیں ، اس کا جواب کون دے۔ پاکستان پیپلزپارٹی آج کل جن حالات سے گزر رہی ہے ان میں تو ایسے ہی الزامات پر مبنی بیانات آتے رہیں گے اور ان کا جواب بھی دینا ہوگا، بے نظیر بھٹو خود تو اس دنیا میں نہیں ان کی باتیں یاد رہ گئی ہیں، غنویٰ بھٹو نے جو الزام لگایا اس کے بارے میں محترمہ کی پارٹی والوں کو جواب دینا یا وضاحت کرنا چاہیے ۔ شاید یہ بیان ان کی نظر سے نہیں گزرا اگر ایسا ہے تو یہ اس سے بھی بری بات ہے کیونکہ کوئی بھی سیاسی جماعت ہو، اسے میڈیا میں صرف اپنے بارے ہی میں دیکھ کر خوش ہونے کی بجائے صحیح مطالعہ کرکے جواب دینا چاہیے، اس سلسلے میں وضاحت تو بلاول بھٹو زرداری کے پریس سیکرٹری بشیر ریاض زیادہ بہتر کر سکتے ہیں جو محترمہ کے ساتھ طویل مدت بطور پریس لیژان آفیسر منسلک رہے اگر ان جیالوں کی نظر سے یہ سطور گزریں تو پھر ان کو دیکھنا اور غور کرنا چاہیے کہ کس نے ان کی شہید رہنما کے بارے میں کیا کہا۔ غنویٰ بھٹو کا یہ بیان خالی از علت تو نہیں ہو سکتا ضرور کوئی پس منظر ہوگا کہ انہوں نے محترمہ کو مرتضیٰ کے قتل کا ذمہ دار قرار دے دیا اور شاید یہ ان خبروں کا نتیجہ ہو جن کے مطابق کزن آپس میں تعلقات استوار کرنا چاہتے ہیں اور صنم بھٹو نے کچھ کردار بھی ادا کیا ہے کہ لندن میں ان کے گھر پر چند ملاقاتیں بھی ہو چکی ہوئی ہیں، یوں بھی جیالے صلح کے حق میں ہیں، لیکن بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا والا مسئلہ ہے۔

مزید : کالم